میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 20 مئی، 2017

آپ گلہ تو نہیں کریں گے نا ؟



ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک بادشاہ شکار کھیلنے جنگل کی طرف گیا اوپسی پر بادشاہ نے  ،کافی  گدھوں کو  سر جھکائے ایک قطار میں چلتے دیکھا، اُن سے کافی دور کمہار اور اُس کا  12 سالہ بیٹا  آہستہ آہستہ شہر کی سمت جا رہے تھے ،  بادشاہ  نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور کمہار کے پاس پہنچا  اور  پوچھا ،
"تم انہیں کس طرح سیدھا رکھتے ہو؟"
 کمہار نے جواب دیا ، "جناب ! جو گدھا لائن توڑتا ہے اسے سزا دیتا ہوں بس اسی خوف سے یہ سب سیدھا چلتے ہیں"
بادشاہ نے پوچھا ،" کیا تم میرے ملک میں امن قائم کر سکتے ہو؟
کمہار نے حامی بھر لی اور بولا ،" ایک شرط پر ، وہ یہ کہ  مجھے سونپے گئے کام میں دخل نہ دینا !"
 بادشاہ بولا ، " منظور ہے"
کمہار نے،  گدھوں کو اپنے بیٹے کے حوالے کیا  اور بادشاہ کے ہمرا ہ شہر کی طرف روانہ ہو گیا ۔ شہر کے دروازے پر پہنچے ، تو کافی لوگ جمع تھے  اور شور مچا ہوا تھا ۔ قریب پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ایک چوری کا مقدمہ ہے ۔ قاضی کا انتظار ہو رہا ہے ، دوپہر ڈھلنے کو آئی ، قاضی صاحب ابھی تک نہیں پہنچے ہیں   ، کئی دفعہ ہرکارے بھجوائے ہیں لیکن اُنہیں دورازے سے ٹال دیا جاتا ہے ۔ بادشاہ نے مجمع سے   خطاب کرتے ہوئے کہا ،
" شہر کے لوگو ، میری بات غور سے سنو ! یہ شریف آدمی آج سے شہر کا قاضی ہے ، اِس کا فیصلہ حتمی ہو گا ، ریاست کا ہر فرد اِس کا فیصلہ بغیر کسی چوں وچرا کے تسلیم کرے گا" بادشاہ نے حکم نامہ جاری کرتے ہوئے ، اپنی خلعت اتار کر کمہار کو پہنا دی اور خود محل کی طرف چلا گیا ۔ 

کمہار جو اب قاضی بن چکا تھا ، وہ   مسندِ القضاء  پر بیٹھ کر پورا مقدمہ سننے لگا ، کہ اتنے میں شہر کا قاضی بادشاہ کے پہنچنے کی خبر سن کر دوڑتا آیا ، اُس نے مسندِالقضاء پر ایک اجنبی کو بیٹھے دیکھا وہ تنتناتا ہوا غصے میں آگے بڑھا  ۔ لیکن بادشاہ کی خلعت دیکھ کر ٹھنڈا پڑ گیا ،
وزیر کی طرف دیکھا اُس نے نظریں جھکا لیں ،
شہر کے مفتی پر نظر ڈالی وہ آنکھیں بند کر کے ، ورد میں مصروف تھا ۔
وہ آگے بڑھا اور کمہار کے گھٹنوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولا ،
" جناب آپ سے پہلے میں اِس مسند پر بیٹھتا تھا "
" اگر آپ نے بھی کوئی شہادت دینی ہے تو گواہوں کے ساتھ کھڑے ہوجائیں " کمہار نے جواب دیا
کمہار نے تمام گواہوں کو سنا  اور فیصلہ سنایا ،" قانون  کے مطابق چور کادائیاں   ہاتھ کاٹ دو!"
  سابقہ قاضی  نے وزیر کی طرف دیکھا اور کمہار کے کان میں بولا" جناب یہ وزیر صاحب کا خاص آدمی ہے"
 کمہار نے دوبارہ کہا ،" چور کا دائیاں  ہاتھ کاٹ دو!"
مُفتی نے کہا ،" جناب شرع کے مطابق نرمی برتنا دین کی معراج ہے "

کمہار نے دوبارہ کہا ،"شرع کے مطابق  ، سامان کا نقصان چور کے اوپر اور   چور کا دائیاں  ہاتھ کاٹ دو!"
 اس کے بعد خود وزیر نے کمہار کے کان میں سرگوشی کی،" جناب تھوڑا خیال کریں‘ یہ اپنا ہی آدمی ہے"
مسندِ القضاء    پر بیٹھا  قاضی (کمہار ) کرک دار آواز میں بولا ،" چور کا ہاتھ اور وزیر کی زبان دونوں کاٹ دو"
مجمع پر سناٹا چھا گیا ، جلاد نے  چینختے چلاتے وزیر اعظم ،د ہائیاں ح کم پر فی الفور عمل کیا ۔ 
کہا جاتا ہے کہ ،کمہار کے صرف اس ایک فیصلے کے بعد پورے ملک میں امن قائم ہو گیا اور روای چین ہی چین لکھنے لگا !
 
پھر کہانی نقل کرنے والے نے اپنی فکر دی :
امن قائم کرنے کےلئے کوئی لمبی چوڑی پلاننگ کی ضرورت نہیں ہوتی بس دو چار بڑے بڑے فیصلے کرنے پڑتے ہیں‘ اگر میرٹ پر فیصلے کئے جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے ملک میں امن نہیں ہوگا بس اس طرح کے فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔