میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 14 مئی، 2017

سوہانجنا یا مورِنگا ۔غذائیت سے بھرپوردرخت

سوہانجنا (مورِنگا) ۔ کرشماتی درخت کہلاتا ہے۔ جو غذائیت سے بھرپور ہے ۔
درخت کے پتے ، پھلیاں اور جڑ انسان اور جانوروں کی بہترین غذا ہے۔پتے ذائقے میں مولی  کے پتوں کی طرح ہوتے ہیں ،۔ دنیا میں خشک سالی سے پیدا ہونے والی غذائی کمی کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک بہترین انتخاب ہے۔ 
۔
غذائی خواص :
٭- دودھ کے مقابلے میں 17 گنا زیادہ کیلشیئم موجود ہے جو پتوں اور تنے میں پایا جاتا ہے۔ 
 
٭- دہی کے مقابلے میں نو گنا زیادہ پروٹین ہوتا ہے۔ جانوروں کو جب غذا کے طور پہ استعمال کرایا گیا تو ان کے وزن میں بتیس فی صد اضافہ دیکھا گیا جب کہ دودھ میں 43 سے 65 فی صد اضافہ سامنے آیا۔ 

 





٭ -گاجر کے مقابلے میں چار گنا زیادہ وٹامن اے پایا جاتا ہے۔  - 
٭ -مالٹے  کے مقابلے میں دو  گنا زیادہ وٹامن سی  پایا جاتا ہے۔


٭ -کیلے کے مقابلے میں 15 گنا زیادہ  پوٹاشیم  پایا جاتا ہے۔


٭ -پالک کے مقابلے میں 19 گنا زیادہ فولاد پایا جاتا ہے۔
اس کے تازہ پتوں کو پالک کی طرح پکایا جاتا ہے۔ یہ سلاد سے لیکر سالن میں استعمال ہوتا ہے ، اور کچا بھی کھایا جاتا ہے ۔


٭ -خشک پتوں کا سفوف،  سوپ بنانے میں بھی استعمال ہوتا اس کی پھلیاں بھی پکائی جاتی ہیں۔   



٭ -جڑوں کو بھی غذا کے طور پہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ بالکل مولی کی طرح ہوتی ہیں ۔  عموماً اچار بنا کے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ 

 ٭ - بچوں کو دودھ پلانے والی ماؤں اور بچوں کے لئے سود مند ہے ،  اگر  وہ سوہانجنا  کو  اپنی غذا میں شامل رکھیں تو دودھ کی کمی نہیں ہوگی  اور وہ صحت بخش ہوتا ہے۔ اس کے لئے انہیں تین بڑے کھانے کے چمچے اس کے پتوں کا سفوف لینا ہوگا۔
٭- ڈائیٹنگ کرنے والے افراد کے لئے ، اس کے پتوں کا  ایک کھانے کے چمچ  برابر  سفوف پورے دن کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کافی ہے۔ اس طرح جسم میں غذا کے مختلف اجزاء کی کمی نہیں ہو پاتی۔
٭-  گوشت یا پھل جیسی قیمتی اشیائے خوراک سے حاصل ہونے والے  اجزاء   کا نعم البدل ہے   ۔

٭-رمضان میں سحری کے بعد  دن بھر بھوک کی کیفیت سے بچنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔
  ٭ -  اِس کے بیجوں سے تیل حاصل کیا جاتا ہے ۔
٭- تیل نکالنے کے بعد جو بیجوں کی کھلی بچ جاتی ہے اسے پانی صاف کرنے کے کام لایا جا سکتا ہے۔
٭ -
پانی صاف کرنے کے لئے بیجوں کو خشک کر کے اس کے چھلکوں کو ہلکا ہلکا کوٹ کر اتار لیا جاتا ہے، حاصل ہونے والی گری کو کوٹ کر اس کا سفوف تیار کیا جاتا ہے۔ اس سفوف کے پچاس گرام سے ایک لٹر پانی صاف کیا جا سکتا ہے۔ پانی صاف کرنے کے لئے سفوف کو پانی میں اچھی طرح ہلائیں اور پھر تھوڑی دیر کے لئے چھوڑ دیں۔ بس پانی صاف۔





٭ - ہر سال لاکھوں لوگ پانی کی وجہ سے ،  پیٹ کے امراض کا شکار ہوتے ہیں۔سوہانجنا  کے  بیجوں کا سفوف  سے پانی صافکر کے وہ کم از کم پیٹ کی بیماری سے چھٹکارا  حاصل کر سکتے ہیں ۔

اس درخت کو اُگانےکے دو آسان طریقے ہیں : 
٭- اس کے بیج کے ذریعے۔  
٭-  اس کی قلموں کے ذریعے۔  
درخت میں پہلے سال پھول آجاتے ہیں دوسرے سال اس کی فصل زیادہ اچھی ہوتی ہے۔ اگر اسے بڑھتا چھوڑ دیں تو یہ دس میٹر تک بلند درخت کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس کی کانٹ چھانٹ کرکے اسے ایک دو میٹر تک اونچا رکھتے ہیں۔ تاکہ سائز اتنا رہے جہاں تک ہاتھ جا سکے۔  
سونجنا کے مختلف حصوں کے مختلف طبی اور سائنسی فوائد ہیں : ۔

اس کے پتوں کے  سفوف کو  کیپسول میں ڈال کر کھائیں ۔
کئی بیماروں کے لئے اکسیر ہے ۔ 



نوٹ:اِس مضمون کی وجہ تسمیہ  بنی ، بڑھیا کی سہیلی کا بہاولپور سے سوہانجنا کے پتے ابال کر اور فریز کرکے لانا اور بڑھیا کا پکانا ،  کھانے کے بعد یاد نہیں کہ اگلا کھانا کھایا یا نہیں ، لیکن چونکہ وہ بڑھیا کادن تھا ، لہذا بغیر چوں چرا  ،بی بے  ، بابے  کی طرح سوہانجنا کا سالن کھا لیا   ۔
پھر بڑھیا  نے دبئی میں انڈین سوہانجنا پکا یا  ، وہ صرف بوڑھے نے کھایا  اور تین دن تک کھایا۔کیوں  کہ  بہو نے تو صاف انکار کردیا ، بڑھیا نے تھوڑا سا کھایا ، پھر ہاتھ کھینچ لیا ۔لیکن سُنی سنائی تعریفیں اب بھی جاری ہیں ۔
٭٭٭٭٭ ٭٭٭٭٭٭٭
  ٭٭٭٭٭٭٭جاری ہے ٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پہلے مضامین  

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔