میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 1 مئی، 2017

ملک ریاض بحریہ ٹاؤن: کا طریقۂ واردات!

 وہ جب بھی کسی نئی ہاؤسنگ اسکیم کا اعلان کرتا ہے تو اس کے لئے ابتدائی ادائی (یعنی ڈاون پے منٹ )اور اس کے ساتھ وصول ہونے والی پہلی قسط کی مالیت بہت کم رکھتا ہے ۔
جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ایک عام آدمی اس اسکیم کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور سوچتا ہے کہ اتنی کم ابتدائی ادائیگی سے وہ پلاٹ لینے والوں کی دوڑ میں شامل ہو سکتا ہے۔

یعنی اگر انہوں نے مارکیٹ میں پانچ مرلے یعنی 125 گز کا پلاٹ اگر بیس لاکھ روپے میں بیچنا ہے تو وہ اس کی ابتدائی قیمت کو کبھی بھی ایک لاکھ سے اوپر نہیں جانے دے گا ۔ اب وہ کرتا یہ ہے کہ اگر اُس نے ایک اسکیم میں ایک ہزار پلاٹ کاٹنے ہیں تو وہ ان ایک ہزار پلاٹوں کے عوض دس ہزار فائلیں بناتاہے  اور ان دس ہزار فائلوں میں تقریباً اڑھائی سے تین ہزار فائلیں اپنے ان پالتو 2600 سے زائد پراپرٹی ڈیلرز میں تقسیم کر دیتا ہے ۔ جو پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ پراپرٹی ڈیلر پورے ملک میں ماحول بناتے ہیں اور عام لوگوں کو قائل کرتے ہیں کہ اس اسکیم سے تو گویا تیل ہی نکل آنا ہے اس لئے اسے سرمایہ کاری کے طور پر ہی سہی خریدنا عین عقل مندی ہے۔
ملک ریاض ملک بھر میں اپنے پالتو چھبیس سو سے زائد پراپرٹی ڈیلرز کے ذریعے کسی بھی ہاؤسنگ اسکیم کو ایک فراڈ کے ذریعے کامیاب کراتا ہے ۔
یہ پراپرٹی ڈیلر پچاس ہزار کے عوض خریدی گئی اس فائل سے زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے لئے اِسے زیادہ سے زیادہ مہنگا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں یہ پچاس ہزار کی ابتدائی ادائیگی والی فائل کو افواہوں کے بگولے میں بٹھا کر ، کم از کم دس لاکھ روپے کی بلندی تک لے جاتے ہیں۔
اس دوڑ میں جیسے ہی فائل آٹھ لاکھ کی سطح پار کرتی ہے تو ملک صاحب بذاتِ خود باقی سات ہزار فائلیں بیچنے کے لئے مارکیٹ میں اتر آتا ہے ۔ اور یوں ایک ایسا کاغذ جس کے پیچھے کوئی اثاثہ موجود ہی نہیں وہ مارکیٹ میں مہنگے داموں بک جاتا ہے۔
جب وہ اپنا یہ سارا سودا بیچ لیتا ہے تو پھر ایک دم اسی سکیم کے بارے میں منفی خبریں مارکیٹ میں پھیلادی جاتی ہیں ۔ مثلاً یہ کہ ،
ترقیاتی کام نہیں ہو رہے۔
فلاں سیاست دان ملک کے خلاف ہو گیا ہے وغیرہ وغیرہ
اور یہ خبریں پھیلانے کا سب سے بڑا ذریعہ یہ پراپرٹی ڈیلرز ہی ہوتے ہیں۔
اس کے بعد سب سے منفی خبر یہ ہوتی ہے کہ پلاٹوں کی باقاعدہ فائلیں کھلوا کر ادائیگی کا شیڈول بحریہ ٹاون کی انتظامیہ سے طے کر لیا جائے اور اس کے بڑے بڑے اشتہارات اخبارات میں چھپوائے جاتے ہیں۔
اب اعصاب کی جنگ شروع ہوتی ہے۔ کئی لوگوں نے سرمایہ کاری کے جوش میں ایک سے زائد اور بعض نے درجنوں فائلیں خرید لی ہوتی ہیں، جب کہ ان کی اوقات ایک فائل کی قسطیں ادا کرنے کی نہیں ہوتی ۔ لہٰذا وہ یہ کرنے کی کوشش کرتی ہیں کہ کچھ فائلیں بیچ کر بقیہ کی قسط ادا کر دیں، لیکن ہوتا یہ ہے کہ کچھ عرصہ پہلے وہی پراپرٹی ڈیلر جو اس فائل کو دس لاکھ روپے میں بھی سستا کہہ کر سرمایہ داروں کو تھما رہے ہوتے ہیں وہ اب یہی فائل دو لاکھ روپے میں بھی خریدنے کے روادار نہیں ہوتے۔ بہت سی صورتوں میں تو یہ فائل اپنی اصل قیمت (ہمارے اوپر والی مثال میں پچاس ہزار روپے میں ہی ) بک پاتی ہے۔
اب ملک ریاض اپنے ایجنٹ پراپرٹی ڈیلروں کو رو بہ عمل لاتا ہے اور دس لاکھ روپے میں بیچی گئی فائل کو پچاس ہزار روپے میں واپس خرید کر ضائع کرنا شروع کر دیتا ہے ۔ 
 لگانا شروع کر دیتا ہے ۔
اب کچھ لوگ ناگزیر وجوہات کی بنا پرقسطیں نہیں دے پاتے اور انتظامیہ ان کو قطعاً نہیں پوچھتی۔ لیکن جب وہ انتظامیہ سے رابطہ کرتے ہیں تو انہیں بتایا جاتا ہے کہ ہم نے تو یہ فائل پچاس ہزار روپے میں بیچی تھی، آپ نے دس لاکھ میں خریدی تو اس میں ہمارا کیا قصور؟ آپ نے ساڑھے نو لاکھ روپے کا پریمئم ادا کیا تھا ، ہمارے پاس آپ کے پچاس ہزار روپے محفوظ ہیں جو پندرہ یا بیس فی صد کٹوتی کے بعد آپ کو واپس مل سکتے ہیں۔
اس صورت میں زیادہ امکان تو یہی ہوتا ہے کہ جب تک ان کی ایک ہزار پلاٹوں والی ا سکیم اپنے اصلی خد و خال میں واضح ہو کر پلاٹوں کی قرعہ اندازی کے مرحلے تک آتی ہے تو مارکیٹ میں ایک ہزار فائلیں ہی باقی رہ جاتی ہیں۔ لیکن اگر کچھ فائلیں زائد بھی ہوں تو پھر آواز لگا دی جاتی ہے کہ وہ زائد لوگ اپنی فائلیں پہلے سے بنی ہوئی کسی اسکیم میں ایڈجسٹ کروا لیں (جیسا کہ ڈی ایچ اے ویلی کے دس ہزار پلاٹوں کو بحریہ ٹاون کراچی اور بحریہ ٹاون راولپنڈی میں ایڈجسٹ کروا لینے کے اشتہارات آج کل اخباروں کی زینت بن رہے ہیں) ۔
یوں جن ایک ہزار یا اس سے کچھ زائد لوگوں کو پلاٹ مل جاتے ہیں وہ پورے شہر میں ملک ریاض کی عظمت اور دریا دلی کے گن گانے کے لئے موجود رہتے ہیں اور سینکڑوں راتب خور پراپرٹی ڈیلر ان کے علاوہ۔ اور اس پر مستزاد میڈیا پر چلنے والے اشتہارات کی بدولت اِس کی عظمت کا سورج ہمیشہ سوا نیزے پر ہی رہتا ہے۔اور لٹنے والا اپنی قسمت کو کوستا رہتا ہے۔

مزید پڑھیں :صحافت لیکس
اس میں ایک اور اہم بات یہ بھی ہے اپنی ا سکیم میں اس جوئے کو مزید معتبر بنانے کے لئے وہ کسی نہ کسی حاضر سروس جرنیل کا نام بھی استعمال کرنے سے باز نہیں آتے۔ مشرف دور میں لاہور میں متعین جرنیل صاحبان کو فائلیں تحفے میں دی گئیں۔ فرض کیا جرنیل صاحب کو تحفے میں دو فائلیں دی گئیں لیکن ان کے نام سے دو سو فائلیں بیچی گئیں۔ اب خریدنے والا تو یہی سمجھے گا حاضر سروس جرنیل دو نمبری کیسے کر سکتا ہے۔ اور یوں ان کے کاروبار کی ساکھ کو وردی کا سہارا بھی دستیاب ہو جاتا ہے۔
تو اس کیس میں وہ ہزاروں فائلیں اور ان کے بدلے سٹّے بازی سے کمایا گیا پیسہ ہی ان کی اصل کمائی ہوتی ہے اور وہ پلاٹوں کے خریداروں کے پیسے ایمانداری سے ا سکیم کی ترقی پر لگا دیتے ہیں اور ان کی ا سکیم باقی اسکیموں کے مقابلے میں بہت بہتر صورت میں سامنے آ جاتی ہے

اب آپ بتائیں کتنے ڈبل شاہ اِس ملک ریاض کی اکلوتی شلوار والی جیب میں سماسکتے ھیں ؟


٭٭٭٭ ٭٭٭٭

صحافت لیکس

شیشے کا گھر اور ہاتھ میں پتھر 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔