میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 19 جون، 2017

ضعیف حدیثوں کو نہیں مانتے



1994 کی بات ہے ، کہ میں نے ایک درس میں ایک پرچہ تقسیم کیا ، جس میں ایک شخص کے کے بارے ایک کتاب سے فوٹو کاپی کر کے تریب وار پیسٹ کر کے لگائے تھے اور کئی فوٹو کاپیاں بنوائیں تھیں ۔
سب کا خیال تھا کہ پرچے میں ذکر کیا گیا ، یہ شخص صحیح نہیں ، 
مجھ سے بہت پوچھا یہ کہاں سے لیا میں نے کچھ نہیں بتایا ۔

کوئی ہفتہ بعد ، جب میرے کلاس فیلو ھارون نے فون کیا ، اور مجھ پر منکرِ حدیث کی تہمت لگائی ، تو میں نے قبول کر لی، پھر وہ اپنے ساتھ ایک اور کلاس فیلو ظفر اور ایک ماہر مُلّا کو مسلمان کرنے کے لئے میرے پاس آیا ۔
عشایہ کھانے کے بعد ، جب مجلس شروع ہوئی تو ، دوران گفتگو میں نے اُس سے پوچھا ، 
" تمھیں وہ کاغذ یاد ہے جو میں نے تمھیں دیا تھا "
" ہاں یار وہ بڑے فضول شخص کا تھا ، میں نے تھوڑا سا پڑھا پھر پھاڑ دیا "
مزے کی بات کہ میرے دونوں کلاس فیلوز ، میٹرک میں پڑھی ہوئی چالیس احادیث اور کچھ خطبوں میں سننے والی روایات سے زیادہ نہیں جانتے۔ لیکن اُن کے ساتھ آنے والا۔ کچھ صاحبِ علم لگتا تھا ۔
میں ڈرائینگ روم سے اُٹھ کر کمرے میں گیا ، اور ایک کاپی لا کر ہارون کو دی ۔
" کیا کروں ؟ؔ وہ بولا
" پڑھو اور کیا کرو !" میں نے کہا ۔
ساتھ آئے ہوئے ، مولوی صاحب نے کہا ، 
" مجھے دکھائیے " اور ہارون سے وہ کاغذ لے لیا ۔

کاغذ پر اُس کی نظر پڑھ رہی تھی اور بے چینی بڑھ رہی تھی ، پڑھنے کے بعد وہ بولا، " یہ کون صاحب ہیں ؟ "
میں نے دوسرا فوٹو کاپی کاغذ ، اُس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ،" یہ صاحب ہیں " ۔
اُس کاغذ میں ، بخاری کے مکمل حوالہ جات کے ساتھ وہ پیرا گراف ۔ موجود تھے ۔
" میں اِنہیں چیک کروں گا اور پھر بات کریں گے " مولوی بولا ۔
" یہ بتاؤ ، تم بھی عبدالواحد اور جمال ناصر کی طرح ، پرویزی بن کر منکرِ حدیث بن گئے ہو ؟" ھارون بولا
" نہیں ، ہم تینوں الحمد للہ مسلمان ہیں ، بس اِس کاغذ میں لکھی ہوئی حدیثوں اور اِس طرح کی دوسری روایات کے منکر ہیں " میں نے جواب دیا ۔
" وہ تو ہم بھی ضعیف حدیثوں کو نہیں مانتے " ہارون بولا
" ملاؤ ہاتھ ، منکرِ حدیث " میں نے مسکراتے ہوئے ہاتھ بڑھایا ۔
" اؤے نہیں "۔ وہ بوکھلا کر بولا ۔ " لیکن انکار نہیں کرتے "

" پر اسرار علی زیدی، نہیں ماننا اور انکار کرنا ، ایک رویہ ہے ۔ بس ایک پر چینی چڑھی ہے اور دوسرا خالص ہے  ۔ اور اللہ خالص رویہ ڈیمانڈ کرتا ہے ؟" میں نے جواب دیا -


***************************************
  اللہ نے محمدﷺ کو بتایا ۔
تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ ﴿39:1 
 الکتاب کی تنزیل اللہ العزیز الحکیم کی طرف سے ہے ۔

 إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّـهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ ﴿39:2 
  بے شک ہم (اللہ ) نے الکتاب الحق کے ساتھ تجھ پر نازل کی پس عبداللہ  بن (الکتاب   پڑھتے ہوئے) اُس کے الدین کے ساتھ مخلص رہو-
أَلَا لِلَّـهِ الدِّينُ الْخَالِصُ ۚ 
 آگا رہو ! اللہ کے لئے (بذریعہ الکتاب )  الدین الخالص ہے ، (اللہ کے علاوہ انسانی ہدایت  ناخالص ہے  ، کس طرح ؟  )

 وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ 
اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے علاوہ اولیاء اس لئے بنائے 
مَا نَعْبُدُهُمْ إِلَّا لِيُقَرِّبُونَا إِلَى اللَّـهِ زُلْفَىٰ 
 کہ وہ اللہ کا قرب ان کے (وسیلے) ذریعے  حاصل کریں  نہ  کہ ان اولیاء کی عبادت کریں ۔ ( اللہ کے علاوہ اولیاء بنانے سے انہوں نے دین کو ناخالص کر دیا لہذا )
 وارننگ : وارننگ : وارننگ :
 إِنَّ اللَّـهَ يَحْكُمُ بَيْنَهُمْ فِي مَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ ۗ 
 بے شک اللہ ان( دین ناخالص کرنے والوں ) کے اس اختلاف پر ان کے درمیان حکم کرے گا ۔

إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ كَاذِبٌ كَفَّارٌ ﴿39:3 
بے شک اللہ  اللہ ( ان ) جھوٹ بولنے والے ( کہ ان اولیاء کے ذریعے صرف اللہ کا قرب چاہتے ہیں  ) کفار کی ھدایت نہیں کرے گا ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭مزید پڑھیئے ٭٭٭٭٭٭٭٭
 منکرین حدیث کو پہچاننا آسان ہے ۔
 کیا منکرینِ حدیث ، مسلمانوں کی راہنمائی کر سکتے ہیں ؟
 فتنہ ءِ مودودیت !
 6- اسلام میں قانون سازی کا تصور-1



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔