میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 22 جون، 2017

تہران میں اہل سنت کی مسجد نہیں بن سکتی !

تہران میں اہل سنت کی مسجد؛ ڈاکٹر عبداللہ النفیسی کی زبانی آنکھوں دیکھا حال
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ سب کی طرح میں نے بھی بڑی باتیں سن رکھی تھیں کہ تہران میں اہل سنت کی ایک بھی مسجد نہیں ہے وغیرہ ۔پھر ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ مجھے تہران جانے کا موقع ملا تو دیڑھ مہینہ قیام رہا۔ پہلا جمعہ آیا تو سعودی سفارت خانے میں پڑھا،پوچھا یہاں اہل سنت کی کوئی مسجد؟ کہنے لگے نہیں۔ دوسرا جمعہ آیا ؛اب مصری سفارت خانے کا رخ کیا۔ جمعہ کے بعد یہی سوال رکھا،تہران میں اہل سنت کی کوئی مسجد؟کہنے لگے نہیں! چلیں اچھا ہو گیا! اب میں نے خود ارادہ کیا اور نکل کھڑا ہوا۔
اپنے ڈرائیورسے پوچھا کہ یہاں تہران میں یہودی عیسائی بھی ہوتے ہیں کیا؟کہنے لگا ہاں کیوں نہیںَ، شارع منوچہری پر ان کی دکانیں موجود ہیں۔ بسم اللہ! بس وہیں لے چلو۔آج کچھ 'یہود و نصاریٰ' کا احوال جانتے ہیں!
کچھ ہی دیر میں ہم منوچہری پہنچ گئے ۔یہاں تمام کی تمام نایاب چیزوں کی دکانیں تھیں۔ ایک دروازے پر یہود کا مخصوص دیوڈ سٹار(چھے کونے والا داؤدی ستارہ) نظر آیا۔ہم اندر چلے گئے۔ سلام دعا کے بعد پوچھا
اپ یہودی ہیں؟
جی بالکل یہودی ہیں اور یہیں رہتے ہیں۔
اسرائیل جانے کا کوئی ارادہ نہیں؟
ہمیں یہاں کوئی مشکل نہیں اسرائیل کیوں جائیں گے۔
اچھا آپ کی عبادت گاہیں بھی ہیں یہاں؟
کیوں نہیں ؟
پھر اس نے چار چھے عبادت گاہوں کا بتایا جو قریب ہی تھیں۔
اس کے بعد ہم یک اور دکان میں تشریف لے گئے؛یہ صاحب عیسائی تھے۔انہوں نے منوچہری ہی میں موجود کلیساؤں بارے آگاہی دی۔یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے!
بہرحال صورت حال سامنے آنے لگی کہ یہ سنی ہی ہیں جو ہدف ہیں لیکن ابھی ایک چیز باقی تھی،اب مجھےایرانی حکومت کا موقف جاننے کی فکر تھی۔!
میں واپس کویت لوٹ ایا۔ ایک دن میں نے فون اٹھایا اور کویت میں ایرانی سفیر سے بات کی؛"میں اپنے گھر آپ کو چائے پر مدعو کرنا چاہتا ہوں۔ " سفیر محترم نے دعوت قبول کی اور مقررہ وقت پر تشریف لے آئے۔ یہ علی جنتی تھے۔
رسمی باتیں ہوئیں،گپ شپ اور چائے کا دور چلا اور پھر میں اپنے مقصد پر آگیا۔ میں نے ان کی خدمت میں عرض کی کہ ہم نے یہاں مخیر حضرات کے تعاون سے اموال اکٹھے کیے ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ تہران میں زمین خریدی جائے اور پھر اس پر اہل سنت کے لیے مسجد تعمیر کی جائے۔ آپ سے یہ مہربانی مطلوب ہے کہ آپ ہمیں اس مقصد کے لیے اپنے لیٹر پیڈ پر تاکیدی خط وغیرہ لکھ دیں تاکہ معاملہ آسان ہو جائے۔
علی جنتی نے قہوے کا فنجان اٹھایا ہوا تھا، اسے واپس رکھا اور زوردار قہقہے لگانے شروع کر دیے۔
میں نے پوچھا کیوں ہنسے جا رہے ہو بھائی! فرمانے لگے:
"اگر میں آپ کو لکھ بھی دوں تو کوئی فائدہ نہیں ہونے والا! یہ ہائی کمانڈ کا اٹل فیصلہ ہے کہ اہل سنت کو تہران میں مسجد کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اس لیے یہ کسی صورت بھی ممکن نہیں ہے اور سب سے پہلے اس کی مخالفت کرنے والے میرے والد بزرگواراحمد جنتی خطیب تہران ہوں گے۔"
میں نے پوچھا "وجہ کیا ہے؟"
فرمایا"یبس یہ فیصلہ ہے تم سنی لوگوں کو تہران میں مسجد کی اجازت نہیں ہو سکتی!"
میں نے کہا "پھرتم اسلامی جمہوریہ کیوں کہلاتے ہو؟ یہ تو ایرانی جمہوریہ ہے!میری نصیحت تو یہی ہے کہ ایرانیت کو چھوڑ کر اسلامیت کی طرف آ جاؤ۔ میں اب تک شیعہ سنی کے مابین قربیتیں پیدا کرنے کا داعی رہا ہوں لیکن اب بات واضح ہونے میں کوئی کسر باقی نہیں رہی اس لیے آئندہ میں اس موقف سے رجوع کرتا ہوں بھلے یہ 'یوٹرن' سمجھا جائے۔"
چنانچہ یہ میری واپسی تھی!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر عبداللہ النفیسی(1945ء۔ کویت)۔محقق،مصنف،تجزیہ نگار۔بین الاقوامی سیاست پر گہرہ نگاہ رکھتے ہیں۔
ستر کی دہائی میں کیمبرج سے "جدید عراق کی تشکیل میں شیعہ کا کردار" کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی اور تبھی سے اہل تشیع سے گہرا ربط ضبط رہا ہے۔ ڈاکٹر النفیسی بیجنگ،ماسکو،ہاورڈ اور سٹین فورڈ یونیورسٹی میں پڑھا چکے ہیں اور آج کل کویت یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات میں پروفیسر ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے حالات اور سیاسی تبدیلیاں ان کا خاص موضوع ہیں۔ انہیں دنیا کی متعدد یونیورسٹیوں میں لیکچر کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ شیخ کے کثیر تعداد میں لیکچر یو ٹیوب اور دیگر سائٹس پر موجود ہیں جن سے طلباء بیش بہا استفادہ کر سکتے ہیں۔
مندرجہ بالا تقریرعربی میں سننے کے لیے: https://www.youtube.com/watch?v=Fyk7fCWtHtE

 مزید پڑھیں !

ھم بے حیا قوم ھیں

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔