میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 22 مئی، 2017

سوشل میڈیا اور نوجوان نسل

قارئین :   فیس بُک  گو کہ  وقت گذارنے کے لئے ایک سوشل میڈیا ہے ، جس پر   نوجوان نسل اپنے خیالات  و افکار کا اظہار  بے لاگ کرتی ہے ، جب کوئی مصنف   لفظ بے لاگ لکھتا ہے تو اِس کا مفہوم وہی ہوتا ہے  ، جو ماضی بعید سے چلا آرہا ہے  اِس بے لاگ میں ہر طرح کے الفاظ آجاتے ہیں جو پرنٹ میڈیا چھاپنے سے انکار کر دیتا ہے ۔
جس کو آسان الفاظ میں " گالی " کہا جاتا ہے ۔ پہلے یہ شائد ہجو کے نام سے پکاری یا لکھی جاتی تھی ۔ لیکن اُس کا مقصد ایک ہی ہوتا تھا
سننے میں آیا ہے کہ حکومتِ پاکستان ، سوشل میڈیا پر پابندی لگا رہی ہے ؟
اب نوجوانوں کی سماجی تربیت  ، کے عروج  سے واقفیت کم ہوجائے گی ۔

خاص طور پر سیاسی اور مذہبی ، القابات و بیانات و ہجویات وگلوچیات  کا علم محدود ہوجائے ۔
خیر ، کوئی فرق نہیں پڑتا ، یہ وہ تعلیم ہے جو سینہ بسینہ منتقل ہوتی رہتی ہے ۔
کاش حکومت کو کوئی سمجھائے ، کہ پھر    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
انصاف ختم ہوجائے گا ۔
تو تحریک کیسے چلے گی ؟


 تنقید اور تذلیل میں حد فاصل

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔