میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ, جون 28, 2017

اللہ کی سنت ۔ گناہ سے معافی



اللہ نے  محمدﷺ کو انسانی گناہوں سے معافی کے لئے اپنی سنت بتائی : جو سب   " الکتاب" (وحی متلو ) میں درج ہیں  :
وَالَّذينَ لا يَدعونَ مَعَ اللَّهِ إِلٰهًا ءاخَرَ وَلا يَقتُلونَ النَّفسَ الَّتى حَرَّمَ اللَّهُ إِلّا بِالحَقِّ وَلا يَزنونَ ۚ وَمَن يَفعَل ذٰلِكَ يَلقَ أَثامًا ﴿68﴾
يُضٰعَف لَهُ العَذابُ يَومَ القِيٰمَةِ وَيَخلُد فيهِ مُهانًا ﴿69﴾
إِلّا مَن تابَ وَءامَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صٰلِحًا فَأُولٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّـٔاتِهِم حَسَنٰتٍ ۗ وَكانَ اللَّهُ غَفورًا رَحيمًا ﴿70﴾
وَمَن تابَ وَعَمِلَ صٰلِحًا فَإِنَّهُ يَتوبُ إِلَى اللَّهِ مَتابًا ﴿71﴾ سورة الفرقان  

اللہ سے معافی طلب کرنے کی شرائط :
مشرک ۔قاتل ۔  زانی ۔ شرابی ۔ چور ۔ حرام کھانے والے  ۔  پاکیزہ عورتوں پر تہمت لگانے والے ۔ ان کو اللہ پسند نہیں کرتا ۔ ان کی معافی کا میعار ۔
٭ -    زانی کی توبہ سو درے ھے ۔
الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ۖ وَلَا تَأْخُذْكُم بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّـهِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۖ وَلْيَشْهَدْ عَذَابَهُمَا طَائِفَةٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ  ﴿النور: 2﴾

٭ -  پاکباز عورت پر الزام لگانے والے کی توبہ اسی درے ھے ۔
وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴿النور: 4﴾

٭ - سارق  و سارقہ کی توبہ ، قطع ید ھے ۔
وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ  ﴿المائدة: 38﴾

٭ - قاتل کی توبہ ، خود کا قتل ھے۔ 
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى ۖ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ ۚ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ۗ ذَٰلِكَ تَخْفِيفٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ ۗ فَمَنِ اعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ  ﴿البقرة: 178﴾

 ٭ - متفرّق جرائم کی سزائیں ۔ 
وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنفَ بِالْأَنفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ ۚ فَمَن تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهُ ۚ وَمَن لَّمْ يَحْكُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ﴿المائدة: 45﴾
1- آنکھ نکالنے والے کی توبہ ، اس کی آنکھ نکالنا ھے ۔
2 - کان کاٹنے والے کی توبہ ، اپنا کان کٹوانا ھے ۔
3 - ناک کاٹنے والے کی توبہ ، اپنی ناک کٹوانا ھے ۔
4 - زبان کاٹنے والے کی توبہ ، اپنی زبان کٹوانا ھے ۔
5 - کسی کو زخم لگانے کی توبہ ، اتنا ھی زخم خود پر لگوانا ھے ۔
٭ - الخمر والميسر والانصاب والازلام ۔ کی توبہ ان سے مکمل چھٹکارا ھے ۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿المائدة: 90﴾
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وحی متلو میں محمد ﷺ نے ایمان والی عورتوں سے بیعت لی ہے ، اور اللہ تعالیٰ نے اِسے آفاقی سچائیوں کا انمٹ حصہ بنادیا ہے -
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَىٰ أَن لَّا يُشْرِكْنَ بِاللَّـهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ وَلَا يَقْتُلْنَ أَوْلَادَهُنَّ وَلَا يَأْتِينَ بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِينَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِنَّ وَأَرْجُلِهِنَّ وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ ۙ فَبَايِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللَّـهَ ۖ إِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿12﴾  الممتحنة 
 اے النبی ! جب تیرے پاس المؤمنات آئیں ، تو ان سے بیعت لے ،
٭- یہ کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی شئے کا شرک نہیں کریں گی ۔
٭- اور وہ  سرقہ نہیں کریں گی ،
٭- اور وہ  زنا نہیں کریں گی ،
٭- اور وہ اپنی اولادوں کو قتل نہیں کریں گی ،
٭- اور نہ ہی افتراء کیا ہوا بہتان ، اپنے ہاتھوں اور اپنے پاؤں کے سامنے لائیں گی (ایسی جگہ چل کر نہیں جائیں گی جہاں ، بھتان لگنے کا امکان ہو یا ان پر افترء کیا جاسکے یا خود اس کا حصہ بنیں گی ) ۔
٭- اور نہ ہی معروف (مروج قوانین) میں تیری معصیت کریں گی ۔
پس ان مؤمنات سے بیعت لے اور انس کے لئے استغفار کر (کہیں وہ معصومیت میں ان گناہوں کا شکار نہ کر دی جائیں ) بے شک اللہ غفور اور رحیم ھے

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔