میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 9 جون، 2017

مشرقِ بعید - لاہور تا کولمبو (سری لنکا)


مشرقِ بعید - اسلام آباد تا لاہور


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
بیٹی کے  اسلام آباد ائر پورٹ پر تلخ تجربے کے بعد ، بوڑھے کو معلوم تھا کہ اُسے ایف آئی اے کی اُس نامعقول رویئے سے گذرنا پڑے گا ، لہذا اُس نے اپنے ایک یونٹ آفیسر کی مدد لی ، اُس نے ائرپورٹ پر  مہربانوں کے پروٹوکول کی مدد فراہم کی ، چنانچہ  موبائل آن ہوتے ہی ، انسپکٹر شکیل کا فون آیا ، "سر آپ کہاں ہیں ؟ فون بند مل رہا تھا میں پریشان تھا ،  میں ائر پورٹ پر آپ کا انتظار کر رہا ہوں ، آپ 10 بجے تک پہنچ جائیں "۔
بوڑھے نے اُسے بتایا ،" ہم ائر پورٹ   کی طرف آ رہے ہیں  ۔ "
" اتنی جلدی  !  "اُس نے حیرت سے کہا ۔" فلائیٹ تو رات ساڑھے بارہ بجے جائے گی ۔ اگر آپ نکلے نہیں ہیں تو ساڑھے نو بجے تک آجائیں "
بوڑھے نے اُسے بتایا ،" ہم ائر پورٹ  میں داخل ہو رہے ہیں ۔  "
 " ٹھیک ہے سر ، میں دومیسٹک کی طرف ہوں ابھی  پہنچتا ہوں۔"
ائر پورٹ پہنچ کر  ، ایک دوست کو فون کیا ، اُس نے   بتایا کہ اُس کا نمائیندہ ابھی پہنچتا ہے ، نمائیندے  کے ہمرا ہ  ، سامان سکین کرنے کے بعد ٹکٹ لاونج میں پہنچے ، تھوڑی دیر بعد  شکیل صاحب اور چیمہ صاحب پہنچ گئے ۔ اُنہوں نے  سامان اور ٹکٹ لے لئے ، تاکہ بورڈنگ کارڈ اور سامان بُک کروایا جا سکے ۔چم چم کے لئے ایک اور ٹرالی لی جس پر وہ بیٹھ گئی ۔

سری لنکن ائر لائن کے کاونٹر پر پہنچے ، تاکہ    یو ایل -186فلائیٹ  کے لئے بورڈنگ کارڈ  لئے جائیں اور  ایسٹ تِمُور تک کے لئے سامان بُک کرایا جائے ۔  وہاں معلوم ہوا کہ ساما ن صرف  سنگا پور تک جائے گا  کیوں کہ سنگا پور سے ایسٹ تِمُور کا کنکشن نہیں مل رہا ،  اتنے میں بیٹی کا فون آیا ، اُسے بتایا ، تو اُس  نے کہا ، کہ آپ سامان ایسٹ تِمُور تک بُک کروائیں ۔ ورنہ آپ کو سنگا پور باہر نکلنا پڑے گا اور آپ کے پاس سنگا پور کا ویزہ نہیں ، پریشانی ہو گی ، اُس نے یو این کے پروٹوکول آفیسر مسٹر طاہر خان کو فون کیا ، اور انسپکٹر شکیل ، بکنگ آفیسر کے سر پر سوار ہوگیا ، سری لنکن ائر لائن کے ائرپورٹ مینیجر کو پکڑا  ، پہلے تو اُس نے معذرت کی لیکن پھر ، ایسٹ تِمُور تک سامان بُک کرکے بورڈنگ  کارڈ دے دیئے  ۔


اب مرحلہ تھا امیگریشن کلیئرینس کا ، مسافروں کی لمبی لائن تھی ، ہم تینوں کو سائڈ سے لے جا کر  ، ایف آئی اے کے انچارج کے کمرے میں بٹھا دیا گیا ۔ تھوڑی دیر بعد ، انسپکٹر شکیل نے مجھے باہر بلایا ، جہاں امیگریشن آفیسر نے مکمل انکوائری کی ، شک تو اُسے بھی تھا کہ کہیں ، بوڑھا ، بڑھیا اور چم چم  خرگوش نہ بن جائیں ، جب اُسے اپنا تعارف کروایا اور بتایا کہ بوڑھے یا بڑھیا کو بمع چم چم خرگوش بننے کی کوئی خواہش نہیں تو اُسے یقین آیا ، یوں ہماری تصاویر  وزارتِ داخلہ کے سسٹم میں داخل ہوگئیں تاکہ ثبوت رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے ۔
یقین کریں کہ اگر انسپکٹر شکیل ہمارے ساتھ نہ ہوتا تو شاید ہم تینوں بھی ائر پورٹ سے واپس ہو رہے ہوتے ۔ میں حیران تھا کہ اتنی سخت امیگریشن چیکنگ کے باوجود ، پاکستانی کیسے بغیر ویزہ کے اُن ملکوں میں چلے جاتے ہیں ، جہاں کا ویزہ لینا لازمی ہوتا ہے ۔ بہر حال امیگریشن کلیئر ہونے کے بعد میں نے امیگریشن آفیسر سے پوچھا ،
" ایسٹ تِمُور میں پہنچنے کے بعد ویزہ لگتا ہے ،، مسافر جانے اور آنے دونوں کا ٹکٹ لے کر جاتا ہے ، اگر ویزہ نہیں لگے تو اگلی فلائیٹ سے واپس آجائے گا ؟"
تو اُس نے بتایا ،
" جس بھی ملک میں پہنچ کر ویزہ ملتا ہے ، ہم وہاں جانے والوں کو خصوصی چیک کرتے ہیں  کہ وہاں پہنچنے والے خرگوش نہ ہوجائیں ۔ پھر جب  خرگوش پکڑے جاتے ہیں اور ڈی پورٹ کئے جاتے ہیں تو پاکستان کی بہت بدنامی ہوتی ہے ! "
زیادہ تر خرگوش ، سعودی عرب  (جدہ  یا مدینہ ) سے واپس بھیجے جاتے ہیں اور دوسرے نمبر پر یونان ہے ۔ جہاں رزق کی تلاش میں جانے والے، اپنی ماں کے زیورات ، بہن کا جہیز یا  سود خوروں سے لیا گیا قرض ، لمبی لمبی داڑھیوں ، پیشانی کے درمیان  سیاہ نشان  والے ،انسانی سمگلروں  کی جھولی میں ڈال دیتے ہیں ، واپسی پر بوڑھا باپ یا  لاچار ماں    ، دولت کے سپنے دیکھنے والے نالائق بچوں کو ایف آئی اے ، پاسپورٹ سیل  کو دانہ دُنکا دے کر چھڑاوتے ہیں ۔
کیا اِس کے علاوہ اِس بدنامی سے بچنے کا کوئی طریقہ ہے ؟
کیوں کہ وزارتِ داخلہ ، ہر پاکستانی کو پاسپورٹ دے کر اپنی جیب بھر رہی ہے ، جو پاسپورٹ بنوائے گا اُس کا مقصد عمرہ کرنا یا ملک سے باہر اپنے لئے روزگار تلاش کرنا ۔
نوجوانوں   کے ہاتھ میں جب پاسپورٹ آتا ہے اُس کی خوشی کی بلندیاں ، مہاجر زادہ  سے زیادہ کون جان سکتا ہے ۔
پھر وہ سوچتا ہے کہ دوست کا بھائی  یا اگلی گلی میں رھنے  والا چاچا خوش قسمت کا بیٹا ، کیسے ملک سے باہر گیا اور اب ڈالر کما کر بھیجتا  ہے جس کی وجہ سے اُن کا کچا گھر اب پکا ہو گیا ہے ، پیدل چلنے والے  بھائی نے اپنے چھوٹے بھائی کو موٹر سائیکل دلوادی ہے اور اب وہ مزے کر رہا ہے ۔
یہ اٹھارہ سالہ پاسپورٹ ہولڈر ، گنوار بھی یہی خواب  دیکھنے شروع کر دیتا ہے ، اور حکومتِ پاکستان وزارت داخلہ کی صوابدید  سے کسی  انسانی سمگلنگ گروہ کے ہتھے چڑھ جاتا ہے ۔ اور پھر پولیس والوں ، ایف آئی اے اور امیگریشن والوں کی اوپر کی کمائی کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔
میری رائے میں ، صرف ہنرمندوں اور پڑھے لکھے  طالبعلموں  کو  پاسپورٹ  دیا جائے جو غیر ممالک میں تعلیم کے لئے  جانا چاہیں ۔ ملازمت کے خوہشمند افراد کو  حکومت اِس طرح سپورٹ کرے کہ وہ انسانی سمگلروں کے ہتھے نہ چڑھیں ۔
وزیر اعظم کا یوتھ کے لئے ایک  انٹرن شپ پروگرام چل رہا ہے  ۔ جس میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو   نہ صرف مہارت دلائی جائے گی بلکہ اُن کو وظیفہ بھی دیا جائے گا ، اسی طرح کم تعلیم یافتہ ہنر مندوں کا پروگرام بھی اسلام آباد  میں غالباً ٹیکنیکل ایجوکیشن بورڈ  ایچ -8 ، میں چل رہا ہے ، حکومت کو چاھئیے کہ اِن میں  اچھے نمبروں سے کوالیفائی کرنے والوں کو ، بیرون ملک روزگار فراہم کرے ، اِس سے نہ صرف ملک میں زرمبادلہ آئے گا بلکہ  ہنرمند طالبعلموں کی اُن کی مہارت کے مطابق  بین الاقوامی  شعبوں میں رسائی بھی ہوگی ۔
تو ذکر ہو رہا تھا ،  امیگریشن کلیئرنس کا ،  وہاں سے فارغ ہوئے تو  شکیل اور چیمہ صاحب بھی ساتھ آگئے ، مزید پیسے دے کر  ،میں نے بڑھیا اور چم چم کو وی آئی پی لاونج میں بٹھا دیا اور خود  شکیل اور چیمہ صاحب کے ساتھ اکانومی لاونج میں بیٹھ گیا ہم  تینوں مختلف  موضوعات پر گفتگو کرتے رہے ۔
12:35 پر فلائیٹ تھی ،  پونے بارہ  بجے جہاز  میں بیٹھنے کا اعلان ہوا ،  دونوں صاحبان نے ہمیں  لاونج کے گیٹ تک چھوڑا ، ہم تینوں  لنک ٹنل سے  جہاز  تک پہنچے ،   خوشکل نمکین رنگت والے میزبانوں نے نمستے کے انداز میں ، مسکراتے ہوئے خوش آمدید کہا ،  سیٹوں تک راہنمائی کی ، 220 مسافروں کا یہ جہاز  ائر بس  320 کا تھکا ہوا ماڈل تھا  ۔ جس میں سامنے والی  سیٹ کی پشت   کے بجائے ، چھوٹی سی سکرین اوپر لٹکی ہوئی تھی ۔ جس کا چم چم کو بہت دکھ ہوا ۔ چم چم نے جہاز میں کھڑکی والی سیٹ پر قبضہ جمایا ، بڑھیا نے اُس کے ساتھ اور میں بڑھیا کے ساتھ بیٹھ گیا ، بڑھیا نے ائر ہوسٹس سے چم چم کے لئے کمبل کی فرمائش کی  اور چم چم نے ایپل کے جوس کی  ، جو اُس نے تھوڑی دیر بعد لاکر دے دیا ۔بوڑھے ، بڑھیا اور چم چم نے دعائے سفر پڑھی ، کہ سفر بخیر و عافیت گذرے ۔ جہاز  لاہور سے کولمبو  کے لئے روانہ ہوا تو چم چم اور بڑھیا   لاہور کی روشنیاں دیکھتی رہیں ۔پھر جہاز ہندوستان میں داخل ہوگیا ۔
 کھانا آیا ، ائر ہوسٹس سے پوچھا کہ کھانا کہاں سے لوڈ ہوا ہے ، اُس نے بتایا لاہور سے ، تو بے خوف ہوکر ، مچھلی ، سبزی اور چکن کا کہا جو اُس نے دے دیا ۔بنتِ انگور ، پسرِ جو  اور جوروءِ  واڈکا  ،بھی موجود تھی ، جو طلب گاروں کو پیش کی گئی ، ہم نے ہینڈ کیری میں بسکٹ اور ڈبل روٹی بھی رکھی تھی ، کہ اگر کھانا مشکوک ہوا تو نانِ جویں پر گذارا کریں گے ۔ مچھلی کا سالن بمع چاول  مزیدار تھا  ، سبزی اور چکن  بھی اچھا تھا ۔  کھانا کھا کر چم چم تو سو گئی  اور ہم دونوں بھی اونگھتے اونگھتے بالآخر سو گئے ۔  بوڑھے نے  ائرلائن سروس کو دس میں سے پانچ نمبر  دیئے ، کیوں کہ بوڑھے کا یہ اصول رہا ہے ،  رفاع یونیورسٹی   حاجی کیمپ اسلام آباد ، میں  پرسنل ڈویلپمنٹ کی کلاس میں جب پہلا سٹوڈنٹ سٹیج پر جاتا اور دو منٹ کی  سپیچ  ( ایلیویشن پِچ   ) ختم کرتا  تو بوڑھا اُسے  پانچ نمبر دیتا اور پھر اُس کے بعد    اُسے بنچ مارک بنا کر باقی سٹوڈنس کو نمبر دیئے جاتے ۔ بس یوں سمجھیں کہ اگر بوڑھا سری لنکن ائر لائن کے مقابلے میں پی آئی اے کو نمبر دے تو  وہ تین بنیں گے اور ائر بلیو ، ساڑھے تین ۔ اتحاد  ائر لائن چار اور امارات ائر لائن  ساڑھے چا ر ، سنا ہے کہ جدّہ کے علاوہ جانے والی،  اتحاد  ائر لائن اور امارات ائر لائن شائد    آٹھ نمبر حاصل کر لیں ۔لیکن عمرے پر  لے جانے والوں کی فلائیٹس تو دو نمبر بھی نہ لے سکیں ۔ حالانکہ عمرے پر جانے والوں سے سب سے زیادہ کرایہ لیا جاتا ہے ۔
  سری لنکا اور پاکستان کے وقت میں آدھے گھنٹے کا فرق ہے  چار گھنٹے اُڑنے کے بعد جہاز یعنی پاکستان کے  صبح کے  چار بج کر پینتیس منٹ اور  سری لنکا کے پانچ بج کر پانچ منٹ پر  بندرا نائیکے  انٹرنیشنل ائر پورٹ کولمبو پر اترا ۔  
آپ کے علم میں ہوگا کہ ، سری لنکا ایک جزیرہ ہے ۔ جس کی آبادی تقریباً  دو کروڑ ہے  اور رقبہ 65 ہزار کلو میٹر سکوائر  ہے ،   خواہ کا رقبہ  74 جہاں سے دنیا کے ہر ملک میں جہاز جاتے ہیں -
جہاز سے لنک ٹنل کے ذریعے لاونج میں آئے  ، جہاں سے ہمیں   کولمبو سے سنگا پور کے کاونٹر پر پہنچنا تھا ۔ کیوں کہ دو گھنٹے 20 منٹ بعد فلائیٹ تھی ، بورڈنگ کارڈز کیوں کہ لے چکے تھے لہذا پریشانی نہ تھی ۔ لیکن اُس سے پہلے واش روم کی تلاش تھی ، ڈیپارچر لاونج کے اوپر   بڑا  سار ریسٹ ایریا تھا ، جس کے ایک کونے میں واش روم تھے ، بوڑھا سامان کے پاس بیٹھا ، پہلے بڑھیا اور چم چم   گئیں ۔ دس منٹ بعد وہ واپس آئیں تو بوڑھا  گیا ، پتلون اور قمیض کو  ٹریک ٹراوزر اور   ٹی شرٹ میں تبدیل کیا  اور خود کو پرسکون پایا ۔
موبائل کھولا سگنل  وارید اور یو فون کے سگنل موجود مگر کمزور   ، وارید کی رومنگ آن کی  لیکن انٹر نیٹ ڈاٹا  آن نہیں ہوا ،  لہذا موبائل بند کر کے واپس لیپ ٹاپ بیگ میں ڈال دیا ، یہی حال بڑھیا کے زونگ کا تھا ۔ 
6 بج کر 25منٹ پر ڈور اوپن کا مژدا سنایا گیا ۔ایمبارکیشن  کاونٹر کے پاس پہنچے ، لائن سانپ کی طرح لمبی تھی ، جو تین فلائیٹس کے لئے تھی ۔ رینگتے ہوئے  سکیننگ مشین کے پاس پہنچے ،  نہ جیب میں موبائل نہ پرس یہاں تک کہ ہاتھ میں گھڑی تک نہ تھی ، لیکن والک تھرو گیٹ  ہڑبڑا کر جاگ گیا  اور لائیٹس بلنک کرنے لگیں  ۔ بڑھیا کے منہ میں بھی لوہا اور بوڑھے کے منھ میں بھی ، اُنہوں نے جوتے اتارنے کا کہا ، تو بتایا کہ جبڑا اتار کر دیں گے تو یہ خاموش ہوگا ۔چنانچہ  وہ مان گئے اور گذرنے دے دیا ۔
مسافر تین طرف جارہے تھے ، ہمیں دائیں جانب جانے کا کہا گیا ۔ ایک دروازے کے سامنے کاونٹر پر  ایک نمکین صورت  جوڑا کھڑا تھا ۔ بورڈنگ پاس اور پاسپورٹ دیئے ۔ چم چم کے پاسپورٹ کو دیکھ کر نوجوان نے  لڑکی سے سری لنکن زبان میں  کچھ بولا ، لڑکی نے  کہا ،"کوئی بات نہیں"  ،  اُس نے پھر کچھ کہا ، چم چم نے پوچھا " آوا ، یہ کیا کہہ رہے ہیں "
بوڑھے نے کہا ،" یہ کہہ رہے ہیں کہ چم چم 12 سال سے کم ہے تو وہ جہاز کی دُم پر بیٹھ کر جائے گی "
" نو وے ، میں جہاز کی دُم پر نہیں بیٹھوں گی " چم چم نے یک دم کہا " میں جہاز کے اندر بیٹھوں گی "

وہ دونوں ہنسے اور چم چم کو سمجھایا کہ 12 سال سے کم عمر والے پسنجر کو  ایمرجنسی ڈور کے سامنے بیٹھنے کی اجازت نہیں  ہے !
اور ہمیں ہال میں ایک طرف بیٹھنے کو کہا ، جب سب مسافر بیٹھ گئے   تو پھر سیٹوں کی ترتیب کے حساب سے پہلے 15 نمبر کے مسافروں کو جانے دیا ۔  لیکن ہمیں چم چم  کی وجہ سے پہلے جانے دیا ،  سب آرام سے اُٹھے کوئی بد نظمی نہیں ، آہستہ آہستہ چلتے ہوئے بس میں بیٹھے اور جہاز میں پہنچے ۔  ایک رو میں  8 سیٹیں  تھیں ، ہر سیٹ کے پیچھے وڈیو سکرین تھی ، جسے دیکھ کر چم چم خوش ہوئی کہ اب وہ مزے سے کارٹون دیکھے گی ۔ دن کا سفر تھا بادلوں اور سمندر کے علاوہ دور تک زمین نہ تھی – جہاز میں یورپیئن ٹورسٹ  زیادہ تھے ، سری لنکن ، فلپینی ،  ملائیشیئن  انڈونیشیئن ، انڈین اور بس ہم تین پاکستانی – سفر چونکہ سری لنکا سے سنگا پور کا تھا ، لہذا  سروس کے چھ نمبر ، لاہور تا سری لنکا کے مقابلے میں ائر ہوسٹس  کے  رنگ میکسی پاک  گندمی کے بجائے  دیسی گندم نما تھے ، قد بھی اچھے اور   کمر رشکِ کمر تھی ۔ انگلش کا لہجہ بھی بہتر تھا ۔ ورنہ  سندھیوں کی انگلش اور سری لنکن کی انگلش  میں زیاہ فرق نہیں ۔
ہاں  واپسی پر  کولمبو ائر پورٹ پر ایک سندھی نوجوان حیدرآباد کا ملا جو ملائیشیا سے کیمیکل میں  پی ایچ ڈی کرکے آرہا تھا  ۔ ہم سے تو اردو میں بات کی لیکن چم چم سے بہترین انگلش لہجے میں  باتیں کرتا رہا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔