میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 17 جولائی، 2017

بیٹی کی قربانی !

عجائب خانے کا گائیڈ سیاحوں کو لے کر ایک پرانی تصویر کے پاس رکا ۔ لمحے بھی کے لئے سیاحوں کی طرف دیکھا اور گویا ہوا ۔
کچھ لوک داستانیں ایسی ہوتی ہیں،  جو رسوم و رواج سے ھٹ کر انسان کو سوچنے کے نئے انداز نئے زاوئیے دے جاتی ہیں۔ ایسی ھی ایک کہانی پومپی آئی لینڈ کی ہے۔
جہاں ایک بادشاہ نے کسی خطا پر، ایک بوڑھے شخص " میکن " کو “بھوک تا مرگ" کی سزا دی اور اسے جیل میں ڈال دیا - بوڑھے کی ایک ہی بیٹی " پیرو " نے باپ سے روزانہ ملاقات کی درخواست دی جو بادشاہ نے قبول کر لی۔
https://en.wikipedia.org/wiki/File:Affresco_romano_-_Pompei_-_Micon_e_Pero.jpg

بیٹی نے اپنی شیرخوار بچی کو گھر پر چھوڑا اور تلاشی کے مراحل سے گزر کر تاریک کوٹھڑی میں پہنچی۔ ہاتھ پاوں زنجیروں میں قید اس کا بھوکا پیاسا باپ فرش پر نیم بیہوش پڑا تھا۔
وہ اگلے دن آئی،
گیٹ پر بیٹی کی سختی سے تلاشی لی جاتی کہ کہیں وہ اپنے باپ کیلئے خورد و نوش کا سامان نہ لے جاسکے.
ہر گزرتے دن کے ساتھ بوڑھا کمزور ھونے لگا۔ نڈھال باپ کو موت کے قریب جاتے دیکھ کر بیٹی دل مسوس کر کے رہ جاتی وہ باپ کے پاس بیٹھ کر اُسے دیکھتی رہتی ، کبھی ہاتھ سہلاتی ، کبھی الجھے ہوئے بالوں میں لرزتی انگلیوں سے کنگھی کرتی ،
کیا میں اپنے باپ کو چند مزید سانسیں بھی نہیں دے سکتی؟
تیسرے دن اُس نے پدرانہ محبت اور ذہن میں سوچے جانے والے گناہ کو ترازو کیا۔
اُسے تاریخ کے پردوں میں لپٹی ہوئی ایک کہانی جہاں بیٹیوں نے باپ ، کی نسل کو ختم ہونے سے بچایا ۔ یاد آئی ۔

‎اُس کے اندر ایک ماں بیدار ہوگئی ، وہ ایک نئی سوچ کے ساتھ گھر سے زندان میں تلاشی کے بعد داخل ہوئی ،  انجان جذبے کی گرفت میں کانپتے ھاتھوں سے قریب المرگ باپ کا منہ اپنی چھاتی سے لگا دیا۔ کبھی باپ کو سنبھالتی تو کبھی دربانوں کے خوف سے دروازے کی آھٹ بن جاتی۔
اب اُس کا روزانہ کا یہ معمول بن گیا ۔ وہ اپنی شیر خوار بچی کو دیگر خوراک دیتی اور قید خانے میں وہ بیٹی سے ماں بن جاتی جو ایک لاغر جسم کو توانائی دینے لگی

‎دو ہفتوں سے زیادہ بیت گئے ، دربانوں کو تشویش ہوئی کہ ناتواں قیدی کو بہت عرصہ پہلے مر جانا چاہیئے تھا مگر وہ ابھی تک زندہ ہے۔ بیٹی پر خفیہ نگرانی سخت کر دی گئی۔ اور پھر ایک دن دربان نے بیٹی کو دودھ پلاتے ہوئے گرفتار کر لیا۔
مقدمہ ،عادالتِ عالیہ میں پہنچا ۔
‎پورا شہر بیٹی کے کردار پر بریکنگ نیوز اور مباحثات سے گونج اٹھا۔ ہر دوسرا مرد بیٹی کو گناہ گار قرار دے رہا تھا۔
علماء کتابوں سے گناہ کبیرہ اور عبرت ناک سزا کے حوالے ڈھونڈ لائے۔ نیکی بدی کے دیوتاؤں میں جنگ ھوئی۔ زیوس نے فیصلہ کیا ، تو پہاڑوں سے اتر کر انسانیت کی دیوی نے بیٹی کے ماتھے پر مقدس بوسہ دیا اور بوڑھے کو زندگی سے آزاد کر دیا۔
لیکن
ثنا خوانِ تقدیس مذہب نے ، بائیبل کے حوالہ جات مسترد کرتے ہوئے بیٹی کو اپنی لکھی ہوئی کتابوں میں درج تفسیرات کی بنیاد پر بیٹی کو سنگسار کرنے جب چبوترے پر لائے ، تو وہ چلا کر بولی ،
" مذہب کے رکھوالو میرے ایک سوال کا جواب دو ؟"
" گناہ گار عورت ، پوچھ اپنی زندگی کا آخری سوال !"

" مذہب کے رکھوالو! کیا باپ کی زندگی کے لئے میرا گناہ  لوط کی بیٹیوں سے زیادہ سنگین ہے ؟"

ایک شور بلند ہوا ، کافر، زندیق، مارو ، مارو اور "پیرو"  کی چینخیں پاگل مذہبی ہجوم کے شور میں دب گئیں ۔ 
‎40 عیسوی میں آرٹسٹ "افریسکو رومانو"  نے اس لوک کہانی "رومن چیریٹی" کو تصویر کیا جو دنیا کے بڑے عجائب گھروں میں باپ اور بیٹی کے مختلف ناموں سے ، آج بھی آویزاں ھے۔ کہیں پومپی آئی لینڈ کی میکن اور پیرو ہے ، تو
کہیں یہ ہسپانیہ کی سیمن اور پیرو ہے۔
‎گائیڈ نے تصویر کی طرف دیکھا اور پھر سر جھکا کر "بیٹی کی قربانی" کو خراجِ تحسین دینے کے لئے سر کو جھکا کر خاموش ھو گیا۔
سیاحوں نے بھی گردنیں جھکا دیں 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نوٹ: یہ کہانی تصوراتی کہانیوں کے ضمن میں شامل کی گئی ہے ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔