میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 16 مئی، 2017

انسانی کتابیں اور ترتیبِ ابلاغ -2

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 
الکتاب سے انسانی ہدایت کے لئے لکھی جانے والی ،انسانی کتابیں اور اُن کی ترتیبِ ابلاغ  !
 انسانی تاریخ کی پہلی  مذہبی کتاب جو انسانوں کو ہدایت دینے کے لئے انسانوں نے لکھی وہ
   عہد نامہ قدیم  ہے   ۔Old Testament
  جِس کے درج ذیل  39ابواب ہیں ،

https://www.bibleleague.org/bible-downloads/?gclid=CjwKEAjwutXIBRDV7-SDvdiNsUoSJACIlTqluxvXf8t9aMopTb8MSQOJIb9m5Ek_H07-DTDafWxOLBoCfpvw_wcB#urduOld Testament Genesis، Exodus، Leviticus، Numbers، Deuteronomy، Joshua، ، Judges،Ruth، Samuel، Samuel، Kings-1، Kings-2، Chronicles-1، Chronicles-2،Ezra،Nehemiah، Esther،Job، Psalms، Proverbs، Ecclesiastes،  Song of Solomon، Isaiah، Jeremiah، Lamentations، Ezekiel، Daniel،Hosea، Joel، Amos، Obadiah، Jonah،Micah،Nahum، Habakkuk، Zephaniah،Haggai،Zechariah، Malachi
عہد نامہءِ قدیم کب لکھا گیا  . 
 یہ یورپی تحقیق ہے جس کے مطابق ، آج  سے2517 سال پہلے ، عہد   نامہءِ قدیم لکھا گیا ۔     جب یونانیوں نے دنیا کو فتح کرنا شرو ع کیا تو عبرانی کو یونانی اور دیگر زبانوں میں تبدیل کرنے کا عمل شروع ہو ۔ جسکے ابواب ۔
پیدائش  
ہے ۔ جو تخلیقِ کائینات سے شروع ہو کر  جوزف  نبی کی وفات پر ختم ہوتا ہے ۔
خروج ۔ میں جیکب نبی سے موسس نبی تک کا دور ہے ۔
احبار ، میں موسس نبی کا خدا کے پاس جانا ہے ۔اور قوانین ہیں جو اُسے دیئے گئے ۔ یہ قانون پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں ،خاص طور پر جنسی جرائم جو لنک کے صفحہ 21 پر دئیے گئے ہیں

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 

بائبل کتابِ مقدّس کا حصہ ہیں ، یہودیوں اور عیسائیوں کے لئے متفقہ ہدایت کی کتاب ہے ، اِس پر کتنا عمل کیا جاتا ہے ، آپ کو معلوم ہوجائے گا ۔
گنتی : اِس میں موسسز   کو بنی اسرائیل کی گنتی کرنے کا حکم ہے ۔ 


استثناء :  یہ بنی اسرائیل کے صحرائے سینا میں 40 سال گذارنے کے بعد دئے جانے والے استثناء پر مشتمل ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 
اِس کے بھی صفحہ 25 پر جنسی جرائم کی سزا لکھی ہوئی ہے۔





بنیادی طور پر اگر ہم کہیں کہ  بائبل میں مختلف  نبیوں کی زندگی اور اُن کی قوم کے بارے ہیں     تاکہ انسان کو اُن گناہوں سے بچایا جائے کہ جن پر سزائیں دی جا چکی ہیں تو غلط نہ ہوگا ۔ لیکن کیا ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ خدا کا کلام ہے ؟
تو یہاں آکر بطور ایک مسلمان مجھے سوچنا پڑے گا کہ کیا میں اِس انسانی تحاریر کو خدا کا کلام یک دم مان لوں ، کیوں کہ اِس میں سے 100 فیصد نہ سہی 60 فیصد تو وہی ہے جو الکتاب میں درج ہے ؟
مجھے اِن تحاریر کو خدا کاکلام ماننے میں تھوڑی سی جھجھک ہے اور وہ یہ ، کہ کیا خدا  اور انسان ایک برابر ہیں ۔ یا خدا انسان سے کوئی بلند ہستی ہے ۔

درج ذیل میں ، باب ، گناہ کا آغاز میں ، خدا اُس باغ میں چہل قدمی کر رہا ہے جو اُس نے آدم کے لئے زمین پر خود بنایا ہے اور بائبل کے مطابق یہ عدن  (ایتوپیا) میں ہے ۔ پھر کیا خدا نے آدم سے جھوٹ بولا یا تقیّہ کیا کہ اگر اُس درخت کا پھل کھایا تو تو مر جائے گا ؟
 
  اگر میں انسان کو خدا کا ہی ایک روپ سمجھوں تو ، یقیناً یہ خدا کی کتاب کہلائی جاسکتی ہے  لیکن اگر میں خدا کو مافوق الفطرت ہستی مانوں کہ جس نے یہ تمام کائینات بنائی ہے ، تو یہ خدا  کے کلام کا انسانی ترجمہ تو کہلایا جاسکتا ہے خدا کا کلام نہیں ، جو انسان کو خدا کی ہدایات سے روشناس کرونے کے لئے انسانی کاوش ہے ۔
لیکن کیا بائیبل کے خدا نے بائبل میں موجود نبیوں سے ، عبرانی میں کلام کیا تھا یا کسی اور زبان میں  یا پھر آفاقی پیغامات کی انسانی دماغ کی طرف بذریعہ آفاقی لہروں کی ترسیل تھی کہ جس کی کوئی زبان نہیں ہوتی ۔ لیکن پیغام ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچایا اور سمجھایا جاسکتا ہے ۔جیسے کائینات کے ربّ کا زمین پر موجود تما م اشیاءکو اپنے کلام سے وجود میں لا کر اُن کی نشوونماکے لئے پیغامات بھیجنا ۔ یا ہماری زمین کے آسمان پر موجود اور اُس سے دور تمام سیاروں کی تخلیق کے لئے  پیغامات بھجوانا ۔سب ایک عظیم پلاننگ کا حصہ ہے ، لیکن زبان کا محتاج نہیں ۔ زبان صرف انسان کی ضرورت ہے۔  کائینات کے ربّ کی نہیں !   

انسانی تاریخ کی  دوسری  کتاب جو انسانوں کو ہدایت دینے کے لئے انسانوں نے لکھی وہ
   عہد نامہ جدید      ہے   ۔جِس کے درج ذیل  27ابواب ہیں ،  یہ کرائسٹ یسوع مسیح   سے منسوب کی جاتی ہے ۔
https://www.bibleleague.org/bible-downloads/?gclid=CjwKEAjwutXIBRDV7-SDvdiNsUoSJACIlTqluxvXf8t9aMopTb8MSQOJIb9m5Ek_H07-DTDafWxOLBoCfpvw_wcB#urduNew Testament  Matthew، Mark، Luke،  John، Acts (of the Apostles)،Romans ، Corinthians-1، Corinthians-2،Galatians،Ephesians،Philippians، Colossians، Thessalonians-1، Thessalonians-2، Timothy-1، Timothyٓ-2 ،Titus، Philemon،Hebrews،James، Peterٓ-1، Peter-2، John-1، John-2، John-3، Jude، Revelation
  عہد نامہ جدید     ,کرائیسٹ کی پیدائش سے شروع ہوتی ہے ۔ اِس میں بھی اخلاقی قدروں کو اجاگر کیا گیا ہے ۔
 
جنسی جرائم کی سزا جو عہد قدیم میں دی گئی شریعت کے مطابق لکھی گئی ہے ، کرائسٹ نے اُس شریعت میں تبدیلی کر کے  ، کیا گناہ کی سزا کو کم کیا ؟
بادی النظر میں ، گناہ کی جگہ عضو کو سزا دینا ، کمی لگتی ہے کہ زنا کی سزا میں آنکھ یا ہاتھ نکال دئیے جائیں ، لیکن عضوِ تناسل جو کہ اصلی مجرم ہے اُس کیوں چھوٹ دی گئی ؟
 
 
بائیبل سے میں 1967 روشناس ہوا تھا ، جو میں نے ماموں کے گھر کے  پاس ایک چرچ کے احاطے سے مالٹے توڑنے کے بعد ، پادری نے سنائی ، اور مجھ سے وعدہ لیا کہ میں چوری نہیں کروں گا ۔اُس کے نزدیک  بچوں کا پھل توڑ کر کھانا چوری نہیں لیکن دیوار ٹاپ کر آنا اور بہت سارے پھل توڑنا یقیناً چوری میں آتا ہے ، چنانچہ ہر اتوار کو میں اور دیگر بچے گیٹ سے چرچ کے احاطے میں آتے ، ایک ایک مالٹا توڑتے ۔کھجور کے درخت سے کچی پکی کھجوریں اتارتے ۔  پادری کی نصیحتیں سنتے اور گھر چلے جاتے ۔ نصیحتیں کیا تھیں بائبل کا ایک چیپٹر ہوتا ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ، کہ میں جب بائبل سنتا تو مجھے اُس میں اور قرآنی ترجمے میں زیادہ فرق محسوس نہ ہوتا ، ویسے بھی ایک عیسائیوں کے خدا کا کلام تھا اور دوسرا مسلمانوں کے ،اور دونوں میں انسان ہی کو نصیحت تھی اُن کی ہدایت کے لئے ۔
میرے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوتا کہ کیا محمدﷺ نے  تاریخ کے مطابق اعلانِ نبوّت سے پہلے کیا بائبل پڑھی تھی ؟؟ 
تو بتایا جاتا نہیں وہ دین حنیف پر تھے ۔
تو کیا دینِ حنیف کی کوئی کتاب اُس وقت موجود تھی ؟؟
اِس پر تاریخ خاموش ہے ۔
لیکن یہ کیسے ممکن ہے ؟  محمدﷺ کے گھر سے صرف ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ، کعبہ موجود تھا ۔ جہاں ہرقسم کی مذہبی رسومات ادا کی جارہیں تھی ۔ جن کی کتابوں میں کسی آنے والے کا ذکر تھا ۔ جو کعبہ کے اردگرد  کی جانے والی مذہبی رسومات کو ختم کر کے انسانیت کو ، ایک مذہب دے گا ۔
محمد  بن عبداللہ سے محمد رسول اللہ تک کا چالیس سالہ سفر کرنے والا
، انسانی تاریخ کا ایسا کردار ، جس نے اپنی زندگی ، ایسے ماحول میں گذاری ، جس میں پلے بوئے ، قاتل ، جواری اور شرابی کثرت سے پائے جاتے تھے ۔ جو اپنی برائیوں کو قصے کہانیوں میں مردانگی کا حُسن بعینہی ایسے ہی قرار دیتے تھے  جیسے آج  !
اور  اخلاقی اقدار کے امین بھی پائے جاتے تھے ۔ یہ تو ممکن ہی نہیں  کہ اخلاقی اقدار کے یہ امین ، بغیر کسی مذہبی تعلیم کے پلے بڑھے ہوں ؟
یا کسی اخلاقی و مذہبی رسومات  کے حصہ دار نہ ہوں !
عہد نامہءِ قدیم موجود تھا ، عہد نامہ جدید بھی موجود تھا ، جو انسانی اقدار کی بہتری کے قوانین رکھتا ہے ۔  جس میں مذہبی رسومات بھی ہیں اور جنسی و انسانی ، گناہوں  پر سرزنش گناہ بھی ۔
تو کیا وجہ تھی کہ محمد رسول اللہ کو  کسی کے حکم کا  اعلان کرنا پڑا :

قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهَادَةً 
 کہہ کون سی شئے  شہادت میں اکبر ہے ؟ 
قُلِ اللّهُ شَهِيدٌ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ 
کہہ اللہ ، میرے  درمیان اور تمھارے  درمیان شہید ہے ! 
وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنذِرَكُم بِهِ وَمَن بَلَغَ 
اور وحی کیا گیا ہے میری طرف یہ القرآن ،میں تمھیں، جو کچھ (غلط تم پر) تبلیغ کیا گیااِس (القرآن) کے ساتھ سرزنش کروں!
  أَئِنَّكُمْ لَتَشْهَدُونَ أَنَّ مَعَ اللّهِ آلِهَةً أُخْرَى
 کیاتم شہادت دیتے ہو یہ کہ اللہ ( ال الہہ ) کے مع آخری الہہ بھی ہیں ؟
قُل لاَّ أَشْهَدُ
کہہ میں شہادت نہیں دیتا !
قُلْ إِنَّمَا هُوَ إِلَـهٌ وَاحِدٌ
کہہ بے شک وہ واحد الہہ  ہے !
وَإِنَّنِي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ ﴿6:19
 اور بے شک میں برءت  کا اظہار کرتا ہوں جس شرک میں تم ہو !

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے !
کہ  عہد نامہ ءِ قدیم میں یا عہدنامہءِ جدید میں کتنے الہہ کا ذکر ہے ؟
کیاعہدنامہءِ جدید میں بتایا گیا ،خدا کا بیٹا ، خدا کی خدائی میں شراکت دار ہے ؟
عہد نامہ ءِ جدید میں کرائسٹ نے تو کوئی ایسا دعویٰ نہیں کیا ، سوائے اِس کے  کہ انسانوں کو کہا گیا کہ تمھارا باپ خدا  ناراض ہو گا :

آیت پڑھیں :

 الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ وَإِنَّ فَرِيقاً مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ﴿2:146
وہ لوگ جنہیں ہم نے الْكِتَابَ  دی ، اُسے ایسے پہچانتے ہیں کہ جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ۔ اور بے شک  اُن (الْكِتَابَ  دیئے جانے والوں) میں سے ایک فریق (الْكِتَابَ میں سے ) الحق کو چھپاتا ہے۔
 الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ  ﴿2:147﴾
 الحق ، تیرے ربّ کی طرف سے ہے (الْكِتَابَ کی صورت میں )   پس   الْمُمْتَرِينَ میں سے مت ہوجانا ۔
 مَّا عَلَى الرَّسُولِ إِلاَّ الْبَلاَغُ وَاللّهُ يَعْلَمُ مَا تُبْدُونَ وَمَا تَكْتُمُونَ ﴿5:99
الرسول کے اوپر کچھ نہیں سوائے الْبَلاَغُ کے اور اللہ علم رکھتا جو تم (البلاغ میں سے ) ظاہر کرتے ہو اور جو تم (البلاغ میں سے ) چھپاتے ہو !
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا ﴿25:56
محمد ﷺ بھی مبشر اور منذر ہیں اور اللہ نے انہیں بھی الْكِتَابَ دی ہے
اللہ کی آیات  پڑھیں :
 محمد ﷺ سے پہلےالْكِتَابَ  موجود ہے ۔  جس سے شکوک و شبہات دور کرنے کا اللہ کہہ رہا ہے ۔ اور وہ الْكِتَابَ   کون سی ہے ؟
فَإِن كُنتَ فِي شَكٍّ مِّمَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكَ ۚ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ ﴿10:94
  پس  اگر تجھے شک ہو جائے جو ہم نے تیری طرف نازل کیا ہے ، پس اُن لوگوں سے سوال کر ؟  جو تجھ سے پہلےالْكِتَابَ  کی قرءت کر رہے ہیں ۔ حقیقت میں تیرے پاس الحق ، تیرے ربّ کی طرف سے آچکا ہے (الْكِتَابَ کی صورت میں )   پس   الْمُمْتَرِينَ میں سے مت ہوجانا ۔
ہم تھوڑی دیر کے لئے فرض کرتے ہیں کہ محمدﷺ کو الکتاب کی ایک آیت  پر شک ہو گیا ہے اور وہ آیت  ہے :
 إِنَّ رَبَّكُمُ اللّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مَا مِن شَفِيعٍ إِلاَّ مِن بَعْدِ إِذْنِهِ ذَلِكُمُ اللّهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ أَفَلاَ تَذَكَّرُونَ ﴿10:3
بے شک تمھارا ربّ، اللہ  جس نےالسَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ     چھ ایّام  میں تخلیق کئےپھر وہ  العرش پر استویٰ  ہوا ، الامر  پر   دَبِّرُ کرتا  رہتا ہے ،  اُس کے بعد ، اُس کے إِذْنِ کے بغیر کوئی شَفِيعٍ نہیں ، وہ تمھارا   اللہ ، تمھارا  ربّ ہے ، پس اُس کے عبد رہو ! کیا تم ذَكَّرُنہیں  کرتے ؟
اُنہیں  بتایا گیا کہ ورقہ بن نوفل کے پاس بھی الکتاب  ہے  جس کا نام عہد نامہءِ قدیم اور عہد نامہءِ جدید ہے ، اُس میں جواب لکھا ہوا ہے ۔  محمدبن عبداللہ ،    ورقہ بن نوفل کے پاس جاتے ہیں اور ادب سے پوچھتے ہیں ، حضرت یہ بتائیے کہ اللہ نے  چھ ایام میںالسَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ      کیسے تخلیق کر دئیے ؟
ورقہ بن نوفل نے ، اپنے پاس رکھی ہوئی ایک  کتاب کھولی اور محمدبن عبداللہ کے سامنے رکھ دی ، جس میں درج ہے ۔

http://d1d7ektpm2nljo.cloudfront.net/1MZc9zoNyQ4IvK0-QAaQTw/Urdu_Bible_01__Genesis.pdf

لیکن حضرت الکتاب میں درج ہے کہ
  تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ﴿70:4
الملائکۃ اور الروح اُس کی طرف ایک یوم میں عروج کرتے ہیں ، اُس کی مقدار  پچاس ہزار سال ہے  !
قارئین  : ورقہ بن نوفل کا جواب رہنے دیں اور بتائیں ، کہ اللہ کا یوم   24 گھنٹے کا ہے یا زیادہ کا ؟

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭ جاری ہے ٭٭٭٭٭٭٭٭٭

انسانی کتابیں اور ترتیبِ ابلاغ -3


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔