میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ, اپریل 12, 2017

بائبل کس قسم کی کتاب ہے؟

بائبل کس قسم کی کتاب ہے؟
کب لکھی گئ؟

خدا نے 40 افراد کو استمعال کیا بائبل لکھنے کے لیے۔ ان میں نبی، یسوع کے شاگرد اور رسول شامل ہیں۔ اور ان سب نے خدا کی مدد سے، جو کچھ خدا نے سکھایا اسے قلمبند کیا، اپنے الفاظ اور زبان میں۔ بائبل میں ہمیں تاریخ، جغرافیہ، سائنس، مذہب سب نظر آتا ہے۔ بائبل کو لکھنے کے لیے عبرانی، یونانی ، ارامی زبانوں کا استعمال ہوا۔

بائبل تقریبن 1600 سال میں لکھی گئ۔ پرانے عہد نامے اور نئے عہد نامے کے درمیان 500 سال کا وقفہ پایا جاتا ہے۔

پرانہ عہد نامہ (Old Testament) جس میں تورات اور نبیوں کی کتابیں شامل ہیں، یہودیوں کے پاس اسی شکل میں ہمیشہ سے محفوظ تھا۔ نسل در نسل وہ اسے کاپی کرتے ،صحیفہ بناتے, کیونکہ یہ عمل، ہر صحفہ پر موجود الفاظ گن کر کیا جاتا تھا اس لیے غلطی کی گنجائشن نہ ہونے کے برابر تھی۔

نیا عہد نامہ (New Testament)  مسیح کی پیدائش، تعلیمات ، رسولوں کا مشن اور مکاشفہ پر مشتمل ہے۔ نیا عہد نامہ پہلی صدی میں لکھا گیا۔ جو کچھ شاگردوں اور رسولوں نے دیکھا اور مسیح سے سنا، اسے قلمبند کیا۔ اپنی زبان اور فوکس کے مطابق۔
رسولوں کے خطوط اور اناجیل پہلی مسیحیی کلیسیا کے پاس محفوط تھے۔ اور نسل در نسل منتقل ہوے۔
لوقا تاریخ دان اور طبیب ہے اور انجیل زیادہ تفصیل سے لکھتا ہے۔
یوحنا مسیح کے خدا ہونے اور زمین پر آنے کے مقصد کو بیان کرتا ہے۔
متی کا فوکس یہودی ہیں جو مسیح کے منتظر تھے۔
اور مرقس کی انجیل تفصیل میں نہی بلکہ صرف ایک outline دیتی ہے۔

بائبل صرف ڈکٹییشن نہی ہے اور نہ ہی اسکو صرف ڈکٹیشن سمجھا جاتا ہے۔ اس میں خدا کے الفاظ بھی شامل ہیں اور لکھنے والے کا اپنا knowledge بھی۔ جیسے کے جغرافیہ اور تاریخی حقائق۔ اس زمانے کی روایات اور رہن سہن کی جھلک بھی۔ کیونکہ یہ لکھنے والے کے اپنے الفاظ اور سٹائل میں لکھی گئ ہے۔

جس طرح اسلام میں قران، حدیث، سنت ۔۔ تین کتابیں پائ جاتی ہیں رہنمای کے لیے۔ مسیحیت میں یہ سب ایک ہی کتاب میں اکھٹی شامل ہیں۔

جو کتابیں بائبل کا حصہ ہیں وہ ہمیشہ سے ہی یہودیوں اور مسیحیوں کے پاس خدا کے کلام کے طور پر موجود تھیں۔
بائبل کا ترجمہ پہلی بار لاطینی میں کیا گیا۔ اس سے پہلے یہ صرف یونانی اور عبرانی میں ہی پڑھی جاتی تھی۔ لاطینی کے بعد اس کا انگریزی ترجمہ آیا ۔۔ اور اس کے بعد باقی زبانوں میں۔

اب یہ دعوی کے بائبل بدل چکی ہے۔۔ کہاں تک درست ہے؟

اگر بائبل کو یہودیوں نے بدلا تو یہودیوں کو جن آیات میں برا بھلا کہا گیا ہے وہ آیات بائبل کا حصہ نہ ہوتیں۔
اگر بائبل کو مسیحییوں نے بدلا تو وہ آسانی سے یسوع سے یہ کہلوا سکتے تھے کہ 'میں خدا ہوں' ۔

بائبل میں انسانوں کے گناہوں کو چھپایا نہیں گیا۔۔ اور نہ لکھنے والے کا کوی ذاتی مفاد نظر آتا ہے۔
بائبل تاریخی اعتبار سے ثابت شدہ ہے۔

40 افراد کا الگ الگ وقت میں ایک ہی بات کو پیش کرنا بائبل کی روحانی بنیاد کا ثبوت ہے۔

تمام قدیم اور الہامی سمجھی جانے والی کتابوں میں، بائبل واحد کتاب ہے جو سب سے زیادہ تاریخی حقائق سے قریب اور سائنسی لحاظ سے ثابت شدہ ہے۔
بائبل کے جن حصوں پر شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں ان کی تفصیل بہت سے انگریزی ایڈیشنز میں شامل ہے اور کوئی بھی اس کے بارے میں تفصیل سے پڑھ سکتا ہے۔

بائبل کے مختلف versions کیا ہیں اورکیوں پائے جاتے ہیں؟
بائبل کے مختلف versions مختلف ڈیزائن ہیں اور مختلف زبانیں ہیں۔ باقی دوسری الہامی مانی جانے والی کتابوں کی طرح کچھ version صیح سمجھے جاتے ہیں اور کچھ نہیں۔
مختلف فرقوں کے ہونے کے باوجود خدا کا اپنے کلام کو زندہ رکھنا اسکی قدرت ہے اور
بائبل کا کسی سازش کے تحت بدلے جانے کا دعوی ایک سفید جھوٹ ہے۔

تحریر.
Stephen Samuel


*********************************************************
نوٹ: پرانا عہدنامہ ۔ 39 کتابوں پر مشتمل ہے اور نیا عہدنامہ 27 کتابوں پر مشتمل ہے ، جو مختلف راویان کے بیانات ہیں ۔ جنھیں سینٹ یا پیغامبر کہا جاتا ہے ۔
اگر یہ کہنا کہ
" 40 افراد کا الگ الگ وقت میں ایک ہی بات کو پیش کرنا بائبل کی روحانی بنیاد کا ثبوت ہے۔"


تو الکتاب کے لاکھوں حفاظ ہیں جو الگ وقت میں اللہ کا ایک ہی کلام مختلف براعظموں پر پیش کرتے ہیں ۔

جس طرح اسلام میں قران، حدیث، سنت ۔۔ تین کتابیں پائ جاتی ہیں رہنمای کے لیے۔

محرّر ، کی کم علمی ہے کہ وہ حدیث اور سنت کو ، القرآن کے ساتھ دو کتابیں مانتا ہے ، جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ اِس کی بنیادی وجہ وہ ایرانی(خطہءِ عجم کی)  تاویلات ہیں ، جو اُنہوں نے اپنے فہم کے مطابق ، عجمیوں کو ہدایت دینے کی کوشش میں لکھ کر اُنہیں
حدیث اور سنت کا نام ے دیا ۔
جبکہ انسانی ہدایت کے لئے واحد زبانی ھدایت جو رسول اللہ پر وحی کی صورت میں نازل ہوئی

قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً قُلِ اللّهُ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللّهِ آلِهَةً أُخْرَى قُل لاَّ أَشْهَدُ قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَـهٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ [6:19]


کہہ ، کون سی شئے شَهَادَةً میں اکبر ھے ؟
کہہ اللہ میرے اور تمھارے درمیان
شَهِيدٌ ھے ِ
اور میری طرف یہ
الْقُرْآنُ وحی ھوا ھے تاکہ تمھیں جو کچھ  (تمھارے آباء کی طرف سے )  بَلَغَ ھوا ھے اس (الْقُرْآنُ) کے ذریعے نذیر کروں ۔
کیا تم شھادت دیتے ھو کہ اللہ کے ساتھ کوئی آلِهَةً أُخْرَى ھے ؟ 
کہہ بے شک وہ “
إِلَـهٌ وَاحِدٌ “ ھے ،
اور بےشک میں شرک سے بریء ھوتا ھوں جو تم (اپنے آباء کی اُمّت پر چلتے ھوئے ) کرتے ھو  -
کیا تم شھادت دیتے ھو کہ اللہ کے ساتھ کوئی
آلِهَةً أُخْرَى ھے ؟ (جو قرآنی تعلیمات دے سکتا ہے )اور بےشک میں شرک سے
بَرِي ھوتا ھوں جو تم (آباء کے اقوال کو قرآنی تعلیم سمجھ کر ) کرتے ھو -

 اور اُنہوںﷺ نے اِس، پر سب سے پہلے عمل کر کے  اول مسلمان بنے۔
وَأُمِرْتُ لِأَنْ أَكُونَ أَوَّلَ الْمُسْلِمِينَ [39:12]
  اور مجھے حکم ہوا ہے یہ کہ میں پہلے خود مسلمان بنوں!
اور پھر انسانوں کو، القرآن کی قرءت کی صورت میں الحدیث کیا،

فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَى آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا [18:6]
پس کیا تو اپنے نفس کو اُن کےآثار(کہ اللہ نے اپنے لئے بیٹا بنا لیا ہے [18:4] )  پر بَاخِعٌ (بخع) کرے گا اگر وہ اِس الْحَدِيثِ أَسَفًا پر ایمان نہیں لائیں گے ؟

جسے تحریر میں الکتاب کہا جاتا ہے۔

وَمَا كَانَ هَـذَا الْقُرْآنُ أَن يُفْتَرَى مِن دُونِ اللّهِ وَلَـكِن تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ الْكِتَابِ لاَ رَيْبَ فِيهِ مِن رَّبِّ الْعَالَمِينَ [10:37]

  یہ الْقُرْآنُ ایسا نہیں ہے کہ مِن دُونِ اللّهِ اِس میں افترا کیا جاتا رہے ۔ یہ ہاتھوں کے درمیان، اُس (اللہ ) کی  تَصْدِيقَ ہے اور اِس میں کوئی تردد نہیں کہ رَبِّ الْعَالَمِين کی طرف سے الْكِتَاب کی تَفْصِيل ہے

ہر حافظ ، مکمل اعراب و سکوت کے ساتھ ، الکتاب کی قرءت کی
تَصْدِيقَ اُس وقت سے کر رہا ہے، جب سے اُس نے القرآن ، حافظوں سے حفظ کیا ۔

فَإِن كُنتَ فِي شَكٍّ مِّمَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَؤُونَ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكَ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلاَ تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ [10:94]

 

اگر تجھے اس میں شَكٍّ ہے جو ہم نے  تیری طرف نازل کیا ہے تو (اس کے الْحَقُّ ہونے کے بارے میں ) اُن لوگوں سے سوال کر! جو تجھ سے پہلے الْكِتَاب کی قرءت کرتے  رہتے ہیں۔ بیشک تیری طرف تیرے رب کی جانب سے الْحَقُّ آگیا ہے، سو تُو الْمُمْتَرِينَ (احساسِ کمتری ) میں سے ہرگز نہ ہوجانا۔

مسلمانوں کو جب کتابت کی سہولت میسر آئیں تو اُنہوں نے اِسے القرآن کا نام دے کر غلط العام کر دیا ۔ 


 "
اس میں خدا کے الفاظ بھی شامل ہیں اور لکھنے والے کا اپنا knowledge بھی۔ "

یہی ترتیب دیگر انسانی اسلامی کُتب کی ہے ۔ جس کے باعث وہ اللہ کی کتاب نہیں مانی جاسکتی ،

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔