میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 25 جولائی، 2017

شیطان نامہ - قسط نمبر- 47 نہج البلاغہ



400  ہجری،  میں یعنی حضرت علی کی وفات کے تقریبا تین سو ساتھ برس بعد نہج البلاغہ کے مصنف نے جو خطبے خود لکھ کر اور دوسرے شیعہ مورخین سے تصنیف کرا کر بغیر کسی سند اور ثبوت کے حضرت علی سے منسوب کر کے اپنی کتاب میں شامل کیے ہیں ان کے متعدد خطبات میں عبد الملک اور ان کے عزیزوں ، بھائیوں اور اولاد کی حد درجہ توہین کی گئی ہے .اور ان جنگوں کے بارے میں جو مصعب بن زبیر اور عبد الرحمان بن الاشاس کے مقابلے میں ان اموی خلفا کی ہوئیں ، حضرت علی کی زبان سے ایسے الفاظ ادا کروائے  گئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ خطبہ گھڑنے والے  نے جو جضرت علی کی وفات سے برسوں بعد گھڑا گیا اس کو یہ معلوم نہ ہو سکا کہ ان اموی خلیفہ عبد الملک اور ان کے بھائی معاویہ بن مروان کو حضرت علی کی دامادی کا شرف بھی حاصل تھا اور اگر ان کو معلوم ہو جاتا تو یہ خطبے گھڑتے وقت ایسے الفاظ استعمال نہ کرتے .مثال کے طور پر خطبہ نمبر 93 جن الفاظ سے شروع ہوتا ہے .

 

 اور تو اور حضرت علی کی وفات کے 31 برس بعد جو واقعات پیش آئے اور پھر اس کے ایک صدی بعد جب بنی امیہ کی خلافت کا خاتمہ ہوا ان کے بھی حالات حضرت علی کی زبان سے پیشین گویّوں کے طور پر جن الفاظ میں ادا کروائے ہیں کہ پڑھ کر یقین نہیں آتا کہ حضرت علی جیسے معلم اخلاق ایسی زبان استعمال کر سکتے ہیں ؟
خطبہ 170

وہ لوگ (مکہ سے) بصرہ کا رُخ کئے ہوئے اس طرح نکلے کہ رسُول اللہ کی حُرمت و ناموس کو یوں کھینچے پھرتے تھے۔ جس طرح کسی کنیز کو فروخت کے لیے ( شہر بشہر) پھرایا جاتا ہے۔ ان دونوں نے اپنی بیویوں کو تو گھروں میں روک رکھا تھا اور رسوُل اللہ کی بیوی کو اپنے اور دوسروں کے سامنے کھلے بندوں لے آئے تھے۔

شارح نہج البلاغہ کے نزدیک   چار  ، تو امیر المومنین عبد الملک کے بیٹے ہیں یعنی الولید ، سلیمان ، یزید اور ہشام یا بنو مروان ہیں یعنی عبد الملک ، عبد العزیز ، بشیر اور محمّد ان میں سے ان کو اور ان کے دوسرے متعد حضرات کو حضرت علی ، حضرت حسن اور حضرت حسین اور دیگر اکابر ہاشمی کی دامادی کا شرف حاصل تھا -
پھر ایک اور خطبہ نمبر 75میں بنی امیہ ، کے لئے جن میں سے خود ان کی اولاد کی بیٹیاں بیاہی گئیں حضرت علی کی زبان سے یہ الفاظ بیان کروائے گئے.کہ
بنی امیہ مجھے محمد ؐ کا ورثہ تھوڑا تھوڑا کر کے دیتے ہیں۔ خدا کی قسم ! اگر میں زندہ رہا، تو انہین اس طرح جھاڑ پھینکوں گا، جس طرح قصائی خاک آلودہ گوشت کے ٹکڑے سے مٹی جھاڑ دیتا ہے۔
اسلامی عقیدہ کے مطابق علم غیب سوائے الله پاک کے کسی کو نہیں .

قُل لَّا أَقُولُ لَكُمْ عِندِي خَزَائِنُ اللَّـهِ وَلَا أَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَكٌ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ ۚ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ  (6:50)
 کہہ ! نہ میں کہتا ہوں ۔ کہ تمھارے لئے میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ،اور نہ میں عالمِ الغیب ہوں ، اور نہ میں تمھارے لئے کہتا ہوں کہ میںمَلَكٌ  ( فرشتہ) ہوں ، میں اپنی طرف ہونے والی وحی کی (سب سے پہلے) اتباع کرتا ہوں ۔ 
کہہ، کیا تم تفکّر نہیں کرتے کہ  اندھا اور آنکھوں والا  برابر ہو سکتے ہیں ؟
 
فرض کریں اگر حضرت علی کو اپنی وفات کے 31 برس بعد ہونے والے واقعے کا علم ہو گیا تھا کہ عبد الملک سے مقابلے میں حضرت حسین کے داماد مصعب ، سکینہ بنت حسین کے شوہر ، اور حضرت علی کی فوج کے کمانڈر کے بیٹے ( الاشتر کے فرزند ابراہیم ) قتل ہوں گے اور عبد الملک کی حالت حیوانوں کی سی ہو گی، تو اس قماش کے لوگوں کو اپنی دامادی کے شرف سے محروم رکھنے کی بھی نصیحت کیوں نہ فرمائی؟
کیوں اس کے اور اس کے بھائی معاویہ بن مروان کے نکاح میں حضرت علی کی بیٹیاں دی گئیں ؟
کیوں ان امام زادیوں کے رشتے متواتر اور مسلسل ان کی اولاد اور ان کو دے جاتے رہے؟
کیا ان حالات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نہ حضرت علی غیب دان تھے اور نہ یہ کلام ان کا ہے جو ان سے ان کی وفات سے 360 برس بعد منسوب کیا گیا؟

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے ، کہ    حضرت علی نے یہ دعویٰ کس بنیاد پر کیا ؟
خطبہ : 187-
اگر تم ان امور کے متعلق بھی دریافت کرنا چاہوگے جو لوح محفوظ میں ثبت تقدیر الہی سے وابستہ ہیں تو میں تمہیں بتا سکتا ہو ں !  ؟؟؟

اتنا بڑا دعویٰ تو محمدﷺ  نے بھی نہیں کیا جو ، نہج البلاغہ نے      حضرت علی سے منسوب کیا ۔
نہج البلاغہ اردو میں پڑھنے کے لئے ۔ لنک پر جائیں ۔   نہج البلاغہ اردو ۔صرف ترجمہ 


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔