میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 17 مئی، 2017

رسول اللہ، منافق اور راجف مجاور !

منافقین کے لئے عورت کا پردہ سب سے اہم ہوتا ہے ، کیوں کہ اُن کے دل کا خناس کہتا ہے ، کہ اگر عورت بے پردہ نہ ہو تو ہم بُرائی نہیں کر سکتے ۔ 

 1422 ہجری کے حج پر میں اور بڑھیا گئے ، کیا روح پرور سماں تھا ، مرد و زن اپنے اپنے اللہ کے حضور میں سربسجود اپنے اپنے رسول کی ہدایت کے مطابق سر بسجود تھے ۔ گریہ و زاریاں ، مناجات ، تکبیروں سے فضاء میں ملکوتی بھنبھناہٹ سنائی دیتی تھی ۔ ہم دونوں میاں بیوی بھی اپنے گناہوں کو آنسوؤں سے دھو رہے تھے ، محرم و غیر محرم ، مر دو زن  ایک دوسرے کے اتنے قریب تھے  کہ بیان کیا جائے تو توہینِ عبادت کے مرتکب ہونے کا طعنہ مل سکتا تھا  ۔ بڑھیا کو میں نے اپنے سامنے رکھا تھا اور  بلکہ پکڑا ہوا تھا ۔ طواف اور سعی کے تمام ارکانِ مذہب ادا کرنے کے بعد سیڑھیوں پر بیٹھے تھے ،  کہ اچانک بھگدڑ مچ گئی ، کئی افراد ایک  حُرُمٌ ﴿5:1کو پیٹ رہے تھے ، کہ شرطے آگئے اور اُس طواف کرتے انسان کو پکڑ کر باہر لے گئے ۔
بعد میں معلوم ہوا ، کہ اُس کے سامنے طواف کرنے والی حُرُمٌۃ  عورت  نے اُس کی کج روی کی شکایت کی ۔ 
" یہ کیسے ممکن ہے صلاح الدین کیا الشیطان یہاں بھی موجود  ہے؟  " میں نے حج کے ساتھی سے پوچھا
" یا اتنا پھنس کے طواف  کرنے کی وجہ سے عورت کو غلط فہمی ہوئی ہے  ؟ "
" نہیں میجر صاحب : یہاں اکثر ایسے واقعات ہوتے ہیں " صلاح الدین نے بتایا " اچھے لوگوں میں خبیث الفطرت لوگ بھی ہوتے ہیں "
" پھر تو اُنھیں قتل کرنا چاھئیے " میں نے جواب دیا ۔
" بہت سے لوگ قتل ہوجائیں گے ، سر جی  " صلاح الدین نے ہنستے ہوئے کہا 
" صلاح الدین ، میراموہوم سا شک تھا ، لیکن اب یقین ہو گیا ہے ، کہ اللہ  نے عورتوں کو   مردوں کے ساتھ طواف کرنے کی اجاز ت نہیں دی  ! "  میں نے جواب دیا " کیوں کہ  اِس آیت میں ، اللہ نے الناس کو اُن کی استطاعت کے میعار کے مطابق  بلاتا ہے النساء کو نہیں   اور عورتوں میں یہ استطاعت نہیں ہوتی "۔
آیات پڑھیں !



إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ  ﴿3:96

فِيهِ آيَاتٌ بَيِّـنَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاهِيمَ وَمَن دَخَلَهُ كَانَ آمِنًا وَلِلّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً وَمَن كَفَرَ فَإِنَّ الله غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِينَ ﴿3:97

میرے دماغ میں سوچ آئی : "  طواف کے جھٹکوں میں عورت کے کولہوں سے  خوابیدہ نفسِ مردانہ   کا تصادم ہوا ،  کَجی عورت کے دل میں پیدا ہوئی ۔ وہ بے چارہ حاجی ، مُفت میں پِٹا اور بدنام ہوا ، اور یہ ہوتا رہے گا ،  جب تک یہاں سے مخلوط طواف ختم نہیں ہوتا ۔ یا عورتوں کے لئے بالکل الگ انتظام نہیں ہوتا " 

پاکستان سے میں مزید چار دفعہ ، حج  اور کئی دفعہ عمروں پر قافلے کے ساتھ گیا ۔ مناسکِ حج و عمر ہ کی تربیت کراتے ہوئے ،  مُفت پور کے مُفتی کے دو فتوے  زیادہ مقبول ہوئے ،
قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ﴿24:30 
 1- طواف کسی عورت کے پیچھے نہ کریں  ۔ ممکن ہے کہ عزتِ سادات خاک میں مل جائے ۔
٭- طواف کرتے وقت اپنا بیگ اتنا نیچے کریں کہ آپ کی ناف تک آجائے ، تاکہ آپ کے سامنے آپ کے قد کے برابر طواف کرتے ہوئے ، مرد کے کولہوں سے آپ نہ ٹکرائیں ۔

 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَقْرَبُواْ الصَّلاَةَ وَأَنتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُواْ مَا تَقُولُونَ وَلاَ جُنُبًا إِلاَّ عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُواْ وَإِن كُنتُم مَّرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِّنكُم مِّنَ الْغَآئِطِ أَوْ لاَمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُواْ مَاءً فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُواْ بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا ﴿4:43

3- اگر طواف کرتے وقت کوئی عورت دائیں ، بائیں یا پیچھے سے آپ کو مَس کرے تو پریشان نہ ہوں ۔ لیکن اگر آپ نے سامنے یا دائیں بائیں جاتی ہوئی عورت کو مَس کیا تو آپ کو دوبارہ وضو کرنا پڑے گا ۔
اب چونکہ مُفتیانِ وقت ، کی انّا پر ضرب پڑتی تھی تو وہ  کہتے :
" یہ میجر صاحب کی رائے ہے ہمارے خیال میں وضو کی کوئی ضرورت نہیں " 

سوال و جواب میں، میں یہ وضاحت دیتا ،
" آپ لاکھوں روپیہ اور وقت صرف کر کے  اللہ کے لئے حج کرنے جارہے ہو ۔  جہاں    
رَفَثَ، الْفَحْشَاءِ اور  الْمُنكَرِ ممنوع ہے ۔ مؤخر الذکر   صرف الصَّلاَةَ سے ہی رُک سکتے ہیں  اور   اقام الصَّلاَةَ کی پہلی سیڑھی وضو  ہے ۔  تو کیا یہ بہتر نہیں کہ اپنی   الصَّلاَةَ کو رائیگاں جانے سے بچانے کے لئے  وضو کر لیں  یا پھر  طواف کرتی عورتوں( غیر محرم  ) سے دور رہیں  !"
مسجد نبوی اور حدودِ حرم میں جوان ، ادھیڑ عمر  اور بوڑھی  خواتین  پاکستانی لباس میں ہوتیں ۔ چہروں اور جسموں پر الْمُؤْمِنِينَ کی  نظر پڑتی لیکن مکمل ، غضّ البصر کے ساتھ وہ جس کی اللہ اور رسول اللہ  مؤمنوں کو حکماً تلقین کر رہے ہیں ۔
باقی رہے
الْمُنَافِقِينَ اورمَلْعُونِينَ   ۔ اُن کے لئے اللہ کے احکام قطعی موجود ہیں ۔ جن پر عمل کروانا حکومتِ وقت کا کام ہے ، اگر وہ اسلامی ہے ۔
لیکن حکومت کا کام زبردستی پردہ کروانا نہیں بلکہ اللہ کی حکومت کا دعویٰ کرنے والوں کو ، منافق، راجف اور رسول اللہ کے مجاور بننے کی آڑ میں چھپنے والوں کو نہ صرف شہر بدر کرنا چاہئیے بلکہ اگر دوبارہ شہر میں آئیں تو قتل کئے جائیں :
وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا [33:58]
اور وہ لوگ جو  الْمُؤْمِنِينَ اور الْمُؤْمِنَاتِ کو    جو  اُنہوں نے نہیں کمایا  ( طعنوں کی ) اذیت دیتے ہیں ، پس انہوں (جھوٹی اذیت دینے والوں ) نے   بہتان اور اثمِ مبین   کا بوجھ اٹھا یا ۔

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَن يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا [33:59]
 يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ، ازواج اور بیٹیوں اور   المؤمنین کی   نساء  سے کہہ !اگر (منافقین کی )اذیت  (ریمارکس ) سے بچنا ہے  تو وہ اپنی پہچان کے لئے اپنے اوپر اپنے   جلابیب  جھکا لیں تاکہ وہ  بحیثیت المؤمنات پہچانی جائیں اور اللہ غفور اور رحیم ہے ۔ 
نوٹ :  اگر اذیت آمیز ریمارکس دینے والے منافقین نہیں  تو جلابیب  جھکانے کی ضرورت نہیں ۔

لَئِن لَّمْ يَنتَهِ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْمُرْجِفُونَ فِي الْمَدِينَةِ لَنُغْرِيَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا يُجَاوِرُونَكَ فِيهَا إِلَّا قَلِيلًا [33:60]

اور اگر المنافقون ، جن کے قلوب میں مرض ہے اور المدینہ میں   راجف ہیں   ہم تجھے اِس کے ساتھ ضرور مسلط کر دیں گے ۔ سوائے قلیل  (مجاوری )کے اِس (المدینہ )میں  وہ تیرے مجاور نہیں رہ سکتے !
مَلْعُونِينَ أَيْنَمَا ثُقِفُوا أُخِذُوا وَقُتِّلُوا تَقْتِيلًا [33:61]
 اِن  ملعونین (منافق اور راجف ،مجاورین کو  دوبارہ المدینہ  واپس آنے پر)  جہاں  پاؤ پکڑو اور حتمی قتل کر دو !


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔