میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 1 جون، 2017

روزہ افطار کا وقت کیا ہے ؟


اللہ نے محمد رسول اللہ کو  ماہ  رمضان   میں  الصیام  کی  بیّئن او رناقابلِ تبدیل  حدود  بتائیں :


حدود-1 :  لَيْلَةَ الصِّيَام میں  بیویوں  سے الرَّفَث (مباشرت سے پہلے کا عمل )   اور     بَاشِر (مباشرت ) کی اجازت  !
  أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَآئِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ عَلِمَ اللّهُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُواْ مَا كَتَبَ اللّهُ لَكُمْ ۔ ۔ ۔ ۔  

تمھارے لئے حلال کی گئی لَيْلَةَ الصِّيَامِ   میں الرَّ‌فَثُ  (اٹھکیلیاں)  تمھاری  نساء کی طرف  ۔ وہ تمھارا لباس ہیں اور تم اُن کا لباس ہو ۔ اللہ کو علم ہے جو تم اپنے نفسوں میں چھپاتے  ہو ، وہ تم پر تاب  (توبہ قبول کرنے والا) ہوا ، اور تم  پر عفا (معافی دینے والا) ہوا،  ۔   پس اب انہیں  چاھئیے  کہ اَب وہ  اُن (اپنی نساء) سے مباشرت کر سکتے ہیں ، اور جو اللہ نے لکھا ہے ہے پس تم  اُس  کی ابتغاء ( خواہش)  رکھو   ۔ 
حدود-2 : الْفَجْر سے   پہلے  کھانے اور پینے کی مکمل    اجازت   :
۔ ۔ ۔  وَكُلُواْ وَاشْرَبُواْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۔ ۔ ۔

اور کھاؤ پیو ، حتیٰ کہ  الفجر میں ،تمھارے لئے  سفید دھاگا ، کالے دھاگے سے بیّئن   (واضح)  ہو جائے ۔
حدود-3 :  إِلَى الَّيْلِ (رات کی طرف )کی طرف    کا  أَتِمُّواْ الصِّيَامَ (روزےافطار کرنے کا )  حکم   ،  
۔ ۔ ۔ ۔   ثُمَّ أَتِمُّواْ الصِّيَامَ إِلَى الَّيْلِ  ۔ ۔ ۔ ۔

پھر اتمامِ   الصیام   ، رات کی طرف کرو ۔
حدود-4:  الْمَسَاجِد میں عَاكِفُ ہونے کے دوران     بَاشِر (مباشرت ) کرنا  اللہ نے منع کردیا ہے  
۔ ۔ ۔  وَلاَ تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ ۔ ۔ ۔

اور تم مباشرت   مت کرو جب تم المساجد میں عاکفون ہو ، 
اللہ کا ، ذَلِكَ الْكِتَابُ لاَ رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ ،  کے قانون کے تحت ،  اللہ کا  انسانوں  کے لئے  ، آیات  سے بیان کردہ  ناقابلِ تبدیل حکم :
۔ ۔ ۔  تِلْكَ حُدُودُ اللّهِ فَلاَ تَقْرَبُوهَا  ۔ ۔ ۔

وہ اللہ کی حدود ہیں ۔تم  اُن کے قریب مت جاؤ۔
۔ ۔ ۔  كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللّهُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ  [2:187]

اِس طرح اللہ انسانوں کے لئے اپنی آیات ممتاز کرتا رہے گا ۔ تاکہ وہ ، متقی ہوتے رہیں  ۔ 

  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اللہ کی آیات تبدیل کرنے کا جرم کس نے کیا ؟ 



  اِس سے پہلے کہ  للللہ کی آیات سے  آپ  کسی کا کُفر کریں  ۔ اللہ نے الکتاب میں    محمدﷺ   کو ،  زمین  پر کسی بھی جگہ موجود انسان کے لئے ، طلوعِ آفتاب اور غروب آفتاب سے متعلق تما م  وضاحت  اپنی آیات میں بیان کر دیں ہیں

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

http://www.ufaqkaypaar.com/2014/06/blog-post_20.html

روزے ( صوم )  کے بارے میں تفصیلی مضمون :

 روزے (صوم)


 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔