میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 25 اپریل، 2017

مصحفِ عثمان یا اُموی مصاحف اور ملّائی فراڈ


1994 کے غالباً جون کے بعد کی بات ہے ، میں اپنی عمر کے 41 سال گذار چکا تھا ، کہ پاکستان کے مشہور کالم نگار عبدالقادر حسن بخارا گئے ، وہاں انہوں نے امام بخاری کی قبر کی زیارت کے بعد تاشقند کا رُخ کیا اور جنگ اخبار میں ایک مضمون چھایا جس میں اُنہوں نے لکھا:
" مصحف حضرت عثمان بن عفان (رض) (576–656 CE) خلیفہءِ راشد سوئم  (3 November 644 CE,23 AH –17 June 656 CE, 35 AH)  نے 30 ہجری کے لگ بھگ قرآن کے سات نسخے کتابت کروا کر، مختلف صوبوں کے گورنروں کو بھیجے تھے ۔ لیکن جس مصحف کی تلاوت کرتے وقت اُنہیں ، مصر سے آئے ہوئے خارجیوں نے آپ کے محل  پر دھاوا بولتے ہوئے شہید کر دیا ۔ تو وہ نسخہ آپ کے خون کے دھبوں کے ساتھ ، تاشقند کے عجائب گھر میں مجھے دیکھنے کی سعادت نصیب ہوئی ہے ۔ "

اِس مضمون کا چھپنا تھا ، کہ غالباً ارشاد احمد حقانی کا دوسرے یا تیسرے دن مضمون چھپا ، اُنہوں نے لکھا ، کہ
" میں نے خود وہ مصحف اپنی آنکھوں سے دیکھا جو حضرت عثمان (رض) تلاوت کرتے ہوئے شہید ہوئے ۔ اُس پر خون کے دھبے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ، بلکہ اُس مصحف کو چھونے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ۔ "

اِن دو مضامین کو دیکھ کر ذہن میں عجیب سوچ پیدا ہوئی ، کہ کیا واقعی حضرت عثمان (رض) نے القرآن کی کتابت کروائی یا پھر یہ بھی نسیم حجازی کے ناولوں کی طرح اُموی افسانہ نگاری ہے جسے ہم دل سے لگائے بیٹھے ہیں ، کیوں کہ اُس وقت میرا جتنا فہم تھا اُس کے مطابق میں "اول المسلمین " ہونے کے ناطے سے محمدﷺ کو القرآن کا حافظ سمجھتا تھا اور ہوں ، بلکہ آپ کے اردگرد موجود صحابی (رض)بھی حفّاظ تھے ، اور یہی حفاظت کا ذمہ ہے جو اللہ نے اُٹھایا ہے ورنہ ، کسی بھی لکھائی میں تبدیلی کرنا نہایت آسان ہے ۔ مگر القرآن کا یہ اعجاز ہے کہ حفّاظ کی وجہ سے یہ ناممکنات میں سے ہے ۔ لاکھوں حفّاظ ہیں جو دنیا کے ہر کونے میں اور ہر عجمی زبان بولنے والے ہیں لیکن القرآن حفّاظ کے حفظ و ادائیگی میں تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ، اُتنی ہی مہارت رکھتے ہیں جتنے مکّہ یا مدینہ کے قاری ۔
چنانچہ اِس بات کو اپنے ایمان کا حصہ بنا لینا کہ نہیں حضرت عثمان (رض) نے یمن میں حفّاظ کی شہادت کے بعد ، اِس خدشے سے کہ کہیں نعوذ باللہ ، القرآن دنیا سے ناپید ہوجائے مختلف نسخے چھپوائے ۔

تاریخی جھوٹ ہے ، جو اللہ جانے کس مقصد کے لئے پھیلایا گیا  اور اِس پر ستم یہ کہ مصحفِ عثمان خط کوفی میں لکھا ہوا تھا ۔ کوفی سے آپ کے ذہن میں لازمی کوفہ ہی آئے گا ، جہاں، تاریخ کے ہی مطابق ،  ایک جلاوطن حکومت قائم ہوئی تھی جب تاریخ کے مطابق ، ابوقحافہ کے ہاتھ پر بیت نہ کرنے کی وجہ سے اور مدینہ میں سورش پیدا کرنے والے ابن ظالب کو کھر سے باہر نکالنے کے لئے، آگ لگا کر دروازہ توڑانا پڑ ا، مگر گھر میں رہنے والا جوانمرد ، پچھلی  گلی سے نکلا اور کوفہ جاکر دم لیا ، اور وہاں جا کر پہلا خطبہ دیا جو ابوقحافہ کے خلاف تھا – پھر وہاں سے بصرہ کی راہ لی اور وہاں اپنی حکومت ِ شیعاً قائم کی ، جہاں سے جانثار شیعوں  نے   پہلے ابنِ خطاب کو قتل کیا پھر  ابنِ عفان کو اور مزے کی بات کی ، ابنِ عفان کے محافظ دستہ کے گارڈ ، ابنِ طالب کے سگے بیٹے تھے ، جن کی موجودگی میں   ، ابنِ عفان کاقتل  بصرہ کی حکومت کے جاں نثار نے کیا ،  پسرِ اکبر ابنِ طالب  کو قائم مقام خلیفہ  بنایا گیا،مدینہ اور  بصرہ  کی فوجوں کے درمیان ، بصرہ میں  جنگِ جمل کروائی گئی ۔ جہاں مدینہ کی فوجوں کو کافی حفّاظ کے قتال کے بعد شکست ہوئی ۔ ابنِ طالب نے خلافت کا تاج اپنے سر پر سجایا  لیکن افسوس
تمیز بندہ و آقا فساد آدمیت ہے

حذر اے چیرہ دستاں سخت ہیں فطرت کی تعزیریں


ابنِ طالب اپنے جانثار شیعاً کے ہاتھوں  ، فطرت کی تعزیر  کا شکار ہوا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کوئی تین دن پہلے ایک نوجوان مُسلم سے فیسک بُک پر معلومات کے تبادلے کے دوران ، جس اُس نے کہا کہ " حضرت عثمان (رض)" کا مسلمانوں پر احسان ہے کہ اُنہوں کے القرآن کی کتابت کروائی اور امیر معاویہ (رض) کاتبِ وحی تھے ۔ وغیرہ وغیرہ
میں نے جب اُسے بتایا کہ میں تاریخ پر رتّی برابر یقین نہیں کرتا ، کیوں کہ یہ انسانی بلکہ شیطانی جھوٹی خواہشاتِ تبلیغ سے لبریز ہوتی ہیں ۔ جس القرآن کی آپ بات کر رہے ہیں وہ کہاں ہے ۔
تو اُس نے پورے اعتماد سے بتایا کہ وہ ترکی میں ہے اور اُس پر آپ کے خون کے دھبّے بھی ہیں۔
میں نے کہا کہ ایک ایسا ہی نسخہ سمرقند میں بھی ہے اور اُس پر بھی خون کے دھبّے موجود ہیں ، اب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ، آپ اُس وقت دو القرآن کھولے پڑھ رہے تھے ، تو خون کے چھینٹے دونوں پر پڑے ہوں ۔
" لگتا ہے آپ منکرِ حدیث ہیں ؟ "  اُس نے فوراً فتویٰ جھڑا ۔
" نوجوان ، میری نزدیک انکا رالحدیث کُفر ہے  اور یہ کہانی   حدیث کیسے ہوگئی ؟ " میں نے پوچھا " اور آپ کو معلوم ہے کہ حجاج بن یوسف نے تاریخ کے مطابق القرآن پر اعراب لگاتے ہوئے ، مصحفِ عثمان کے مقابلے میں کوئی 11 جگہ حروف میں تبدیلی کی ہے ، گویا جو القرآن ہم پڑھ رہے ہیں وہ لکھائی میں تبدیل شدہ ہے !"
نوجوان مزید بھڑک اُٹھا ،" جناب آپ اسلام کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، جب محمدﷺ کے زمانے سے حفّاظ موجود ہیں تو وہ تبدیلی کیسے کر سکتا تھا ؟"
" بس اِسی اصول پر قائم رہو کسی نے کسی پر کوئی احسان نہیں کیا سوائے اللہ اور رسول اللہ کے "
میں نے سمجھایا ، "اگر آپ اِسی اصول پر پختہ ہوئے تو تمام انسان و مسلمان اور تاریخ  کے احسانات کے بوجھ سے خود بخود  نکل جائیں گے ہاں اللہ اور رسول اللہ کے احسان کے بوجھ تلے دبنا آپ اور میرے لئے باعثِ نجات ہوگا "
"لیکن سر وہ مصحفِ عثمان  کو پہلا قرآن ساری دنیا مانتی ہے ، آپ کیسا انکار کر سکتے ہیں "اُس نے اسرار کیا !
نوجوان ایک بات بتاؤ ،" رسول اللہ ﷺ کے بعد کیا مسلمان قرآن مین ذرا سی بھی تبدیلی گوارا کر سکتے تھے ؟ یا آپ کر سکتے ہو ؟ "
" نہیں کبھی نہیں قرآن میں تبدیلی کرنے والا واجب قتل ہے " اُس نے فتویٰ دیا ۔
" اچھا یہ بتاؤ ، کہ  محمدﷺ پر نازل ہونے والی پہلی آیت ،  
اقْرَ‌أْ بِاسْمِ رَ‌بِّكَ الَّذِي خَلَقَ
اور حجتہ الودع پر نازل ہونے والی آخری آیت    الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَ‌ضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ ہے ؟
" جی سر یسا ہی ہے " اُس نے جواب دیا
تو پھر حضرت عثمان (رض) کی جرءت کیسے ہوئی ، قرآن کو
الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سے لے کر مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ پر ختم کرنے کی ؟ "
نوجوان ، مجھ پر منکرِ حدیث کا فتویٰ لگا کر دوڑ گیا !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 
قصہ مختصر ، بات ختم ہوگئی ، میں نے اپنی عادت سے مجبور ہوکر اِس سوئے ہوئے تازہ قصے پر دوبارہ تحقیق شروع کی ، " گوگل بھائی " نے میری بہت مدد کی ۔
 چنانچہ " مصحفِ عثمان اور ملّائی فراڈ " کی قسطیں پیش خدمت ہیں ،
ھاں یہ ذہن میں رہے کہ یہ سب مصاحف یقیناً عبد العزيز بن مروان بن الحكم (27ھ ـ 86 ھ) اُموی گورنر مصر نے عبد الملك بن مروان بن الحكم بن أبي العاص بن أمية القرشي (26ھ- 86 ھ/ 646 - 705م) پانچویں اُموی خلیفہ کی خواہش پر لکھوائے تھے ۔
 حجاج بن یوسف الثقفی کوفہ ، بصرہ اور ریاض کا گورنر تھا ۔ جس کے بارے میں مشہور ہے کہ اُس نے القرآن پر عجمیوں کے لئے اعراب لگوائے تھے ۔ گویا یہ سب اُمّوی کہانیاں ہیں جو مشہور کی گئیں ۔تاکہ اُموّی بادشاہوں کی مشہوری کی جاسکے ۔ لیکن درمیان میں مزید مشہوری کے لئے عبد العزيز بن مروان بن الحكم (27 ھـ   86 ھ) کے لکھوائے گئے نسخوں کو نہ صرف حضرت عثمان (رض) کا کہہ کر متعارف کروایا گیا ۔ بلکہ وہی نسخہ قرار دیا جو وہ شہادت کے وقت پڑھ رہے تھے ۔

یاد رہے کہ جب مصری شیعوں  نے حضرت علی (رض) کو خلیفہ نہ بننے دینے کا انتقام حضرت عثمان (رض) سے لیا تو تین دن تک ، اُن کی لاش گھر میں پڑی رہی ۔ یہاں تک حسنین جو اُن کے گھر پر اپنے فوجیوں کے ساتھ پہرہ دے رہے تھے ، اُن بہادروں کی ہمت نہ ہوئی ، ہمت دکھائی تو خواتین نے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 
 مزید پڑھیں !
 
مصحفِ عثمان ، خون میں ڈوبے ہوئے صفحات ۔ تصاویر

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔