میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 26 جولائی، 2017

25واں گھنٹہ !

 فیس بُک پر ایک دوست بنی اسماعیل نے لکھا : "    قیامت کا زلزلہ بڑا ہول ناک ہے"
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ ۚ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ ﴿22:1 
  اے انسانو! اپنے ربّ سے تقّی رہو ، بے شک الساعت کا زلزلہ ایک عظیم شئے ہے !(مہاجرزادہ)
 يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَىٰ وَمَا هُم بِسُكَارَىٰ وَلَـٰكِنَّ عَذَابَ اللَّـهِ شَدِيدٌ ﴿22:2
 (اے انسان  تو اگر اُس وقت زندہ رہا   اور سُکر میں نہیں گیا )  تو دیکھے گا ! جس میں رضاعت کی جاتی ہے ، ہر رضاعت کرنے والی اُس کو  تَذْهَلُ کر دے گی ۔ اور  ہر ذات حمل  اُس حمل کو   تَضَعُ   کر دے گی جو اُس نے حمل کیا ہوا ہے ۔اور تو ہر انسان کو  سُكَارَىٰ میں دیکھے گا  اور وہ    سب جو ہیں  سُكَارَىٰ کے ساتھ   ہوں گے ! اور لیکن  اللہ کا عذاب (اِن تینوں تیرے دیکھے جانے والے اعمال   تَذْهَلُ،   تَضَعُ اور  سُكَارَىٰ سے  )   شدید ہے (مہاجرزادہ)

ایک فرانسیسی مصنف نے ایک ایک کتاب شائع کہ ہے جس کا نام ہے 25واں گھنٹہ مصنف نے دنیا کی تمام تہذیبوں کا جائزہ لے کر دکھایا ہے کہ انسانیت اب اپنی بربادی کے آخری کنارے پر ہے۔ ہمارے 24گھنٹے ختم ہو چکے ہیں:
24
Hour is past
یہی بات دنیا کی آخری انجام کے بارے میں بھی صحیح ہے قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قیامت بالکل اچانک آئے گی۔ گویا ہمارا ہر لمحہ آخری لمحہ ہے۔ ہر وقت یہ امکان ہے کہ انسانیت اپنی مہلت عمر پوری کر چکی ہو۔ انسان اپنے "24گھنٹہ" کو ختم کر کے 25ویں فیصلہ کن گھنٹہ میں داخل ہو جائے۔ (زلزلہ قیام- شیخ وحیدالدین خاں صاحب )
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 میری رائے (مہاجرزادہ)    میں:
  ہر انسان جب مرتا ہے تو اُس کا 24 واں گھنٹہ پورا ہوچکا ہوتا ہے ۔ 
اپنی قیامت یاد رکھیں !
دنیا کی قیامت کو فی الحال بھول جائیں  ، وہ کائینات کا 25 ویں گھنٹے کی شروعات ہوں گی ۔
  لوگوں کو قیامتِ بعید سے ڈرانے والوں نے قیامتِ قریب سے غافل کردیا ،
میرے والدین اور میری بیوی کے والدین ، جو قیامتِ قریب سے گزر کر قد خلت کا باب بن چکے ہیں ، اُنہیں اِس سے کیا غرض کہ زمین اتھل پتھل ہوجائے ، یا آگ کا انگارہ بن جائے یا ریزہ ریزہ ہوجائے ۔
 
والدہ نے والد کو کہا ،" میرا آخری وقت آگیا ہے بچوں کا انتظار نہ کرنا مغرب سے پہلے دفن کر دینا "
فون کی گھنٹی بجی والدہ نے والد کا ہاتھ پکڑا اور کہا " رہنے دیں ، بس یہاں بیٹھیں اور سورۃ یاسین پڑھیں " والد اور والدہ دونوں کو سورۃ یٰسین حفظ تھی، والد نے بتایا کہ ، " جب اُس کا ہاتھ چھوٹا تو میں نے دیکھا تو وہ اللہ کے پاس جا چکی تھی "
والد ہسپتال میں تھے،" بولے بچو اللہ حافظ "، کلمہ پڑھا اور اپنی قیامت کی طرف روانہ ہو گئے ۔
میرے سُسر ، نے شہادت کی اُنگلی اوپر اُٹھائی ۔ اُن کے ہونٹ ہلتے دیکھے ، ہاتھ بے جان ہو کر سائیڈ پر گر گیا ۔ اور وہ اپنی قیامت کی طرف روانہ ہو گئے ۔
ساس سالی کے گھر میں گئی تھیں دونوں ماں بیٹی اکیلی تھیں ، ساس نے اپنے سب کام کئے ، باہر بچھی ہوئی چارپائی پر دس بجے لیٹ گئیں بیٹی کو آواز دی ، کہا میرے دونوں ہاتھ سینے پر رکھ دو میں مرنے لگی ہوں ، سالی نے یہی کیا ، وہ پانی لینے مٹکے کے پاس گئی ۔ پانی لے کر آئی ، ساس اپنی قیامت کی طرف روانہ ہو چکی تھیں ۔
اپنی زندگی میں میں نے کئی لوگوں کو اپنے قیامت کی طرف روانہ ہو تے دیکھا اتنے آرام سے جیسے ایک انسان بستر پر لیٹتا ہے اور سو جاتا ہے ۔
اور ایسے بھی دیکھے ہیں جو ڈاکٹر کا ہاتھ پکڑ کر کہتے ہیں ،
"خدا کے لئے ڈاکٹر مجھے بچا لو" ،
" کیا میں بچ جاؤں گا "
" یہ ڈاکٹر علاج صحیح نہیں کر رہا "
ایسے انسان بھی اپنے قیامت کے سفر پر روانہ ہوئے ہیں ۔
جو اپنی موت کو ہی اپنے لئے قیامت سمجھتے ہیں ، وہ پریشان نہیں ہوتے اور
جن کے دماغ میں یہ بٹھا دیا جاتا ہے کہ وہ جو قیامت ہے بڑی خوفناک ہو گی ۔ وہ آرام سے سوچتے ہیں جب قیامت آئے گی دیکھا جائے گا ۔ابھی تو کل کے کام کرنے ہیں !

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔