میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ, جون 10, 2017

مشرقِ بعید-کولمبو تا سنگا پور اور چانگی ائر پورٹ

مشرقِ بعید - لاہور تا کولمبو (سری لنکا)

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 
سری لنکا کے وقت کے مطابق ایک بج کر 55 منٹ ، پاکستان کے وقت کے مطابق ایک بج کر 25 منٹ  اور سنگاپور کے وقت کے مطابق ،  4 بج کر 25 منٹ گویا ، ساڑھے  چھ گھنٹے کے سفر کے بعد ہم  سنگاپور کے ، چانگی ائر پورٹ  کے ٹرمینل 3 پر اترے ۔
بھئی کیا بڑا ائر پورٹ ہے، ایک ٹرمینل سے دوسرے ٹرمینل تک جانے کے لئے ، خود کار  سکائی ٹرین چلتی ہے  ۔ائر پورٹ کے تین ٹرمینل ہیں ۔ ہر دو  منٹ  بعد ایک جہاز اترتا ہے اور دوسرا روانہ ہوتا ہے ، ٹیکسی وے پر انتظار میں جہاز یوں انتظار کرتے نظر آرہے تھے کہ جیسے آگے روٹ لگا ہوا ہے ۔ دنیا کی ہر ائر لائین ، یہاں سے گذرتی ہے ۔
ہم ٹرمینل 3 سے ٹرمینل 2 پر پہنچے جہاں اگلے دن  سلک ائر کی فلائیٹ  ایم آئی 296 ،  سنگا پور کے وقت کے مطابق 9 بج کر 25 منٹ پر تھی ۔ہم پاکستان سے تین گھنٹے آگے تھے ۔

 ٹرمینل 2 پر میجسٹک ہوٹل میں 3 بیڈ کا کمرہ بُک کروایا ہوا تھا ؛ جو    6 گھنٹے کے لئے تھا ، یعنی شام 7بجے سے رات ایک بجے تک ، چنانچہ  مزید 6 گھنٹے کے پیسے ادا کر کے صبح  7 بج تک   وقت بڑھا لیا ، چابی لے کر کمرے میں پہنچے ،  بوڑھے نے  غسل کیا ، چائے بنائی اور پھر تینوں آٹھ بجے   ٹرمینل 2 کی سیر کو نکلے ۔
  چم چم کی ماما نے چم چم کو بتایا کہ اُس کے لئے ائر پورٹ پر کیا کیا تفریح ہیں۔ پیسٹل کلر پینٹنگ ، سن فلاور گارڈن، جھولے ، پاؤں  دبانے کی مشینیں ، بٹر فلائی گارڈن ، میکڈونلڈ ، سب وے ، انڈین فوڈ ۔ ائر پورٹ پر ہر تین گھنٹے کے لئے انٹرنیٹ کنیکشن فری جو پاسپورٹ دکھانے پر ملتا ۔  
 چم چم  کی ساری کارگذاریاں ، بڑھیا ، فیملی گروپ پر  وٹس ایپ کر رہی تھی  ۔ دس بجے کھانے کا پروگرام بنا  ، لفٹ سے تیسری منزل پر پہنچے ، چم چم کو سب وے نظر آیا ، اُس نے سب وے پر کھانے کا شور مچا دیا ، سب وے کے پاس پہنچے  ، بوڑھے اور بڑھیا کو متلی سی ہونے لگی ۔
بوڑھے نے   پوچھا ،"حلال فوڈ؟"
چھوٹی سی گول مٹول سنگا پوری لڑکی بولی ، " نہیں "
واپس لوٹے توچم چم مچل گئی ، کہ کھائے گی تو سب وے ہی کھائے گی ، نانو ، آوا اچھے نہیں ہیں ، سب کھانے کھانے کے لئے ہوتے ہیں ، بابا نے بتایا کہ انہوں نے سنگا پور میں سب کھانے کھائے تھے ۔
بوڑھے کا دماغ  گھوم گیا ، " کیا ، آپ کے بابا نے یہ کہا تھا کہ اُس نے سب کھانے کھائے تھے؟ "
" جی یہی کہا تھا " چم چم بولی ۔
" کیا یہ بھی کہا تھا ، کہ انڈین فوڈ بھی کھایا تھا ؟" بوڑھے نے پوچھا ۔
" ہاں ، بابا نے سب کھانے کھائے تھے " چم چم تقریباً روتے ہوئے بولی ۔" نانو میں بھی کھاؤں گی "
" اچھا ایسا کرتے ہیں کہ ابھی انڈین فوڈ کھاتے ہیں ، میں بابا سے پوچھوں گا ، پھر جو کھانے بابا نے کھائے وہ کھلا دوں گا " بوڑھے نے چم چم کو سمجھایا ۔
" پرامِس " وہ بولی
" پرامس، اگر آپ کے بابا نے مگر مچھ ، چھپکلی ، سانپ ، کچھوے ، کیکڑے  اور  آکٹوپس کھائے ، تو وہ بھی کھانے پڑیں گے " بوڑھا بولا
" نو وے !! آوا ، آپ مجھے کچھ بھی کھانے پر مجبور نہیں کر سکتے " چم چم بولی "  میری مرضی جو میں کھاؤں "
" میں میکڈونلڈ ، کھاؤں گی" چم چم میکڈونلڈ کا بورڈ دیکھ کر بولی ۔
بڑھیا نے ، میکڈونلڈ پر کھڑی لڑکی سے پوچھا  " آپ کے پاس حلال فوڈ ہے ؟"
" جی ہاں ہمارے پاس صرف چکن اور بیف ہے " وہ بولی " اور وہ دیکھیں حلال فوڈ کا لوگو "

بوڑھے نے آگے بڑھ کر لوگو کو غور سے دیکھا ، اور چم چم کو کہا ،" اپنی پسند کا آرڈر دے دو  اور ہاں سب تمھیں کھانا ہے کوئی بھی چیز نا بچے  ، میں نہیں کھاؤں گا ۔ نانو بے شک کھا لے "
نانو نے بھی انکار کر دیا ، چنانچہ چم چم نے  برگر اور نّگٹ  لئے چپس اور کو ک ساتھ ملی ۔ نانو نے اُسے کھانا کھلایا ۔ 

 

پھر ہم تینوں انڈین ریسٹورینٹ گئے ، پہلی خوشی تو یہ ملی ، کہ انگلش سے پیچھا چھوٹا   ، کاونٹر پر موجود ہندی نوجوان  ، ہندی بول رہا تھا جو ہمیں اردو لگ رہی تھی ، ویسے  بھی پانچ ہزار سالوں سے بولی جانے والی ہندی کی اردو ، نومولود سگی بہن تھی ، لیکن پھر 1857 کے بعد ھندی نے ، فارسی اور عربی سے رشتہ داری گانٹھ لی ۔
اُس نے جن کھانوں کے نام بتائے وہ سب قابوں میں پڑے  شوکیس میں گرم ہورہے تھے ، بوڑھے نے اپنی مسلمانی بچانے کے لئے ، دال چاول کا آرڈر دیا ۔ بڑھیا نے بھی  دال چاول پر اکتفا کرنے کا ارادہ کیا ، بوڑھے نے ماش کی دال اور بڑھیا نے لوبیئے کی دال منگوائی ۔ جس میں ذائقہ کم اور پیٹ بھرنے کا سامان تھا ۔ ہاں ساتھ انہوں نے جھونگے میں ایک ایک رکابی میں دال دی  ، جو ارہر کی دال کے مشابہ تھی مگر اُس کی سیرت نہ بڑھیا پہچان پائی اور نہ بوڑھا ، لیکن وہ مزیدار تھی ، ایک تقریبا 80 سالہ دھان پان سے بڑھیا ، ٹیبل صاف کرنے پر لگی تھی بوڑھے نے اشارہ کر کے پوچھا  ،" کیا یہ اور مل سکتی ہے "
 وہ ایک ٹرے میں دو  رکابیاں لے آئی ، لوبیا اور ماش ایک طرف ، دونوں نے چاول اُس دال سے تر کیے  اور پیٹ بھر کر کھایا ۔ بوڑھے نے کھانے کے بچے ہوئے پیسوں میں سے ، ایک سنگا پوری ڈالر کی اُسے ٹپ دی تو وہ خوش ہو گئی ۔
بوڑھے اور بڑھیا پر آہستہ آہستہ تھکن غالب آرہی تھی ،  رات 12 بجے چم چم نے آٹھ سال کا ہوجانا تھا ،  گو کہ چم چم  کے ساتویں سال کا آخری دن تین گھنٹے پہلے ہی ختم ہوچکا تھا ، مگر ٹریڈیشنل  طور پر رات 12 بجے کا بہرحال انتظار کرنا تھا ۔  چنانچہ چم چم نے اپنے لئے گفٹ ایک  ڈاگی پسند کیا  ،   ایک  حلال کپ کیک خریدا ،کیوں کہ سارے بڑے کیک مشکوک تھے ،  رات  ساڑھے گیارہ  بجے ، جب پاکستان میں ساڑھے  آٹھ بج رہے تھے واپس ہوٹل میں آئے  ، بوڑھے نے دوبارہ چائے بنائی ، رات 12 بجے چم چم  نے کپ کیک کاٹا۔
اُسے سالگرہ کی مبارکباد دی، چم چم نے کیک کھایا  اور دونوں نے مل کر چائے پی ، چم چم تو لیٹتے ہی ، خواب میں ماما کے پاس پہنچ گئی ۔


 بوڑھا ، مُفتے کے انٹر نیٹ پر اپنے لیپ ٹاپ سے فیس بُک کے دوستوں میں مگن ہوگیا۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 مشرقِ بعید - سنگا پور تا ٹِمور لِسٹے (ایسٹ تِمور)

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔