میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 28 اپریل، 2017

راہ سے بھٹکا ہوا انسان راہِ راست پہ آگیا!

مبارک ہو پاکستانیو!
ایک راہ سے بھٹکا ہوا انسان راہِ راست پہ آگیا ۔ معافی بھی مانگ لی ، اعترافی بیان بھی جاری کردیا ؛ اب تو معاف کردو بیچارے کو ، کہ معافی مانگنے والے کو معاف کرنا تو ہمارے مذہب کی تعلیمات ہیں ۔

 !!
مگر ہمارے لوگ ہیں کہ ایک طوفان اٹھایا ہوا ہے ، اعتراض پہ اعتراض ، نکتہ چینی پہ نکتہ چینی ،
ارے بھئی ! کیا ہوا جو وہ ماضی میں ایک وحشی ، درندہ صفت تنظیم سے منسلک رہا ؟؟
ہر وحشیانہ کارروائی کے بعد ٹی ٹی پی کے ترجمان کی حیثیت سے دھڑلے سے ذمہ داری قبول کرتا تھا ، تاویلیں دیتا تھا ، ریاستی رٹ کو چیلنج کرتا تھا ، آئندہ کا اعادہ کرتا تھا ۔ ۔ ۔۔ اب تو اس نے توبہ کرلی نا
 
تو بھول جاؤ اسکے پچھلے گناہوں کو ، کیا پھانسی دیدو ، پھانسی دیدو کی رٹ لگائی ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ ۔
خدانخواستہ ، خدانخواستہ اس نے پاکستان مردہ باد کا نعرہ تھوڑی نہ لگایا تھا ۔ خالی خولی نعرے لگانے والوں کو تو کسی صورت معافی نہیں ملنی چاہیئے ۔
ہم ایک باعمل قوم ہیں ، عمل پہ یقین رکھتے ہیں ، یہ کیا کہ بیٹھے بٹھائے ایک نعرہ لگادیا اور بعد میں معافی کے طلبگار ہوگئے ۔
نو ، نیور یہ جرم ناقابلِ معافی ہے ۔ اس معاملے میں ریاست ہو یا عوام ، ایک پیج پہ ہیں ۔
بلکہ ایسا کریں کہ اس احسان اللہ احسان سے ایک بیان الطاف حسین سے 'را' کے روابط پہ بھی دلوا ڈالیں ، پھر دیکھئے گا چمتکار ؛ ساری قوم آپ کے ساتھ کیسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑی ہوتی ہے ۔ یہ جو چند سرپھرے ابھی اعتراض اٹھا رہے ہیں نا ان کی بھی آوازیں بند ہوجانی ہیں ۔ ۔ ۔ پاکستان زندہ باد پہ نو کمپرومائز!
ویسے بھی ہماری ریاست ہو یا قوم ، ان کی یادداشت تھوڑی کمزور ہے ؛ ان تمام گناہگاروں کے گناہوں کو تو شائد بھول جائے لیکن مردہ باد کے نعرے کو (صرف الطاف حسین کے ، یہ بحث جانے دیں کہ وہ نعرہ کن عوامل کا ردعمل تھا ) کبھی نہیں بھلا سکے گی۔ ۔ ۔ !
اور یہ جو ، بقول ہمارے "نمبرون ادارے" کے چند گنے چنے دہشتگرد رہ گئے ہیں انکو بھی ہمارا مخلصانہ مشورہ یہی ہے کہ تازہ تازہ مسلمان ہوئے، احسان اللہ احسان کے ساتھ ریاستی اداروں کے احسان اور حسنِ سلوک کو دیکھتے ہوئے اپنی ضد چھوڑیں اور ریاستی چھتری تلے پناہ لے لیں ۔ ۔
کیا فائدہ ایسی زندگی کا جس میں ہر آن کتے کی طرح مارے جانے کا خدشہ ہو ؟؟
کیا ہوا جو آپ نے ہزاروں بیگناہ شہریوں کی جانیں لیں ، کوئی بڑی بات نہیں ۔ ۔
کیا ہوا جو سینکڑوں معصوم بچوں کا بہیمانہ قتل کیا ، کوئی قیامت تو نہیں آگئی نا ۔ ۔ ۔
کیا ہوا جو غریب سپاہیوں کے سروں سے فٹبال کھیلی ؟

ارے بھئی ریلیکس ہونے کیلئے کھیل کود بھی بہت ضروری ہے ۔ اور ویسے بھی بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ ایک صحتمند دماغ کیلئے صحتمند جسم ضروری ہے ۔ اب صحتمند جسم کیلئے ایسی "فزیکل ایکٹیویٹز" بھی ضروری تھیں نا

ورنہ پھر اگلی کسی وحشیانہ کارروائی کی منصوبہ بندی کیسے کرتے ؟؟
یہ تو ہمارے لوگ بھی نا بس زیبِ داستاں کیلئے کچھ زیادہ ہی بڑھا چڑھا دیتے ہیں۔ ۔ ۔ !
تو یہ اگر مگر چھوڑیں ، ہر قسم کا ڈر اور خوف اپنے دل و دماغ سے نکالیں اور یہ جو ریاست نے سکہ بند دہشتگردوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی نئی آفر متعارف کروائی ہے، اس سے فائدہ اٹھائیں اور ریاست کے حفاظتی حصار میں سرکاری مہمان نوازی کا لطف اٹھائیں ۔
یہ تو بس بلوچوں اور مہاجروں نے خواہ مخواہ کا پروپیگنڈا کررکھا ہے ان کے متعلق ، انہیں شوق ہے مظلوم بننے کا۔

اپنوں کے ساتھ تو یہ بڑے مہمان نواز ، بڑے مہربان ہیں ۔
نا صرف فل ریاستی پروٹوکول ملے گا بلکہ مختلف ٹی وی چینلز پہ آب و تاب کے ساتھ "مستند" صحافیوں کے ساتھ آپ کے انٹرویوز بھی کروائےجائیں گے ۔ آپ کے کردار پہ لگی ماضی کی تمام کالک دھل جائے گی،
ایسے ایسے شخصیت کے پہلو سامنے آئیں گے کہ آپ بھی دانتوں تلے انگلیاں دبا لیں گے ؛ ریاست نے چاہا تو ! ! !

بس آزمائش شرط ہے ۔ ۔ ۔ ۔
بس ریاست سے صرف ایک التجا ہے ۔ اِن جانے مانے دہشتگردوں کو معافی دینے سے پہلے ان ہزاروں معصوم شہریوں کو تو چھوڑیں ۔ ۔ ۔
بس صرف آرمی پبلک اسکول کے اس سانحے میں (جس نے پوری قوم کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا تھا ؛ وقتی طور پر ہی سہی) شہید ہونے والے معصوم بچوں کے والدین سے ایک بار صرف ایک بار پوچھ لیا جائے !

کہ آیا اِن کے اندر اتنی ہمت، اتنا ظرف ہے کہ اپنے پھول سے بچوں کو اتنی بے رحمی و شقاوت سے قتل کرنے والے ان قصائیوں کو معاف کرسکیں ۔ ۔ ۔ ۔

(تابندہ ندرت)

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔