میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 28 اپریل، 2017

ملائی افسانے :گولی شیعہ تھی یا سنّی ؟

گاؤں سے مغرب کی طرف باہر نکلتے ہی ایک چھوٹی سی پگڈنڈی حاجیوں کے امرودوں کے باغ سے نکلتی ہوئی مَلکوں کے ڈیرے سے ذرا آگے قبرستان تک جانے کا مختصر ترین راستہ ہے، ورنہ ایک ہموارپختہ سڑک بھی قبرستان تک جاتی ہے۔ گاؤں کے تمام جنازے اسی بڑی سڑک سے قبرستان تک جاتے ہیں۔ دن بھر قبرستان میں میلے کا ساسماں ہوتا ہے، بچے، جوان حاجیوں کے باغ والے راستے سے آتے اور گلی ڈنڈا، کرکٹ، گھیر گھمٹ وغیرہ کھیلتے ، ملکوں کے بیر کھاتے، پیلوں چنتے اور چلے جاتے۔ کبھی کبھار گاوں کی عورتیں بھی جھاڑو چننے اور وہیں کے درختوں سے پھل توڑنے آتی تھیں۔

بابا بخت جمال کے مزار پر تو صبح سے شام تک خوب چہل پہل رہتی، کئی جوڑے پسند کی شادی کے لئے مزار کے ساتھ اُگے برگد کے پیڑ کے دوشاخوں کو ست رنگی دھاگوں سے باندھ کر جوڑ دیتے، بے اولاد سرہانیاں ٹانکتے اور مائیں اپنے بیٹوں کو بیویوں کے چنگل سے بچانے اور بیویاں شوہروں کو ان کی ماوں کے دامن سے علیحدہ کرنے کے لئے چاولوں سے بھری تھیلیاں ٹانگتیں۔ روزانہ مزار پر چاولوں کی دیگیں چڑھتیں اور آس پاس کے دیہاتی تبرک لینے مزار پر حاضری دیتے۔
دن بھر بابا جی کے مزار پر تانتا بندھا رہتا لیکن شام کے سائے جب درختوں کو اپنی آغوش میں لے لیتے تو ہر طرف ہو کا عالم چھا جاتااور پورے قبرستان میں بابا جی کے مزار کے مجاور سائیں فتو کے علاوہ صرف مردے ہی رہ جاتے۔

سائیں فتو جب عشاء کے بعد گاؤں سے لوٹتا تو اپنی جھگی میں چمٹا بجاتا، گاوں والے کہتے تھے کہ رات بابا جی کے مزار پر بھوت پریت آتے ہیں۔دیکھا تو کسی نے نہیں تھا پر گاؤں کے سبھی باسیوں نے کبھی نہ کبھی فتو سے پوچھا ضرور تھا "سائیں بابا کے مزار پر رات کو بھوت پریت آتے ہیں نا؟؟"
سائیں ہر بار چمٹے کے کڑے کو دو تین بار چمٹے پے مار کر حق بابا بخت جمال کا نعرہ بلند کرتا اور کہتا،
"باباجانے کون آتا ہے، کون جاتا ہے فتو مسکین تو کچھ نہ جانے۔"

جب کوئی بچہ پوچھتا کہ ،
"سائیں تو نے بھوت کو دیکھا ہے؟" تو وہ ہنس کے کہتا،"میں نے تو کبھی خود کو نہیں دیکھا۔"

سائیں ایسا ہی تھا، عجیب و غریب باتیں کرتا رہتا تھا، ہمیشہ اپنی ہی دنیا میں مست ۔ اس کا ہر جواب ایک رمز تھا، گہری اور اندھی رمز۔ ایک روز مولوی امام دین نے پوچھا ،
"سائیں کلمے آتے ہیں؟"
کہنے لگا،"پانچ آتے ہیں۔"
مولوی نے پوچھا،" چھٹا کیوں یاد نہیں کرتا،"
"چھٹا یاد کر لیا تو ہمیں سائیں کون کہے گا۔" آہستہ سے جواب دیتا۔

مولوی امادین سمیت کوئی یہ نہیں جانتا کہ سائیں چھ کلمے یاد کرنے کے بعد سائیں کیوں نہیں رہے گا۔مائیں اپنے بچوں کو سائیں کو ستانے سے روکتیں، لیکن نہ بچے ستانے سے باز آتے اور نہ سائیں بچوں سے تنگ پڑتا۔ سائیں فتو روزانہ بچوں میں کوہ قاف کی پریوں کی نیاز والی ریوڑیاں بانٹتا، انہیں کندھوں پر پھراتا، بیر، جامن اور آم توڑ توڑ کر دیتا۔ گاؤں کا ہر گھرسائیں کا تھااور ہر بچہ جیسے اس کا اپنا ہو۔یہی سائیں کی دنیا تھی اور یہی اس کا مشغلہ۔

ابھی گاؤں میں سعودیہ کا پیسہ اور لمبی چھوٹی داڑھیوں کی بحث نہیں پہنچی تھی۔ ابھی ہاتھ چھوڑنے اور باندھنے پر نماز ہونے نہ ہونے کے مناظرے شروع نہیں ہوئے تھے۔
خدا بھی ابھی ایک مسجد میں ایک ہی امام کے پیچھے سب کی نماز قبول کر رہا تھا۔
دوبرس قبل ملک مختیار کا لڑکا کالج سے لوٹا تو اس نے گاؤں کے طور طریق پر اعتراض کرنا شروع کردیا۔
اِسے پہلی بار پتہ چلا تھا کہ اب تک گاؤں میں جتنی نمازیں پڑھی گئی تھیں وہ یا تو مکروہ تھیں یا قبول ہی نہیں ہوئی تھیں۔

پہلے پہل جھگڑا دو جماعتوں، دو اذانوں تک ہی رہا اور پھر بات دوسری مسجد تک جاپہنچی۔ نور محمد کے کھیتوں کا گیہوں بھی تقسیم ہو کر آدھے گاوں میں پہنچااور حاجیوں کے امرود آدھے بچوں پر حرام ہو گئےلیکن سائیں سبھی کے بچوں میں ریوڑیاں تقسیم کرتا رہا۔
لوگ نہیں جانتے تھے کہ،
مولوی امام دین کی مسجد کا خدا سچا ہے یا تراب شاہ کی مسجد کا؟
کلمہ کون ساٹھیک ہے؟
اور اذان کس کی صحیح ہے یہ کوئی بھی بتا نہیں سکا؟

اور پھر پچھلےبرس تراب شاہ کی محرم کی مجلس پر گولی چلی، اور ملک مختیار کو کسی نے مارڈالا؟
کوئی نہیں جانتا کس نے کس کو مارنے میں پہل کی اور کون قصوروار تھا۔؟
پولیس آئی اور تراب شاہ اور ملک مختیار کے بیٹے کے درمیان صلح ہوئی لیکن خاموش زیادہ عرصہ قائم نہیں رہی۔
محرم پھر آیا اور اس بار پولیس کی نفری بھی پہلے سے زیادہ تھی۔
دس محرم کی رات فتو بابا بخت جہاں کے مزار پر اپنی دنیا میں مگن تھاکہ رات کے سناٹے کا طلسم ہوش ربا، بندوق کی تڑ تڑ کی آواز سے پاش پاش ہوگیا، سائیں ایک دم سے کھڑا ہوا۔ گاؤں کی جانب سے عورتوں کے چیخنے اور گولیوں کی آوازیں آنے لگیں۔
سائیں نے باباکی ڈھیری کی پائینتی کو زور سے دبوچااور کہا ،
" بابا آج خیر کریں"
اور بابا کا جواب سنے بغیر ہی گاؤں کی طرف دوڑ لگا دی۔

مزید معلومات کے لئے پڑھیں :شیطان نامہ - تحقیق کرو یا برداشت کرو

دسمبر کی سخت سردی میں جب فضا ٹھٹھر رہی تھی، سائیں ننگے پاؤں حاجیوں کے باغ سے ہوتا ہوا گاؤں کے جوہڑ میں کھڑے پانی کو چیر کر شور کی سمت بڑھنے لگا۔ گاؤں میں ہر طرف جانے پہچانے چہرے سہمے سہمے پھر رہے تھے، ایک ایسی شام غریباں برپا تھی جس میں سبھی کے خیمے لُٹ رہے تھے۔

رات کے مہیب اندھیروں میں گولیاں دونوں جانب سے چل رہی تھیں،

ابن زیاد اور ابن علی رضی اللہ تعالی عنہ کے لشکروں کی تفریق مٹ چکی تھی۔
دونوں طرف شمر تھے جوکسی نہ کسی مظلوم کے لہو سے ہاتھ رنگے ہوئے تھا،
ہر لٹی ہوئی بین کرتی عورت سکینہ تھی،
ہر ننگا سر زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تھا۔
سبھی بچے علی اصغر لگ رہے تھےاور سبھی خانوادے پیاسے تھے۔
لوٹنے والے تمام لشکر نیزوں پر سر اٹھائے ہوئے تھے جن پر جھولتے چہروں کی پہچان مٹ چکی تھی۔ ایک گولی سائیں فتو کا سینہ چیرتی ہوئی بھی گزری اور آخر تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ
یہ گولی شیعہ تھی یا سُنی۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔