میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 17 اپریل، 2017

خیبر پختون خواہ کا واحد مرد!

آس کی ماں اپنے بیٹے کی کچلی ہوئی انگلیاں اپنے گالوں اور آنکھوں پر لگاتی اور روتی ، کیوں کہ مُلا نے فتویٰ دے دیا تھا ، کہ مشعل کی نمازِ جنازہ جائز نہیں ۔
ماں کے دل پر کیا گذر رہی تھی سب سن رہے تھے ، گاؤں میں سسکیوں کی آواز سنائی دے رہی تھی لیکن ، گاؤں والے چُپ تھے ۔

گستاخیءِ رسول

پھر ایک چنگھاڑ گونجی ،
مشعل معصوم ہے اور شہید ہے ، میں دیکھتا ہوں کہ شہید کا نمازِ جنازہ کیسے نہیں پڑھایا جاتا ؟

اِس گونج نے گاؤں والوں کے سوئے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ، اُنہوں نے اپنی گردنیں جھکا لیں ، اور وہ ایک عذم سے کھڑے ہوئے پھر چشمِ فلک نے شہید کی نمازِ جنازہ کا منظر دیکھا ،
گاؤں والوں کے ضمیر کو جگانے والی ، خیبر پختون خواہ کے واحد مرد کی یہ آواز، صوابی کے شیریں جان یوسف زئی کی تھی ۔ جو اپنے گاؤں سے مشعل کے گاؤں اپنی بندوق کے ساتھ پہنچا۔
یہ اُن بزدل سیاست دانوں سے بہتر عام آدمی ہے ، جس کی قوت کا اندازہ ، کوئی عام آدمی ہی کر سکتا ہے ۔




خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔