میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 22 اپریل، 2017

محمد شریف ، پانامہ اور ابوالکذاب عمران احمد خان نیازی

جب پانامہ کیس کی بہتان اور الزام تراشی کی گرد اُٹھنی شروع ہوئی تھی - تو شروع ہی میں معلوم ہو گیا تھا - کہ،
ابوالکذاب عمران احمد خان نیازی ، مسلمان ہوتے ہوئے زنا کا شوقین ، ایک ناجائز بچی کا باپ ، پہلی آف شور کمپنی کا خالق اور پاکستان و دنیا کے ممالک سے بھیک ، زکات ، خیرات و ڈونیشن حاصل کر کے اپنی جائداد بنانے والا اور اُسے شوکت خانم ٹرسٹ بنا کر ہمیشہ کے لئے ، ٹیکس ، کورٹ اور عوام سے محفوظ کرنے والا۔ 
کرپشن پر نکالے جانے والے باپ کے بیٹے کی پوری کوشش ہے کہ چور دروازے سے وزارتِ عظمیٰ کی کرسی تک پہنچا جائے۔چاہے اُس کے لئے وہ مارشل لاء کی غلیظ رسی ہی کیوں نہ استعمال کرے ۔
میں نے مارشل لاء کو غلیظ رسی اِس لئے کہا ، کہ ہمارے لڑکپن میں 22 خاندان بہت مشہور تھے ، جنہیں پاکستان کے عوام پاکستان کے لئے آکاس بیل سمجھتے تھے ، جو پاکستان کے ہرے بھرے درخت کا لہو چوس رہی ہے ۔ لیکن پھر اِن 22 خاندانوں میں مارشل لاء کے خالقوں کی اولاد شامل ہونے لگی ، ایوب خان ، یحییٰ خان ، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کے ارد گرد جرنیلوں کی اولاد، سب کھربوں نہیں تو اربوں کی جائداد کے مالک ہیں ،

پاکستان کے کسی بچے کو نہیں معلوم کہ،
اُس کا باپ کہاں سے کما کر اُسے پال رہا ہے؟
وہ ٹیکس دیتا ہے یا نہیں ؟
اُس کی ماں یا باپ نے کتنی جائداد بنائی ہے؟
کس کس نے اُسے کتنا لوٹا ہے ؟
اور اُس نے کس کس کا پیسہ دبایا ہے ؟



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔