میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار, مئی 14, 2017

سوہانجنا ۔ کرشماتی درخت

سوہانجنا (مورِنگا) ۔ جنوبی ایشیا اور مشرق بعید کے ممالک میں عام پایا جاتا ہے جبکہ افریقہ کے کچھ ممالک میں بھی ملتا ہے۔ اور  کرشماتی درخت کہلاتا ہے۔ 
 
سوہانجنا کے درخت کا ہر حصہ اپنی اہمیت رکھتا ہے۔ ہر حصے کو غذا کو طور پہ استعمال کیا جا سکتا ہے اور اسکی کاشت بھی بآسانی سخت حالات میں ہو سکتی ہے۔ اس طرح دنیا میں خشک سالی سے پیدا ہونے والی غذائی کمی کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک بہترین انتخاب ہے۔

 اسکے غذائی خواص کے بارے میں سینہ بہ سینہ سفر کرنے والی اکثر باتیں درست ثابت ہوئیں۔ آج کی دنیا میں اس درخت کے اوپر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ ہندو آیور ویدک میں یہ صدیوں سے استعمال ہورہا ہے ۔

غذائی خواص :

٭ -  دودھ کے مقابلے میں سترہ گنا زیادہ کیلشیئم موجود ہے لیکن تحقیق کہتی ہے کہ پتوں اور تنے میں پایا جانے والا کیلشیئم، کیلشیئم آگزیلیٹ کی شکل میں ہوتا ہے اورانسانی جسم میں جذب ہونے کے قابل نہیں ہوتا۔ 

٭ - دہی کے مقابلے میں نو گنا زیادہ پروٹین ہوتا ہے۔ جانوروں کو جب غذا کے طور پہ استعمال کرایا گیا تو انکے وزن میں بتیس فی صد اضافہ دیکھا گیا جب کہ دودھ میں تینتالیس سے پینسٹھ فی صد اضافہ سامنے آیا۔
٭ -  گاجر کے مقابلے میں چار گنا زیادہ وٹامن اے پایا جاتا ہے۔
٭ -  کیلے کے مقابلے میں پندرہ گنا زیادہ پوٹاشیئم پایا جاتا ہے۔
٭ -  پالک کے مقابلے میں انیس گنا زیادہ فولاد پایا جاتا ہے۔
اسکے تازہ پتوں کو پالک کی طرح پکایا جا سکتا ہے یعنی سلاد سے لیکر سالن تک بنایا جا سکتا ہے ۔
 
٭ -  خشک پتوں کا سفوف،  سوپ بنانے میں بھی استعمال ہوتا اس کی پھلیاں بھی پکائی جاتی ہیں۔ ٭ - جڑوں کو بھی غذا کے طور پہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جڑوں میں ایک زہریلا الکلائیڈ اسپائروچن پایا جاتا ہے۔ لیکن اسکی مقدار خاصی کم ہوتی ہے اس کے برے اثرات جڑوں کو بہت زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے ہی سامنے آ سکتے ہیں۔
٭ - بچوں کو دودھ پلانے والی مائیں اگر اسے اپنی غذا میں شامل رکھیں تو دودھ کی کمی نہیں ہونے پاتی اور وہ صحت بخش ہوتا ہے۔ اس کے لئے انہیں تین بڑے کھانے کے چمچے اسکے پتوں کا سفوف لینا ہوگا۔
دن بھر میں اسکے پتوں کا پچاس گرام سفوف پورے دن کی غذائ ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کافی ہے۔ اس طرح جسم میں غذا کے مختلف اجزاء کی کمی نہیں ہو پاتی۔ جس کے لئے گوشت یا پھل جیسی قیمتی اشیائے خوراک استعمال کرنے کی ضرورت نہیں رہتی اور ایک غریب شخص اپنی غذائی ضروریات بآسانی پورا کر سکتا ہے۔
٭ -  بیجوں سے تیل حاصل کیا جاتا ہے ۔ جبکہ تیل نکالنے کے بعد جو بیجوں کی کھلی بچ جاتی ہے اسے پانی صاف کرنے کے کام لایا جا سکتا ہے۔
٭ - اسکی انتہائ دلچسپ خوبی اسکی پانی صاف کرنے کی صلاحیت ہے جس سے پاکستان سمیت جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک کے اکثر لوگ ناواقف ہیں۔
پانی صاف کرنے کے لئے بیجوں کو خشک کر کے اس کے چھلکوں کو ہلکا ہلکا کوٹ کر اتار لیا جاتا ہے، حاصل ہونے والی گری کو کوٹ کر اسکا سفوف تیار کیا جاتا ہے۔ اس سفوف کے پچاس گرام سے ایک لٹر پانی صاف کیا جا سکتا ہے۔ پانی صاف کرنے کے لئے سفوف کو پانی میں اچھی طرح ہلائیں اور پھر تھوڑی دیر کے لئے چھوڑ دیں۔ بس پانی صاف۔

جتنا زیادہ ہوسکے اپنے گھروں میں اور خالی جگہوں پر یہ درخت لگائیں اور دوسروں کو اِن کے فوائد بتا کر لگانے کی ترغیب دیں۔
پینے کا صاف پانی ہمارے ملک کے بنیادی مسائل میں سے ایک ہے۔ اسکے لئے اس ویڈیو کے بیان کئے گئے طریقے سے اپنے اردگرد کے لوگوں کو آگاہ کریں۔

  ہر سال لاکھوں لوگ پیٹ کے امراض کا شکار ہوتے ہیں۔ اگر انہیں ان بیجوں کا سفوف بنانا سکھا دیا جائے تو کم از کم اس مشکل سے تو انہیں نکالا جا سکتا ہے۔ پتوں کا محفوظ شدہ سفوف خوراک کی تنگی کے زمانے میں استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔
اس درخت کو اگانےکے دو آسان طریقے ہیں پہلا اسکے بیج کے ذریعے اور دوسرا اسکی قلموں کے ذریعے۔ درخت میں پہلے سال پھول آجاتے ہیں دوسرے سال اسکی فصل زیادہ اچھی ہوتی ہے۔ اگر اسے بڑھتا چھوڑ دیں تو یہ دس میٹر تک بلند درخت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اسکی کانٹ چھانٹ کرکے اسے ایک دو میٹر تک اونچا رکھتے ہیں۔ تاکہ سائز اتنا رہے جہاں تک ہاتھ جا سکے۔
سونجنا کے مختلف حصوں کے مختلف طبی اور سائنسی فوائد ہیں جنکی تفصیلات انگریزی میں سب سے نیچے درج ہے ۔

اس کے پتوں کا سفوف کیپسول کی شکل میں بھی دستیاب ہے۔ 





Vital Nutrients:

  • Vitamin A, B1, B2, B3, B6, B7, C, D, E & K.

Amino Acids:

  • Isoleucine – An amino acid that promotes natural energy and brain health.
  • Leucine – An amino acid that works with isoleucine to contribute to alertness and high energy.
  • Lysine – Helps the bones absorb calcium, helps to create antibodies, regulates hormones, and balances nutrients. Also reduces viral growth and helps to build collagen in bones.
  • Methionine – Supplies sulfur to the body, lowers cholesterol, increases the liver’s production of lecithin. It reduces the fat stores in the liver, protects the kidneys, and keeps skin, hair and nails healthy.
  • Phenylalanine – Helps the brain’s nerve cells communicate by producing the needed chemicals that support this function. This amino acid reduces hunger pangs, improves memory, and keeps you alert. It also boosts mood.
  • Threonine – This amino acid assists metabolism and helps prevent fat from building up in the liver. It also helps the body to digest food and keeps the intestinal tract healthy.
  • Tryptophan – This amino acid supports the immune system, lessens depression, and insomnia, and even helps with migraine headaches. It works with lysine to reduce ‘bad’ cholesterol and also reduces arterial spasms which can cause heart attack.
  • Valine – Helps to promote a coordinated body and a calm mind.
There are also non-essential amino acids is Moringa, including, alanine, arginine, aspartic acid, cysteine, glycine, histidine, serine, proline, tyrosine, and glutamic acid. These components carry out vital activities in our body from wound healing to immune boosting and cancer tumor suppression, to muscle and tissue growth.
Here are the top six proven moringa benefits.
  • Provides Antioxidants and Anti-Inflammatory Compounds.
  • Balances Hormones and Slows the Effects of Aging.
  • Helps Improve Digestive Health.
  • Protects and Nourishes the Skin.
  • Helps Stabilize Your Mood and Protects Brain Health.
  • To date, over 1,300 studies, articles and reports have focused on moringa benefits and this plant’s healing abilities that are important in parts of the world that are especially susceptible to disease outbreak and nutritional deficiencies. Research shows that just about every part of the moringa plant can be utilized in some way, whether it’s to make a potent antioxidant tea or produce an oily substance that lubricates and nourishes the skin. Throughout the world, moringa is used for treating such widespread conditions as: (1)
  • inflammation-related diseases
  • cancer
  • diabetes
  • anemia
  • arthritis and other joint pain, such as rheumatism
  • allergies and asthma
  • constipation, stomach pains and and diarrhea
  • epilepsy
  • stomach and intestinal ulcers or spasms
  • chronic headaches
  • heart problems, including high blood pressure
  • kidney stones
  • fluid retention
  • thyroid disorders
  • bacterial, fungal, viral and parasitic infections
Moringa is an excellent source of protein, vitamin A, potassium, calcium and vitamin C. Just how strong is moringa? Gram for gram, moringa contains:
  • two times the amount of protein of yogurt
  • four times the amount of vitamin A as carrots
  • three times the amount of potassium as bananas
  • four times the amount of calcium as cows’ milk
  • seven times the amount of vitamin C as oranges
Moringa leaves are not only an incredibly robust source of protein, they provide nine essential amino acids required for human protein synthesis: histidine, leucine, lysine, methionine, phenylalanine, threonine, tryptophan and valine. This is one reason why organizations like the World Health Organization rely on moringa to supplement low-calorie diets and prevent deficiencies.
  •  

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔