میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 22 مئی، 2017

ووٹ، عوام کی قوتِ آزادی !

مقبوضہ کشمیر میں ھندو اور مسلمان آمنے سامنے ہیں ۔
وہ بھارت کے قبضے میں ہے ، جو ایک ملک ہے !


محمد اقبال ، مقبوضہ کراچی میں سندھی اور مہاجر آمنے سامنے ہیں ۔
وہ سندھیوں کے قبضے میں ہے جو ایک قوم ہے !

دونوں کی آزادی، طاقت سے نہیں، ووٹ سے ممکن ہے !
ووٹ کی طاقت کو رسوا ، دونوں جگہوں پر پیسہ کمانے والی ، این جی اوز کر رہی ہیں ۔ ؔ

ووٹ کی طاقت پر یقین رکھنے والے نہ اُن کے ساتھ ہیں اور نہ اِن کے ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔