میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 28 مئی، 2017

یومِ تکبیر 28 مئی 1998

11 مئی 1998ء کی سہ پہر، ساری دنیا اس وقت حیران رہ گئی جب اُس وقت کے بھارتی وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تین نیوکلیائی ٹیسٹ کرنے کا اعلان کیا۔ مزید حیرانی تب ہوئی جب اگلے دن دو اور ٹیسٹ کرنے کا اعلان کیا گیا۔ جوابی پریس کانفرنس میں پاکستانی وزیر خارجہ گوہر ایوب نے کہا کہ ہم ہندوستان کو جواب دینے کیلئے ہر وقت تیار ہیں۔

اُس وقت کے پاکستانی وزیراعظم، میاں محمد نواز شریف پر ایٹمی دھماکے کرنے کیلئے قوم کی طرف سے بے پناہ دباؤ تھا۔ دوسری طرف امریکہ سمیت، کم و بیش تمام اقوامِ عالم پاکستان پر ایٹمی دھماکہ نہ کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہی تھیں۔ اِس کے باوجود، پورے ملک میں یہ نعرہ گونج رہا تھا: ’’میاں صاحب! دھماکہ کردیجئے ورنہ قوم آپ کا دھماکہ کردے گی۔‘‘
15 مئی 1998ء کے روز کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا ایک اجلاس بلایا گیا۔ چونکہ ڈاکٹر اشفاق احمد صاحب بیرون ملک تھے، اس لئے کابینہ کو بھارتی ایٹمی دھماکوں کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کرنے اور جوابی پاکستانی تیاریوں کے بارے میں بتانے کی ذمہ داری بھی ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے کاندھوں ہی پر آن پڑی۔
ڈاکٹر ثمر مبارک نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ 11 مئی کو ہندوستان کا صرف ایک ہی ٹیسٹ کامیاب ہوا تھا؛ اور اگر پاکستان نے دھماکہ کرنے کا فیصلہ کرلیا تو پاکستان اٹامک انرجی کمیشن صرف دس دنوں میں ایٹمی دھماکہ کرنے کیلئے بالکل تیار ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کے آر ایل کی طرف سے بتایا کہ اگر انہیں یہ ذمہ داری دی جائے تو وہ تین مہینے کے اندراندر دھماکہ کرسکتے ہیں۔ کے آر ایل اور پی اے ای سی، دونوں تیار تھے لیکن پی اے ای سی کو دو وجوہ سے برتری حاصل تھی: ایک تو یہ کہ پی اے ای سی کے پاس کولڈ ٹیسٹ کا وسیع تجربہ موجود تھا؛ اور دوسری یہ کہ چاغی کی سائٹس، پی اے ای سی نے ہی تیار کروائی تھیں۔
16 مئی کو وزیر خارجہ نے اعلان کیاکہ پاکستان کی طرف سے دھماکہ تو یقینی ہے؛ صرف وقت کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ 17 مئی کو میاں نوازشریف نے ڈاکٹر اشفاق احمد اور ڈاکٹر ثمر مبارک کے ساتھ ایک ملاقات میں انہیں ایٹمی دھماکے کیلئے تیار رہنے کو کہا۔ 18 مئی کو چیئرمین پی اے ای سی کو دوبارہ وزیرا عظم ہاؤس بلا کر کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا فیصلہ سنادیا گیا: ’’دھماکہ کردیجئے۔‘‘ چونکہ چاغی میں چھ دھماکے کرنے کی گنجائش تھی، لہٰذا یہ فیصلہ کیا گیا کہ چھ ٹیسٹ ہی کئے جائیں گے۔
19 مئی کو پی اے ای سی کے 410 سائنسدانوں کی ایک ٹیم چاغی پہنچ چکی تھی۔ وہاں پہلے ہی سے ڈی ٹی ڈی، تھیوریٹیکل گروپ اور واہ گروپ کے لوگ موجود تھے۔ 24 مئی تک نیوکلیئر ڈیوائس کی تنصیب کرکے تاریں بچھائی جاچکی تھیں۔ 26 مئی تک جگہ کو مکمل طور پر سربند (sealed) کردیا گیا۔
27 مئی کو امریکی صدر بل کلنٹن نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو کی گئی، 25 منٹ تک جاری رہنے والی فون کال میں ان سے ایٹمی دھماکہ نہ کرنے کی گزارش کرتے ہوئے اس کہ بدلے میں پاکستان کو بیش بہا امداد دینے کا وعدہ کیا۔ لیکن اس سے بہت پہلے ہی 28 مئی 1998ء کی سہ پہر تین بجے ایٹمی دھماکہ کرنے کا وقت طے کیا جاچکا تھا۔
چاغی میں اس روز موسم صاف اور خوشگوار تھا۔ گراؤنڈ زیرو (ایٹمی دھماکے والے علاقے) سے متعلقہ لوگوں کے سوا تمام افراد کو ہٹالیا گیا تھا۔ 2 بج کر 30 منٹ پر پی اے ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر اشفاق احمد، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جاوید ارشد مرزا اور فرخ نسیم بھی وہاں موجود تھے۔ تین بجے تک ساری کلیئرنس دی جاچکی تھی۔ پوسٹ پر موجود بیس افراد میں سے محمد ارشد کو، جنہوں نے ’’ٹرگرنگ مشین‘‘ ڈیزائن کی تھی، بٹن دبانے کی ذمہ داری دی گئی۔ تین بج کر سولہ منٹ پر محمد ارشد نے جب ’’اﷲ اکبر‘‘ کی صدا بلند کرتے ہوئے بٹن دبایا تو وہ گمنامی سے نکل کر ہمیشہ کیلئے تاریخ میں امر ہوگئے۔
بٹن دباتے ہی سارا کام کمپیوٹر نے سنبھال لیا۔ اب ساری نگاہیں دس کلومیٹر دور پہاڑ پر جمی ہوئی تھیں۔ دل سہمے ہوئے لیکن دھڑکنیں رک گئی تھیں۔ بٹن دبانے سے لے کر پہاڑ میں دھماکہ ہونے تک صرف تیس سیکنڈ کا وقفہ تھا؛ لیکن وہ تیس سیکنڈ، باقی ساری زندگی سے طویل تھے۔ یہ بیس سال پر مشتمل سفر کی آخری منزل تھی۔ یہ بے یقینی اور شک کے لمحات سے گزر کر، مشکلات اور مصائب پر فتح پانے کا لمحہ تھا۔
جنرل ذوالفقار نے ایٹمی دھماکے کے حوالے سے اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک روشن دن تھا، جب وہ ایٹمی دھماکوں کیلئے بلوچستان کے شہر چاغی پہنچے ۔ 28 مئی 1998ء کو وہ اس پہاڑ کے سامنے کھڑے تھے جس کے اندر بنائے جانے والے ایک غار میں دھماکہ کیا جانا تھا ۔ اس ٹنل کی مخالف سمت میں وہ ایک جگہ پر اکٹھے ہوئے، اٹامک انرجی کمیشن کے ایک جونئیر اہلکار جوعمر میں ان سب سے بڑے تھے، ان سے کامیابی کی دعا کروائی گئی۔ رقت آمیز دعا کے بعد انہی سے بٹن دبانے کی استدعا کی گئی ۔انہوں نے بٹن دبایا ۔ بٹن دبانے اور ایٹمی دھماکے میں گیارہ سیکنڈ کا تاخیری وقت رکھا گیا تھا ۔ یہ گیارہ سیکنڈ اس دن اتنے لمبے ہو گئے کہ انہیں گیارہ ماہ اور گیارہ سال معلوم ہو رہے تھے۔
انہوں نے کہا،’جب ایٹمی دھماکہ ہوا تو ہمارے پاوں تلے موجود زمین ہل گئی۔ یہ ریکٹر سکیل پر چارسے چھ تک کی شدت کا ایک زلزلہ تھا ۔ ہمارے سامنے موجود کالے
رنگ کا مضبوط گرینائڈ پہاڑ پہلے گرے رنگ میں تبدیل ہوا پھر اس کا رنگ آف وائٹ ہو گیا ۔ اس پہاڑ میں ایک ملین سینٹی گریڈ کا ٹمپریچر پیدا ہوا۔ اس کے باوجود کوئی نیوکلئیر تابکاری وہاں سے خارج نہیں ہوئی۔‘

جونہی پہاڑ سے دھوئیں اور گرد کے بادل اٹھے، آبزرویشن پوسٹ نے بھی جنبش کی۔ پہاڑ کا رنگ تبدیل ہوا اور ٹیم کے ارکان نے اپنی جبینیں، سجدۂ شکر بجالاتے ہوئے خاک بوس کردیں۔ اب وہ لمحہ آن پہنچا تھا جب پاکستان، دنیا کی بڑی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرسکتا تھا۔ یہ لمحات پاکستان کی تاریخ میں عزت، وقار اور شان و شوکت کا تاج بن کر تاریخ میں رقم ہورہے تھے․․․ پاکستان بالآخر مسلم دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن چکا تھا۔

سہ پہر تین بجے میاں نواز شریف نے قوم سے اپنے خطاب کا آغاز کیا: ’’آج ہم نے پانچ کامیاب نیوکلیائی دھماکے کرکے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے سنہرا باب ہے۔‘‘ انہوں نے اس پر پوری قوم، پاکستانی سائنسدانوں اور باالخصوص پی اے ای سی اور کے آرایل کے سائنسدانوں کوہدیہ تہنیت پیش کیا۔


ہم نے ایٹم بم تو بنالیا، لیکن ملکی سالمیت آج بھی خطرے میں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر وطن عزیزکے دفاع کو مضبوط بنائیں اور اس کے خلاف ہونے والی سازشوں کے سامنے اسی جذبے کے ساتھ سینہ سپر ہوجائیں، کہ جس جذبے نے ایٹمی دھماکوں کو ناممکن سے ممکن بنادیا تھا۔



ماہنامہ گلوبل سائنس، شمارہ جولائی 2013ء میں شائع شدہ تحریر
بشکریہ :Sanaullah Khan Ahsan

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔