میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 1 جون، 2017

اصحاب الفیل !

اللہ نے رسول اللہ کو،  ایک چشم دید قصص   سے یا دھانی کروائی !جس میں   أَصْحَابِ الْفِيلِ کو  طَيْرًا أَبَابِيلَ سے  تَرْمِی کرواتے ہوئے اُنہیں ، مَّأْكُولٍ   کا  عَصْفٍ کر دیا : 

اللہ کی محمدﷺ کو بتائی گئیں آیات پڑھیں ؟

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
 
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ ﴿1﴾
کیا  نہیں، تو نے دیکھا  ! أَصْحَابِ الْفِيلِ کے ساتھ تیرے   رَبُّ نے کیا   فَعَلَکیا ؟ 
أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ ﴿2﴾ کیا نہیں ، قرار دے دی اُن کی كَيْدَ ، ضْلِيلٍ ؟
  وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ ﴿3﴾ اور اُن  کے اوپر أَرْسَلَ کئے  ، طَيْرًا أَبَابِيلَ  ۔
  تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ ﴿4﴾ اُن پر    تَرْمِی کی جا تی رہی ہے   سِجِّيلٍ میں سےحِجَارَةٍ   کے ساتھ ! 
 فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍ مَّأْكُولٍ ﴿5﴾105  پس اُنہیں قرار دے دیا  جیسےمَّأْكُولٍ   کا  عَصْفٍ ہو !

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
  بالا سورۃ کے بارے میں اللہ کی نذیر جاننے کے لئے ہمیں ، اللہ ہی کے الفاظ سے فہم لینا ہوگا ۔  کہ
اِس سورۃ میں ، أَصْحَابِ الْفِيلِ اور طَيْرًا أَبَابِيلَ کون ہیں ؟
یہ دو اتنے اہم الفاظ ، اِس سورۃ میں ہیں کہ جن پر اِس کی مکمل تفسیر کا احوال ، انہی دو الفاظ کے سیاق و سباق سے بنتا ہے ۔
اور تیسرا لفظ     سِجِّيلٍ ہے ۔ 
 تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ  ﴿4﴾
اِن آیات ، تفصیل،  الکتاب  میں ، اللہ کے ایک جملے میں موجود ہے ،
جسے صرف الکتاب ہی سے دیکھا جا سکتا ہے ، تاریخ سے نہیں !جس میں مفسرین نے اللہ کی آیات تبدیل کر دی ہیں ، اِن مفسرین یا مؤلفین قول منسوب الی الرسول  میں سے کسی نے بھی  الرسول سے بالمشافہ ملاقات نہیں کی ! (حوالہ آیت
5:41)

الکتاب سے ، سِجِّيلٍ  کی تفسیر و تشریح  ! کہ
فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنضُودٍ [11:82]

  پس جب ہمارا  امر آ پہنچا  ، تو ہم نے اُن کے عَالِي کو   یقینا ً   اُن کا  أَسْفَلَ   کیا ،  اور اُن پر   ہم نے ( پرندوں کی طرح )اُڑا کر برسائے ،     سِجِّيلٍ میں سے  تہہ در تہہ  کئے  گئے  حِجَارَةٍ !
 
 فَجَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ [15:74]

  پس   ہم نے اُن کے عَالِي کو   یقینا ً   اُن کا  أَسْفَلَ   کیا ،  اور اُن پر   ہم نے ( پرندوں کی طرح )اُڑا کر برسائے ،     سِجِّيلٍ میں سے    حِجَارَةٍ !  

  تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّن سِجِّيلٍ [105:4]
اُن پر     تَرْمِی کی جا تی رہی ہے   سِجِّيلٍ میں سےحِجَارَةٍ   کے ساتھ !  

 [11:82 اور [15:74] کی سیاق و سباق والی آیات پر تدبّر کریں تو آپ کو فہم القرآن ملے گا ، ورنہ " فہم العجم "  تو ہر دکان پر دستیاب ہے ۔

صرف الکتاب سے أَصْحَابِ الْفِيلِ ، طَيْرًا أَبَابِيلَ اور سِجِّيلٍ کی تفسیر :
اللہ نے ، سِجِّيلٍ  میں سے طَيْرًا أَبَابِيلَ  سےأَمْطَرْ ، أَ أَصْحَابِ الْفِيلِ   جو   عَالِيَهَا تھے  پر کروایا ۔ اور حِجَارَةٍ ، ربّ کی طرف سے مُّسَوَّمَةً اور  مَّنضُودٍ ہوئے اور وہ   عَالِيَ  ،سَافِلَ    ہوگئے ۔ 

قَالُواْ يَا لُوطُ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَن يَصِلُواْ إِلَيْكَ فَأَسْرِ بِأَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ اللَّيْلِ وَلاَ يَلْتَفِتْ مِنكُمْ أَحَدٌ إِلاَّ امْرَأَتَكَ إِنَّهُ مُصِيبُهَا مَا أَصَابَهُمْ إِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ [11:81]
 فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِيَهَا سَافِلَهَا وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهَا حِجَارَةً مِّن سِجِّيلٍ مَّنضُودٍ [11:82]
مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ وَمَا هِيَ مِنَ الظَّالِمِينَ بِبَعِيدٍ [11:83]



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔