میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 26 اپریل، 2017

کیا منکرینِ حدیث ، مسلمانوں کی راہنمائی کر سکتے ہیں ؟



256 ھجری سے پہلے ، امام احمد بن حنبل  کو 28،199 قول منسوب الی لارسول  جنھیں احادیث کے نام سے انسانوں  کے مطالعے اور عمل کے لئے    اپنی مسند  میں لکھا-
اگر ہم 179 ہجری تک دیکھیں تو ہمیں صرف ایک مؤلف احادیث نظر آتے ہیں ، یعنی امام مالک ، جنہوں نے مدینہ میں رہ کر ، امام جعفر صادق کی شاگردی اختیار کی اور اپنی صحیح میں صرف 2400  روایات ، قول منسوب الی الرسول و صحابہ  یا احادیث  لکھیں ۔   لیکن   241  ہجری  میں امام حنبل نے اپنی مسند میں 28،199 روایات      ، قول منسوب الی الرسول و صحابہ  یا احادیث  لکھیں ۔ گویا 65 سال کے عرصہ میں مدینہ سے  نکل کر کوفہ سے گذرنے کر بغداد پہنچنے  کے بعد احادیث کی تعداد میں  25,799 کا اضافہ ہو چکا تھا ۔ ہم اُن کتابوں کے ضمیمہ جات میں جو تعداد لکھی ہے اُس سے صرفِ نظر کریں گے صرف اُسی تعداد کا حوالہ دیں گے جو صحاح تسع میں درج ہیں ۔کیوں کہ لاف  زنی میں  کاتبینِ سوانح  ، اپنی حدیں  پار کر جاتے ہیں اور چھاپے پر چھاپے مارنے والے بھی اپنی عقل استعمال نہیں کرتے جیسے ،  "اس کثرت اسفار کی وجہ سے اور اپنے غیرمعمولی حافظے کی وجہ سے ان کو دس لاکھ حدیثیں یاد تھیں۔" 

امام بخاری کے بارے میں بھی یہی لکھا ہے کہ اُنہیں   چھ لاکھ احادیث حفظ تھیں مگر اُنہوں نے صرف  7،563 صحیح احادیث کو اِس قابل جانا کہ اپنی صحیح میں لکھیں ۔ 
میں نےامام حنبل کی ،   28،199 روایات      ، قول منسوب الی الرسول و صحابہ  یا احادیث کو بنیاد مان کر ، کیوں کہ یہ تحریری صورت میں ہمارے سامنے ہے ۔یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ۔
 مختلف فرقوں یا مذہب  کے باقی 8 اماموں نے ،  70،163 قول منسوب الی الرسول  میں سے   بالا جدول کے مطابق ،اپنے فہم کے مطابق صحیح اور مصدّق  احادیث  ، انسانوں  کی راہنمائی   کے لئے اپنی کُتب میں لکھا اور 
کئی  مؤلفین امام حنبل کی   ریکارڈڈ ، احادیث سے منکر ہوئے ،   جو اوسطاً 22،954  احادیث بنتی ہیں ۔
کیا ایسا ہی ہے ؟ نہیں یقیناً ایسا نہیں امام حنبل نے ، جو کام کیا ہے وہ نہایت عمدہ ہے ۔وہ یہ کے رسول اللہ سے حدیث سُن کر آگے سنانے والے  کے نام سے تمام احادیث ایک مسند میں  حروفِ تہجی کے اعتبار سے جمع کر لیں ، جیسے


علامہ محمد ظفر اقبال (حیدرآباد - سندھ) نے امام احمد بن حنبل کے کام کو مزید  عمدہ بنایا ۔ کہ انہوں نے مکررات کو ہٹا دیا اِس طرح تعداد کو 10،997 تک لے آئے ، اور باقی کُتُب کا حوالہ بھی دیا ۔
اِسی طرح ، علامہ ناصرالدین الخاطب نے مسند امام حنبل کا انگلش میں ترجمہ کیا اُنہوں نے مزید کمال دکھایا  اور مکررات کو حذف کر کے حوالہ کے ساتھ
تعداد کو 10،997  سے مزید کم کرکے ۔ 4،376 تک لے آئے

  اور اِس طرح بالا جدول کی تصحیح ، اِس طرح ہوئی ۔ جس میں اما م حنبل کی  4،376 احادیث کو بنیاد مان کر باقی کا فرق جانا جائے گا ۔

اِس طرح ہم کہہ سکتے ہیں ، کہ امام مالک 1976، امام ابوداؤد 26 ، امام ابنِ ماجہ 35 اور امام ترمذی 420 احادیث کے منکر ہوئے !
لیکن آئیں دیکھیں کہ انکارِ الحدیث  اور انکارِ حدیث میں کیا فرق ہے !
اللہ کی تمام آیات ، الحمد سے لے کر والناس تک جو ا للہ سے حدث ہوئی ہیں وہ الحدیث ہیں اور 

جو اقوال ، اعمال اور افعال رسول اللہ سے منسوب ہیں وہ اپنی صحت پر پورا اترنے کے بعد احادیث کا مقام پاتے ہیں ۔
الحدیث اور احادیث کے استنباط سے خلفاءِ رشدین ،اصحابِ رسول نے مسلمانوں کے درمیان  شوریٰ یا اپنی فہم و دانش سے جو 
احکام یا امور بتائے وہ اُن کے دور کے فقہی تدبّر تھے ۔ جن کا اِس دور سے تعلق ہوبھی سکتا ہے اور نہیں بھی ۔ لیکن ایک بات اہم ہے کہ وہ سارے امُور  اُنہوں نے انجام دئیے وہ انسانوں اور مسلمانوں کی بھلائی و امن  کے لئے تھے ۔ ایک ہی قسم کے مرض میں گرفتار مختلف مریضوں کو ڈاکٹر  دوائی۔ اُن  کی صحت ، عمر  اور بیماری کے جسم میں پھیلنے  اور عرصے کے حساب سے دیتا ہے ۔ تاکہ مریضوں کو جلد از جلد  شفاء   ہو ۔الکتاب سے دی جانے ، والی  ڈوز  کا بھی یہی حساب ہوگا ۔ 


انکارِ حدیث کیا ہوتا ہے ؟
یہ کوئی ایسی چیز نہیں جو بہت پیچیدہ ہے ۔ کہ جسے سمجھنے میں کوئی دشواری ہو ۔ سادہ الفاظ میں آپ اگر ایک حدیث کی کتاب لکھنا چاہتے ہیں کہ جس سے لوگ مثبت فائدہ اُٹھائیں  اور ایسی حدیث جو حدیث نہیں صحابہ کی رائے ہے یا خلفاء کے فیصلے یا کوئی ایسی بات جس کی موجودہ دور میں افادیت نہیں ، یا جو مسلمانوں میں کسی قسم کا شک یا غلط فہمی پیدا کرے  تو آپ اُنہیں اپنی کتاب میں نہیں لکھیں گے۔ چپکے سے چھوڑ دیں گے  ، تو کوئی شور نہیں ہوگا اور نہ ہی کوئی فساد اُٹھے گا ۔ 
جیسے خطیبِ ترمذی (امام ولی الدین محمد بن عبداللہ ) اپنی  کتاب مشکوٰۃ المصابیح میں  6،030 احادیث لکھیں اور  امام احمد بن حنبل  کی صحیح    میں موجود   28،199میں    سے22،169
کو نہیں لکھا ، جس کی وجہ اُنہوں نے اسماء الرجال لکھ کر ثابت کر دی - 
کسی نے اُن کو منکرین حدیث کی فہرست میں شامل نہیں کیا ۔ 
جماعت اسلامی کے بانی ، علامہ مودودی نے بھی اپنی فہم و فراست اور علم سے کئی احادیث پر اپنے اعتراضات لکھے ،  علامہ غلام احمد پرویز  نے بھی یہی کام کیا ۔ جس کی وجہ سے وہ دونوں  منکرینِ حدیث کی صفوں میں پہنچادیئے گئے ۔ 

حالانکہ تدبّر تو انسان کی میراث ہے یہی تو اپسے جانور سے ممتاز رکھتی ہے ،   وہ جلد بازی میں کوئی ایسا کم کر ہی نہیں سکتا جس سے فتنے کا اندیشہ ہو اور  سرجری کی ضرورت ہو تو سرکشوں کے لئے واضح احکامات ہیں ، کہ پہلے  ہاتھ سے روکو !وعظ کون سنتا ہے ؟
ڈاکٹر طاہر القادری نے اوپن برھان کی ویب سائیٹ پر موجود القرآن کے اپنے ترجمے میں وہ  تبدیلیاں کیں کہ اللہ کی پناہ ۔  لیکن کسی نے اُنہیں ، غلام احمد قادیانی  کے ساتھ نہیں جوڑا ۔ باوجود اِس کے کہ خواب میں وہ محمدﷺ کو جہاز کا ٹکٹ دے رہے ہیں ، مدینہ سے پاکستان آنے اور واپس جانے کا ۔ وہ براق پر بھی بلا سکتے تھے ، لیکن وہ کسی کی بھی پکڑ میں نہیں آئے  ۔ کئی الفاظ کے مادے فہرست سے نکال دئیے ۔ کیوں یقیناً اُن کی کوئی نہ کوئی منطق ضرور ہوگی ۔
جیسے میں  دوستوں کی ازحد فرمائش پر  الکتاب کی آیت کا ترجمہ لکھتے وقت متنازعہ لفظ   کا ترجمہ نہیں لکھتا ،   بلکہ اپنے مکمل اعراب کے ساتھ الکتاب سے اُسی لفظ کو کاپی پیسٹ کر دیتا ہوں ،
جیسے  الصلوٰۃ، جس پر ایک دوست نے کہا کہ آپ کے ترجمے سے ہمیں الجھن ہوتی ہے ، ہم زچ ہوجاتے ہیں ۔
صحاحِ تسع میں  بادیء النظر میں کئی قابلِ اعتراض احادیث ہیں ۔ جن پر اعتراض کو کم کرنے کے لئے ، کئی نام بنا لئے ہیں ، ضعیف ہیں یا راوی سندِ روایت پر پورا نہیں اترتا ، لیکن کسی میں  ہمت نہیں ہوئی ، کہ الکتاب کی آیات کی  وضاحت میں لکھی گئی احادیث یا انسانی   عبادات ، اخلاقیات ، سماجیات ، معاشرت اور معاشیات سے متعلق احادیث کو   ایک جگہ جمع کر کے نئی مصحف بنا لیں  ۔
میری رائے میں  وقت کے ساتھ تبدیل ہونے والی انسانی سماجی، معاشیاتی  اور معاشرتی  کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ انتہائی اہم ہے ، کہ مختصر اور واضح احکام دینے والی احادیث ایک کتاب میں  اکٹھی کی جائیں اور عبادات و اخلاقیات کی احادیث ایک کتاب میں ۔ بالکل اُسی انداز میں جسے نومان بن ثابت المعروف امام ابوحنیفہ سے منسوب ہے   کہ اگر رسول اللہ موجود ہوتے تو یہی فتویٰ دیتے  یا ایسا ہی  کہتے۔

اگر ہم موجودہ منکرینِ حدیث کی تعریف پر اِس سب اماموں  کی تاریخ سے  کردار دیکھیں تو یہ بھی منکرینِ حدیث ہی کی صف میں کھڑے نظر آئیں گے ، جب کہ ایسا نہیں  ہے ۔
اللہ نے انسان کو  ، عقل و دانش ، فہم و فکر ، شعور و تدبّر کی صلاحیتوں سے نوازا ہے اور اپنے حاصل کردہ علم کے ذریعے اپنی اور انسانی بھلائی  کے لئے روزمرہ کاموں کو انجام دینے کا مکلّف بنایا ہے ۔
الکتاب ، ہمارے پاس ہے،  جس  میں وہ تمام اعمال و افعال موجود ہیں جن کو انجام دینے کا حکم اللہ نے دیا ہے ،یقیناً رسول اللہ نے ایسا ہی کیا  اور اول المسلمین کہلائے ۔
 اِس کے علاوہ کی اُن کے قول و افعال و اعمال  جو الکتاب سے الگ ہیں  اور مختلف کُتُب احادیث  درج ہیں  ہمارے پاس موجود ہیں ۔  جن پر مسلمان اپنے اماموں کے فہم کے مطابق عمل کر رہے ہیں ۔
جیسے نماز میں ، رفع یدین  یا آمین بالجہر ، یا ہاتھوں کا باندھنا  وغیرہ   جنھیں فروعی عمل کہا جاتا ہے جس سے فرقوں  کی پہچان ہوتی ہے ۔لیکن یہ فرق یقیناً کسی بھی مسلمان کوکُفر میں نہیں دھکیلتا ۔ اگر انسان کفر میں دھکیلا جاتا ہے تو اللہ کی آیات پر عمل نہ کرنے سے یا اُن کا مذاق اُڑانے سے ۔  کیوں کہ اللہ نے الکتاب میں ، مکمل احکامات دئیے ہیں
لیکن احادیث میں رسول اللہ نے  اپنے اعمال و افعال کے واضح احکامات نہیں دیئے  بلکہ احادیث بیان کرنے والوں نے بتایا ، کہ وہ ایسا کرتے تھے اور ایسا بھی کرتے تھے !
آپ نے قدغن نہیں لگایا کہ ایسا لازمی کرنا ہے وگرنہ کافر ہوجاؤگے ۔
لہذا ، مختلف احادیث  کے مختلف انداز میں سے کسی ایک پر عمل کرنے سے مسلمان ، اُس پر بیان کی گئی دوسری حدیث کا منکر نہیں ہوتا ۔
قرآنسٹ  ، کا یہ کہنا کہ  اللہ کی آیات پر عمل کرنا نہایت اہم ہے ، جبکہ اُن کے نزدیک احادیث قابلِ اعتبار نہیں ، اُن کی رائے ، اُن کے علم کے اعتبار سے غلط نہیں کہی جاسکتی یا اُنہیں منکرین حدیث نہیں کہا جاسکتا ۔ جیسے ایک حدیث ۔
" مسلمان وہ جس کے ہاتھ  اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں " 
چناچہ اگر وہ محفوظ نہیں رہتے تو لازمی ہے کہ اُس  مسلمان کی  مسلمانی مشکوک ہو گئی ہے ۔جو ہاتھ یا زبان سے تنگ کرتا ہے ۔

تا آنکہ وہ کفارۃ ادا کرے ، اور کفارہ معمولی سا ہے !
بھائی ، آئی ایم سوری !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ مزید پڑھیں :
بدنصیب پرویز!
مہاجرزادہ کے مذہبی اساتذہ

حسبنا الکتاب اور مذہبی فکری غلام 
کیا منکرینِ حدیث مسلمانوں کی راہنمائی کر سکتے ہیں ؟
کتاب اللہ کیا ہے ؟
الکتاب اور القرآن 
الکتاب  ، ام الکتاب اور متشابھات

آیات اللہ پر انسانی ردِ عمل 
بائبل کس قسم کی کتاب ہے؟



کمپیوٹر سے آیات فوراً   ڈھونڈیں


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔