میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 20 اپریل، 2017

پانامہ کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ!

الحمدللہ ثم الحمدللہ

پانامہ کیس پر سپریم کورٹ کا فیصلہ حسب وعدہ عدلیہ انشاءاللہ صدیوں تک یاد رکھا جائے گا۔عدلیہ پر تنقید کرنے والے فارمی دانشور سن لیں یہ فیصلہ عوامی و سیاسی توقعات سے کہیں زیادہ تاریخ ساز ہے اور انشاءاللہ آئندہ آنے والی عدالتی تاریخ کا دھارا بدل کے رکھ دے گا۔
یہ پاکستان کی تاریخ کا واحد سیاسی کیس تھا جس کے فیصلے میں عدلیہ نے اپنا روایتی تعصب یا محبت بالائے طاق رکھا جو ستر سال کی تاریخ میں سیاسی کیسز کا جزو لاینفک تصور کیا جاتا رہا ہے۔آئین و قانون کی حدود سے تجاوز نہیں کیا گیا بلکہ ہمیشہ کیلئے انصاف کی راہیں ہموار ہوئیں۔
ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ منتخب وزیراعظم اپنے خاندان اور بچوں سمیت کسی عدالتی فورم پر بحیثیت ملزم فریق پیش ہو کر اپنی صفائیاں دے گا۔آزاد عدلیہ کا ایک اعلی نمونہ دیکھنے کو ملا جس میں بہت کمزور دلائل کی بناء پر بغیر کسی دباؤ کے دو معزز ججز نے ملک کے طاقتور اور دنیا کے طاقتور ترین ممالک کے حمایت یافتہ وزیراعظم کو نا اہل قرار دیا۔تین ججز نے بغیر کسی طاقت و عہدہ کا لحاظ رکھے کیس کو زیر مشاہدہ رکھ دیا جسکی خاص وجہ فریقین کی جانب سے کوئی ٹھوس دستاویزات اور دلائل کی عدم فراہمی ہے۔
ہر ادارہ اپنی ساکھ اور ایمان محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے بالکل اسی طرح سپریم کورٹ نے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کرنا مناسب نہیں سمجھا تحقیقی تفتیش اور ٹرائل عدالت عظمی کے دائرہ کار میں آتا ہی نہیں ہے اس لیے ہر متعلقہ ادارے کی نمائندگی کو یقینی بنا کر کمیشن قائم کرنے کا حکم دیا۔تاریخ میں پہلی بار کمیشن کے طریقہ کار اور ٹائم فریم کو متعین کیا گیا۔
کسی بھی معاشرے میں انصاف کی فراہمی اس معاشرہ کے امن و امان،استحکام اور ریاستی وقار کی ضامن ہوتی ہے سپریم کورٹ کے اس تاریخی فیصلہ کی خاص بات یہ ہے کہ موجودہ ملکی سلامتی اور مجموعی صورتحال پر اس کا اثر نہایت مثبت اور پر امید فضا کے قیام میں مددگار ثابت ہو گا۔قانونی پیچیدگیوں،بین الاقوامی عدم معاہدات اور فریقین کی جانب سے عدم تعاون کے باوجود پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں ایک سنگ میل عبور کیا جا چکا ہے۔حکومت وقت کے خلاف آزادانہ تحقیقات کے آغاز اور بذات خود وزیراعظم کی حاضری سے عوام کا عدلیہ پر اعتماد اور تحفظ کا احساس پیدا ہو گا۔
نادان دوست ذرا توجہ فرمائیں بھائیو عدالتیں جذبات اور واہ واہ کے اسباب پر فیصلے نہیں کیا کرتیں۔فیصلے ہمیشہ ثبوت اور آئین وقانون کے مطابق ہوا کرتے ہیں۔اس فیصلہ کی رو سے ملکی اداروں،ایف آئی اے ،نیب،ایف بی آر کے اختیارات، سمت کا تعین اور خامیوں کی نشاندہی ہوئی۔حاصل بحث یہ ہے کہ جن معزز ججز صاحبان نے فیصلہ کو صدیوں یاد رکھے جانے کا عندیہ دیا تھا بلاشبہ انہوں نے ایک تاریخ ساز فیصلہ دے کر پاکستان کی عدالتی ہسٹری بدل دی ہے،قوم کا سر فخر سے بلند کر کے عوامی اور قومی توقعات کی لاج رکھ لی۔۔اللہ کریم ججز اور عدلیہ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔آمین
سپریم کورٹ آف پاکستان زندہ باد
معزز جج صاحبان،پائندہ باد
(بقلم خود ظفراقبال)
 
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔