میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 19 جون، 2017

آج سارا صرف پاکستان تھا


آج میں ایک افطاری پر مدعو تھا. بس میچ کے ابتدائی بیس اورز دیکھے. بیس اورز کے بعد میں نے صرف پاکستانیوں کو دیکھا. میں نے پل پل بتدریج خوشی سے دمکتے چہرے دیکھے. میں نے بچوں بڑوں بوڑھوں خواتین کو بلاوجہ خوش و مسکراتے دیکھا. میں نے اُن لوگوں کو بھی دلچسپی لیتے دیکھا جو کرکٹ کی ابتدائی ابجد سے بھی واقف نہیں تھے.
واپسی میں میچ مکمل ہوچکا تھا. جیت رقم ہو چکی تھی.
میں نے گلیوں میں سب کو مسکراتے دیکھا.
میں نے موٹر سائکلوں پر جوانوں کو پرچم اٹھائے یہاں وہاں دوڑتے دیکھا.
میں نے ٹریفک جام میں بھی کسی کو پریشان نہ دیکھا.
میں نے گاڑیوں کے شیشوں سے اجنبیوں کیلئے لہراتے ہاتھ دیکھے.
میں نے ٹریفک و عام پولیس کو بھی سب کو پیار سے ہاتھ ہلاتے دیکھا.
ہاں گھر واپسی تک
میں نے کسی جماعت کا پرچم نہ دیکھا.
میں نے بس صرف پاکستانی دیکھے. انکو خوش ہوتے دیکھا. ٹی وی پر ہر طرف خوشیاں دیکھی. فخر دیکھا، طمانیت دیکھی.
کرکٹ کسی قوم کے لئے کھیل ہوگا.
لیکن میں نے اپنی قوم کےلئے اسے وقت موجود واحد اتفاق کی زنجیر بنتے دیکھا. سری نگر سے خیبر تک گوادر سے قصور تک کراچی سے وانا تک........
آج سارا صرف پاکستان تھا.
آج سارا پاکستان سرشار تھا.
ہاں ہم جیت گئے. یہی جیت کہلاتی ہے.
اس آخر شب رب العالمین سے دعا ہے کہ یہ قوم بہت دکھ دیکھ چکی.
اب اسے کھیل کے علاوہ سیاست سے ریاست تک جیت سے آشنا کردے.

ہمیں ایک کردے

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔