میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 7 اپریل، 2017

نگران فرشتہ!

ایک ادھیڑ عمر آدمی گلی میں جا رہا تھا کہ اچانک آواز آئی،
"خبردار! یہیں رک جاؤ۔"
آدمی یک دم ٹھٹک کر رُکا ۔ کہ سامنے دو فٹ کی دوری پر ایک اینٹ دھڑام سے آکر گری۔
آدمی نے حیرانی سے اوپر دیکھا مگر کوئی نظر نہیں آیا ، شائد اینٹ گرانے والے کی آواز ہو گی۔ وہ یہ سوچتا ہوا آگے بڑھا ۔
کچھ دن بعد وہ سڑک پار کرنے لگا تھا کہ پھر وہی آواز آئی: 
"خبردار! یہیں رک جاؤ۔"
وہ رک گیا اور زُووں سے ایک گاڑی اسے تقریباً چھوتی ہوئی ، ایک انچ آگےسے گزر گئی۔
آدمی کو پچھلا واقعہ یاد آگیا۔ اس نے چلا کر پوچھا،
"کون ہو تم؟"
غیب سے آواز آئی-
"تمہارا نگران فرشتہ۔"
 
 آدمی کی آنکھوں میں آنسو آگئے ! اور وہ سکتہ میں آگیا ۔
جب دو تین منٹ بعد وہ سکتہ کی کیفیت سے نکلا تو ڈبڈبائی آواز میں بولا ۔
،
،
،
،
،
،
،
"حضرت آپ میرے نکاح کے وقت کہاں چھپ گئے تھے؟"

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔