میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 22 مئی، 2017

تعارف:ڈاکٹر محمد حمید اللہ


تعارف :     ڈاکٹر محمد حمید اللہ (پیدائش: 9 فروری، 1908ء، انتقال : 17 دسمبر، 2002ء) ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

معروف محدث، فقیہ، محقق، قانون دان اور اسلامی دانشور تھے اور بین الاقوامی قوانین کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ تاریخ حدیث پر اعلٰی تحقیق، فرانسیسی میں ترجمہ قرآن اور مغرب کے قلب میں ترویج اسلام کا اہم فریضہ نبھانے پر آپ کو عالمگیر شہرت ملی۔
آپ اردو، عربی، فرانسیسی، جرمن،قدیم و جدید ترکی، اطالوی، فارسی، انگریزی اور روسی زبانوں پر عبور رکھتے تھے۔آپ نے 7 زبانوں میں تحریر و تحقیق کا کام کیا۔انگریزی اور اردو کے علاوہ انہوں نے فرانسیسی، جرمن، عربی، فارسی اور ترکی زبان میں بھی مضامین اور کتابیں لکھی۔
آپ نے تحقیق کے مقاصد کے لیے متعدد اسلامی اور یورپی ممالک کا دورہ بھی کیا۔ جن میں عہد نبویؐ کے میدان جنگ نامی کتاب کے سلسلے میں نجد و حجاز کے ان میدانوں کا سفر بھی کیا اور تاریخی مواد اکٹھا کیا۔ انگریزی میں جب یہ کتاب شا ئع ہوئی تو اس میں نقشے وغیرہ بھی شامل تھے لیکن اردو کے ناشرین سے اس امر کا خیال نہ رکھا اور اسے درسی کتب کے حجم میں شائع کر کے نقشے وغیرہ حذف کر دیے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد حضرت ہمام ابن منبہ کے صحیفے کی تدوین کا کام ڈاکٹر حمید اللہ کا بہت بڑا کارنامہ تسلیم کیا جاتا ہے جبکہ فرانسیسی زبان میں ان کے ترجمہ قرآن کی اہمیت بھی مسلم ہے۔ آپ نے فرانسیسی زبان میں سیرت نبویؐ بھی تحریر کی جو دو جلدوں پر مشتمل ہے۔ آپ نے امام محمد شیبانی کی کتاب السیر اور شاہولی اللہ کی حجۃ اللہ البالغہ کا فرانسیسی ترجمہ بھی کیا۔
ڈاکٹر صاحب کی مشہور کتابیں اور تصانیف کچھ اس طرح سے ہیں۔

”تعارف اسلام“ (
Introduction of Islam) ڈاکٹر صاحب کی تصنیف کردہ کتب میں اور اسلام کے بارے میں شائع ہونے والی کتب میں سب سے زیادہ مشہور ہے۔ اس کتاب کا دنیا کی 22 زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے پہلی بار قرآن کریم کا مکمل فرانسیسی زبان میں ترجمہ کیا اور تفسیر لکھی۔ اس ترجمہ اور تفسیر کے قریباً بیس ایڈیشنز شائع ہو چکے ہیں۔یہ کسی بھی یورپی زبان میں سب سے زیادہ چھپنے والے تراجم میں سے ہے، جو کئی ملین کی تعداد میں شائع ہو چکا ہے۔ اس فرانسیسی ترجمے اور تفسیر سے بہت فرانسیسی اسلام کی طرف راغب ہوئے۔ اُن کی کوششوں اور تحقیق کی وجہ سے مسلمان ہونے والوں کی تعداد 30،000 بتائی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ مبالغہ لگے مگر حقیقت میں ہزاروں لوگ ڈاکٹر صاحب کی وجہ سے اسلام کی طرف راغب ہوئے۔
خطبات بہاولپور

1980ء میں 8 مارچ سے 20 مارچ تک بہاولپور کی اسلامیہ یونیورسٹی میں ڈاکٹرمحمد حمید اللہ نے 12 دن تک مختلف موضوعات پر لیکچرز دئیے۔ ان لیکچرز میں اسلام کے کچھ بنیادی پہلوؤں اور اس کی ابتدائی تاریخ کا احاطہ کیا گیا ہے۔ فی البدیہہ دئیے جانے والے یہ لیکچرز برسوں کی تحقیق اور دوسرے علم کا فی الواقع آسان زبان میں نچوڑ تھے۔ اردو میں سن کر لکھے جانے والے اور خطبات بہاولپور کے نام سے چھپنے والے یہ لیکچرز دوسری کئی چیزوں کے علاوہ اس بات پر مشتمل تھے کہ قرآن و حدیث کو کیسے جمع کیا گیا اور ان کی تدوین کی گئی۔اس کتاب خطبات بہاولپور کا انگریزی میں ترجمہ اسلام کی آمد کے نام سے کیا گیا ہے۔ان لیکچرز یا خطبات کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔
پہلا خطبہ:تاریخ قرآن
دوسرا خطبہ :تاریخ حدیث
تیسرا خطبہ تاریخ فقہ
چوتھا خطبہ: :تاریخ اصول فقہ و اجتہاد
پانچواں خطبہ: اسلامی قانون بین الممالک [1]
چھٹا خطبہ:دین(عقائد، عبادت، تصوف) [2]
ساتواں خطبہ:عہدِ نبوی میں مملکت اور نظم و نسق[3]
آٹھواں خطبہ:عہدِ نبوی میں نظامِ دفاع اور غزوات
نواں خطبہ:عہدِ نبوی میں نظامِ تعلیم
دسواں خطبہ: عہدِ نبوی میں نظامِ تشریع و عدلیہ
گیارہواں خطبہ: عہدِ نبوی میں نظامِ مالیہ و تقویم
بارہواں خطبہ: عہدِ نبوی میں تبلیغ اسلام اور غیر مسلموں سے برتاؤ
صحیفہ ہمام بن منبہ
احادیث کی سب سے اولین کتابو ں میں شامل جو صحیفہ ہمام بن منبہ کے طور پر جانی جاتی ہے جسےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے (58 ہجری بمطابق 677 عیسوی) میں اپنے شاگردوں کو پڑھانے کے لیے تیار کیا تھا، اس عظیم دستاویز کو ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے اس کی تصنیف کے 1300 سال بعد جرمنی میں برلن لائبریری سے دریافت کیا اور شائع کرایا۔ اس دریافت سے بعض لوگوں کا یہ اعتراض بھی ختم ہو گیا کہ احادیث کی تدوین و تالیف نبی کریم ﷺ کی وفات کے 200 سال بعد ہوئی۔
کہا جاتا ہے کہ ، ڈاکٹر حمیداللہ  کی ساری زندگی فرانس میں خدمت اسلام کرتے گزر گئی ،ہزاروں افراد کو مسلمان کیا اور اعلی درجے کا تحقیقی کام کیا،خود کو اسلام کے لیے وقف کرریا،نہ ستائش کی تمنا نہ صلہ کی پروا،نہ مولوی نہ پیر،نہایت ساده زندگی بسر کی،ہماری اکثریت ان کے بارے میں نہیں جانتی،فرانس میں اسلام انکی کوشس وجدوجہد کا نتیجہ ہے، اہم کتابوں کے مصنف جن میں "وثیقہ جات از عہد نبوی تا خلفائے راشدین" ایک بڑا کارنامہ ہے،طویل عمر پائی اوز آخر عمر میں گوشہ نشینی و تنگ دستی کا سامنا کیا۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔