میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 22 جولائی، 2017

چانکیہ کوٹلیہ


 370   تا 283 ، صدی قبل مسیح،  کا اعلی سیاست دان ، مکار مدبراور وزیراعظم ذات کا برہمن تھا ، اس کا اصلی نام وشنو گپت تھا، پاٹلی پوترہ  (پٹنہ ) کا رہنے والا یہ برہمن زادہ   علم  وفضل ، دانش و تدبّر اور دانائی  سے بھرپور  تھا۔ اس لئے عوام اور راجا ، اسے چانکیہ کے نام سے پکارتے تھے۔ 
پاٹلی پوترہ    ،کو    490-460   قبلِ مسیح میں مگدھ راجہ  اجاتشاترو   Ajatashatru نے اپنی راجدھانی بنائی ۔  راج گڑھ میں اُس کا سٹوپا آج بھی موجود ہے ۔ ارمپالی نامی فلم میں یہ کردار دکھایا گیا ہے ۔ 

سلطنتِ مگدھ قدیم ہندوستان کی ایک سلطنت تھی۔ قدیم ہندوستان کی سولہ   مہاجناپداؤں (عظیم   مراتب)   میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ یہ دریائے گنگا کے جنوب میں موجودہ بہار کا حصہ ہے۔ 
عام روایات کے مطابق ،   چندر، نند  خاندان کا فرد تھا   ۔لیکن ماں (موریہ) کی طرف سے وہ کم ذات تھا ،  راجواڑے میں پلنے ولا یہ نوجوان ، فنِ  حرب وضرب سے بخوبی واقف تھا ، ہندو  مذہب  کی اونچ نیچ سے  بیزار یہ نوجوان ، جوکسی بنا پر راجہ کی ناراضی سے ڈر کر پنجاب کی طرف بھاگ گیا تھا۔ پنجاب میں چندر گپت  کو   ہزاروں میل دور سکندرِ اعظم کے وقت سے قائم یونانی حکومت سے ناراض   ، راجواڑے  ، اور  دریائے اٹک پار  قبائل مل گئے ، جن کا وہ   کا رہنما بن گیا۔ اس نے یونانی بالادستی کے خلاف بغاوت کردی اور ایک سال کے اندر یونانی حکومت کے اثر و نفوز کو مٹا کر ایک نئے شاہی خاندان کی بنیاد رکھی۔ جو اس کی ماں کے نام سے موریہ تاریخ میں مشہور ہوا۔ 

 چانکیہ  نے چندر گپت کی  بطور اتالیق  ، بہت مدد کی۔اچاریہ چانکیہ  کا تعلق   برہمن نسل  سے تھا ، اُس نے  ھندوستانی علوم اپنے دور کے ماہر   برہمن  عالموں سے سیکھے  تھے ، علوم  کے جید علماء سے تھا ، اسی لئے ہندوستان کے راجہ ، مہا راجاؤں کے اولاد کی تربیتی ذمہ داریاں چانکیہ کو سونپ دی گئی تھیں- اپنے وقت کے چیفس کالج میں راجہ ، مہاراجاؤں کی اولادوں کے علاوہ کسی کے داخلے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن  کہانیوں کے مطابق   یہ مشہور ہے کہ ، دس سالہ چندر گپت  ، چھپ کر  چانکیہ کے درس سنتا جو وہ  اپنی کلاس میں دیا کرتا ۔ 
کم ذات ہونے کی وجہ سے ، اُسے را ج کماروں سے ملنے کی آزادی نہ تھی ، لیکن ماں کی وجہ سے وہ محل ہی میں رھتا ، راج کماروں کی محفل میں کسی  اچاریہ کے دیئے گئے سوال  پر بحث ہوئی ، جس کا جواب کسی کو نہ سوجھ رہا تھا ، تو چندر گپت نے جواب دینے کی اجازت مانگی ، جو ہنسی مذاق میں قبول کر لی گئی ۔ جواب سُن کر دوسرے دن ایک شاگرد نے جب چانکیہ کو جواب بتایا تو وہ حیران رہ گیا ، کند ذہن راج کمار  سے اُسے اُمید نہیں تھی ، پوچھا کہ یہ جواب کس نے بتایا ہے ؟ راج کماروں  نے ، چندر گُپت کا بتایا۔ چانکیہ خاموش ہو گیا ۔
لیکن اُس نے سبق  پڑھانے  کے بعد ،  دس سالہ  کنیز زادے ،چندر   سے ملا ،
پوچھا   ،" راج کماروں کو یہ جواب تم نے بتا یا ہے ؟"
 جواب ہاں میں ملنے پر ، چانکیہ کی پریشانی مزید بڑھ گئی کہ اُس سے بڑا گیا نی یہاں کون ہے ؟
تمھارا گرو کون ہے ؟ چانکیہ نے پوچھا ، تو اُس نے چانکیہ کی طرف اُنگلی اُٹھا دی ۔

 چانکیہ کو جب یہ معلوم ہوا ، کہ یہ کنیز زادہ ، اپنے علم کی پیاس ، اُس کا لیکچر چھپ کر سُن کر بجھاتاہے ،  چانکیہ نے مزید سوال پوچھے جو اُس نے راج کماروں  کو پڑھائے تھے ، چندر نے فر فر جواب دے کر چانکیہ کو حیران کردیا ۔
ہندو قانون میں یہ سخت جرم تھا ، کہ اگر براہمنی اشلوک کسی نیچ کے کان میں پہنچ گئے تو ، اُس کے کان  آئیندہ سننے سے ہمیشہ کے لئے محروم کر دئیے جاتے ۔ اور یہاں تو یہ بچہ ، صرف ایک اشلوک تو کیا  ، اُس کی ارتھ شاستر  کے پڑھائے گئے ، تمام لیکچرز حفظ   کر رکھے ہیں ، تسلی کی ایک بات یہ تھی کہ چندر میں  باپ کی طرف سے شاہی خون تھا ، وہ راجہ تو  نہیں بن سکتا تھا لیکن ، منصب دار  بننے کے قابل ہو سکتا تھا ۔
چانکیہ نے اُسے ، راجکماروں کی کلاس میں تو داخل نہیں کروایا لیکن اُسے  دروازے کے باہر بیٹھ کر  لیکچر سننے کی اجازت دے دی ۔

بادشاہت قائم کرنے کے بعد ،چندر گُپت نے  چانکیہ کو اپنے پاس بلوایا  اور اُسے موریہ سلطنت کا   وزیر اعظم مقرر کیا ،  اپنے 40 سالہ ، وزیر چانکیہ  کی مدد سے ، چندر گپت یونانی اثرات کو  مکمل زائل کرنے کے بعد مگدھ کی ریاست پر حملہ آور ہوا۔ اس جنگ میں نند خاندان کا آخری حکمران مارا گیا۔
  چندر گپت سے تاریخ ہند کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ جو شمالی ہند کے اتحاد اور ہندو تمدّن کی نشونماہ نظام حکومت کی توسیع اور برہمنت کے اثر و رسوخ کے لحاظ سے خاص اہمیت کا حامل ہے۔ یہ پہلا حکمران ہے جس نے شمالی ہند کی تمام ریاستوں کو زیر کرکے ایک متحدہ حکومت کی بنیاد رکھی اور اپنی مملکت کو خلیج بنگال سے لیکر بحیرہ عرب تک وسیع کیا۔ اس نے اپنے چوبیس سالہ (322ء تا 298ء ق م) دور میں بڑی بڑی جنگیں لڑیں، جس میں سب سے اہم جنگ سکندر کے سالار سلوکس Seleuces سے لڑی۔ 

 سلوکس نے سکندر کے مفتوع علاقوں کو فتح کرنے کی کوشش کی۔ سلوکس نے 305 ؁ ق م میں پاک وہند کی طرف قدم بڑھایا، مگر اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور پنجاب کی سرزمین پر شکست کھانے کے بعد ایک شرمناک معاہدہ کرنے پر مجبور ہوا۔ جس کے رو سے وہ نہ صرف ہندی مقبوضات سے بلکہ کابل، قندھار، ہرات، اور بلوچستان سے بھی دستبردار ہوگیا۔ نیز تعلقات کو خوشگوار بنانے کے لئے اس نے اپنی بیٹی کی شادی چندر گپت سے کردی۔ چندر گپت نے محض اس کی بات رکھنے کے لئے پانسو ہاتھیوں کا تحفہ بھیجا۔ سلوکس نے اپنے ایک سفیر میگھستینز کو اس کے دربار میں بھیجا، جس نے اس عہد کے حالات تفصیل سے قلمبند کئے ہیں۔ اس جنگ کے بعد موریا سلطنت کی سرحدیں مکران و افغانستان تک وسیع ہوگئیں۔
جین روایات کے مطابق چندر گپت نے آخری زمانے میں جین مت قبول کرلیا تھا ۔
 
اچاریہ  وشنو گپت چانکیہ  کے بارے میں مشہور ہے ، کہ وہ اپنی  دھن کا پکا اور اول درجے کا ذہین ،زیرک اور شطرنجی  ذہن کا مالک ، سیاست  کی چالوں کو بخوبی پہچاننے والا اور اُس کے دور رَس نتائج کو اخذ کرنے والا   شخص تھا ، ااُسے مغربی دنیا میں سیاسی و معاشی علوم کے بانیوں میں جانا جاتا ہے – لیکن اس میں ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ باوجود عیش و عشرت کے تمام سامان مہیا ہونے کے حددرجہ سادہ زندگی بسر کرتا تھا۔ شاہی محل کے نزدیک ایک جھونپڑی میں اس کی رہائش تھی۔ کہا جاتا ہے کہ عیش و عشرت  انسانی دماغ پر چربی چڑھا کر اُسے کند ذہن  اور خوشامد پرست بنا دیتے ہیں ،    اگر ہم  تاریخ پر نظر ڈالیں ، تو گھوڑے اور ہاتھی کی پیٹھ پر سوار رہنے والوں نے  فتح کے جھنڈے گاڑے ، لیکن جہاں وہ اطلس و کمخواب کے نرم و گداز خوابگاہوں کی زینت بنے  ، حکومت اُن کے ہاتھ سے پِھسل گئیں ۔   اُس نے سیاست پر ایک کتاب ’’ارتھ شاستر‘‘ لکھی جس میں چندرگپت کے حالات کو بہت خوبی سے قلمبند کیا ہے۔
   چانکیہ اپنے دشمن کی چالوں کا جواب دینا لازم سمجھتا تھا جلد یا  دیر سے ، کیوں کہ اُس کا خیال تھا کہ دشمن ایک سانپ کی مانند ہے اورسانپ پر رحم کھانا ، خود کو آئندہ  ، تباہی میں دھکیلنا ہے ، یہ خوبی یا خامی ہر  سلطنت گر میں پائی جاتی تھی ، کہ  سانپ کو مارنے کے بجائے اُس کے دانت نکال کر بطور کینچوا، اپنے ساتھ رکھتے لیکن یہ بھول جاتے کہ دانت نکالنے سے سانپ کی فطرت نہیں بدلتی ۔ وہ خود کچھ کرنے کا اہل نہیں رہے لیکن وہ کسی طالع آزماء کو اپنے قالب میں تو ڈھال سکتا ہے۔
مغل بادشاہوں  کی تاریخ سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے ، یہی وجہ ہے  کہ  چھٹے مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے چانکیہ پالیسی کے تحت اپنے بھائیوں ، کو اگلے جہان سدھار دیا  کہ  جہاں سے وہ کسی طالع آزما کے کندھے پر سوار نہ ہو سکتے تھے ، ایک بھائی کو باپ شاہ جہاں کی اُسے قتل نہ کرنے کی  درخواست پر اندھا کر کے ، قید خانے میں قید رکھا اور آرام سے   ہندوستان پر  49 سال حکومت کی اور اپنے ظلم و بربریت کو مذھب و ولائیت کا چوغہ اپنے درباری ملاؤں سے پہنایا اور مذہبی پیشواؤں میں عالمگیر شہرت حاصل کروا لی ۔


چانکیہ کا دور یونانیوں کے عروج کا زمانہ تھا ، معروف یونانی فاتح سکندر اعظم  (350- 323 قبل مسیح) کی سلطنت میں ، ایران ، افغانستان ،  دریائے جہلم ، ملتان  تک ہندوستان اپنی ریاست میں شامل کر کے وہ واپس مقدونیہ ہوا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

’ارتھ شاستر‘نے برصغیر کے تمدن اور اسلوب سیاست پر گزشتہ دو ہزار سال کے دوران جو اثرات مرتب کیے ہیں ان کے نقوش آئندہ کئی صدیوں تک بھی واضح رہیں گے۔چانکیہ   ، نے اس کتاب میں قدیم ہندوستانی تمدن کے ہر پہلو کو اپنی تحریر کا موضوع بنایا ہے۔علوم وفنون ،زراعت،معیشت،اردواجیات،سیاسیات،صنعت وحرفت ،قوانین،رسوم ورواج،توہمات،ادویات،فوجی مہارت،سیاسی وغیر سیاسی معاہدات اور ریاست کے استحکام سمیت ہر وہ موضوع   چانکیہ  ،کی فکر کے وسیع دامن میں سماگیا ہے جو سوچ میں آسکتا ہے ۔علم سیاسیت کے پنڈت کہیں چانکیہ   ، کو اس کی متنوع علمی دستگاہ کی وجہ سے ہندوستان کا ارسطو کہتے ہیں اور کہیں ایک نئے اور واضح تر سیاسی نظام کا خالق ہونے کے باعث اس کا موازنہ میکاولی سے کیا جاتا ہے ۔بہر حال یہ کتاب اس کے افکار ونظریات کو سمجھنے کا معتبر ماخذ ہے۔
 ہندوستان کے حکمران نندا کے دربار میں بڑے فخر سے متعارف کراتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کتاب طریقۂ حکمرانی اور ڈپلومیسی معاملات میں نہایت مفید نسخہ ہے۔ مگر نندا کے درباری وزیروں نے چانکیہ کی مخالفت کی ،  چندر گپت موریا کی اس سارے مہم میں چانکیہ  ،ان کے صلاح کار رہے۔
اردھ شاستر میں طریقہ حکمرانی کے ساتھ شہری سطح تک کے ایڈمنسٹریٹو طریقہ کار، کسٹم کا نظام، رات کے کرفیو کے طریقے، جاسوسی اور مخبری کے نظام کے علاوہ ڈپلومیسی کے ایسے معاملات وضع کیے ہوئے ہیں جو میکاولی کے فلسفہ ڈپلومیسی سے بھی بہتر کارگر ہیں۔ اردھ شاستر میں تحریر ڈپلومیسی میں بعض معاملات میں افواہ سازی کو حکمرانی کے لیے نہایت مفید بتایا گیا ہے اور اس کے کئی طریقے بھی وضع کیے ہوئے ہیں۔
مثلاً اگر راجہ کو کسی ایسے کام کرنے کی ضرورت پڑے جو پرجا (عوام) میں ناخوشگوار اثرات کا حامل ہویعنی کسی ایک گروہ کو دوسرے کے ساتھ لڑا کر دونوں کو مٹانا مقصود ہو تو پھر ان کے آپس کے معاملات میں جھوٹے بہتانوں کو افواہوں کے ذریعے پرجا یعنی عوام میں پھیلایا جاتا ہے۔ حکومتی کارندے نجومیوں کے روپ میں پشین گوئیاں کرکے اور پھر یوگی کے روپ میں ملک کے طول و عرض میں سفر کرکے افواہیں پھیلاتے ہیں۔ یہ سب کچھ کرنے کے بعد جس ترکیب سے راجہ نے دونوں مخالف گروہوں کو لڑانا ہو تو اس کے لیے بھی ان میں اپنے کارندے شامل کروا کر آپس میں ان گروہوں کو لڑا کر ان کی طاقت ختم کرکے راجا سکون سے حکمرانی کرتا ہے۔ ایسی کئی ترکیبیں ہیں جن میں افواہ سازی اور ان کو پھیلانا نہایت ضروری ہوتا ہے۔
 ڈیڑھ سو ابواب پر مشتمل اس تاریخی دستاویز میں اپنے ہمسائے کو تباہ وبرباد کرنے, دشمن کے خلاف ریشہ دوانیاں, ہمسایہ ریاست کے امن و امان کو تہہ وبالا کرنے, بیماریاں پھیلانے, افواہیں پھیلانے, زہر خورانی, دھوکا دہی, تخریب کاری, دہشت گردی, کے مختلف طریقہ لکھے گئے ہیں اور حاکم وقت کو یہ بتایا گیا ہے کہ اس طرح سے وہ غیر قانونی, غیر اخلاقی,غیر مذہبی غیر انسانی طریقوں کو بروئے کار لاکر نہ صرف اپنی بادشاہت قائم رکھ سکتا ہے بلکہ اس کا رعب ودبدبہ بھی اپنے دشمنوں اور ہمسایہ ریاستوں پر قائم رہے گا, اور وہ ہمیشہ اس کی باجگزار رہیں گی.
 چین کے عسکری مفکر سون زو نے فن جاسوسی پر 510 سال قبل مسیح میں مشہور زمانہ کتاب آرٹ آف وار پنگ فا ،
Art of War Pingfa  لکھی تھی. اس کے بعد کوٹلیہ کی کتاب Arth Shastra ہی اس فن کی اہم کتاب سمجھی جاتی ہے, قدیم ہندو تہذیب کی کتاب کادمبرQadamber کا مصنف بانا Bana ارتھ شاستر Arth Shastra کے متعلق لکھتا ہے۔
ارتھ شاستر سیاست اور حکومت کرنے کے ایسے طریقوں کی تعلیم دیتی ہے جس کی بنیاد ظلم و بے رحمی ہے, جس میں حکومتی عمال یا حکام کو دھوکا دہی کا سبق پڑھایا جاتا ہے.
اس کی ہوشیاری, باریک بینی, اور دوراندیشی کے بارے میں ایک قصہ مشہور ہے, ملاحظہ فرمائیں..
ایک بار چانکیہ اپنے پیروکاروں کے ساتھ جنگل میں ٹھہرا ہوا تھا شام کے وقت اپنے چیلوں کو ہمراہ لیے وہ جنگل کی سیر کی لئے نکل گیا سیر کے دوران چانکیہ کا گزر ایک خاردار جھاڑی کے قریب سے ہوا,ذرا سی بد احتیاطی کی وجہ سے اس کو ایک کانٹا چبھ گیا, کانٹا چبھنے کی دیر تھی کہ چانکیہ مارے درد کے چلا اٹھا, چیلوں نے کہا کہ حضور جھاڑی کو صفحہ ہستی سے مٹا دیتے ہیں, لیکن چانکیہ نے انہیں ایسا کرنے سے منع کر دیا, سیر کے بعد وہ واپس اپنی آرام گاہ میں پہنچا تو اس نے چیلوں کو شربت تیار کرنے کا حکم دیا, جب شربت تیار ہوگیا تو وہ اسے لے کر خار دار جھاڑی کے پاس پہنچا اور اس پر سارا شربت انڈیل دیا, صبح ہونے پر چیلوں کو حکم دیا کہ جاؤ جھاڑی دیکھ کر آؤ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ وہاں جھاڑی کا نام و نشان تک نہیں تھا, چیونٹیوں کے ایک گروہ نے مٹھاس کی وجہ سے اس پودے پر یلغار کردی تھی اور مٹھاس کے ساتھ ساتھ پودے کو بھی چاٹ کرختم کردیا تھا.
یہ اس کی دوراندیشی اور ٹھنڈے دماغ سے دشمن کو مفتوح کرنے کی ادنیٰ سی مثال ہے, ایک واقعہ اور ملاحظہ فرمائیں.
ایک مرتبہ چندر گپت موریہ نے چانکیہ سے پوچھا تھا.
’’گرو ! تگڑے دشمن پر حملہ کب کرنا چاہیے"؟
چانکیہ نے جواب دیا.
’’مہاراج دشمن انسان ہو یا ملک اس کی اصل طاقت اس کے بھائی, اس کے دوست, اس کے عزیز اور اس کے ہمدرد ہوتے ہیں, چنانچہ تگڑے دشمن پر حملے سے پہلے اس کے ہمدردوں, اس کے عزیزوں, رشتے داروں, اور بھائیوں کواس سے دور کیا جائے, جب یہ یقین ہو جائے دشمن کا کوئی دوست, کوئی ہمدرد اب اس کا ساتھ نہیں دے گا تو دشمن پر فورا فوجیں چڑھا دی جائیں". چندر گپت نے چانکیہ سے پھر پوچھا.
"گرو ! کسی حکمران کا سب سے بڑا ہمدرد کون ہوتا ہے ؟ چانکیہ نے فورا جواب دیا عوام".
چانکیہ کا کہنا تھا اگر عوام کسی حکمران کی ساتھ ہوں تو اسے کسی دوسرے ہمدرد کی ضرورت نہیں ہوتی اور اگر عوام کسی حکمران کو پسند نہ کریں تو پوری دنیا کی ہمدردیاں بھی اس حکمران کونہیں بچا سکتیں.
چانکیہ ہندوؤں کے یہاں ایک سیاسی فلسفی کے طور پر مشہور ہے, وہ فلسفی سیاسیات ہونے کے حوالے سے اپنے آپ کو کوٹلیہ کہلانے میں فخر محسوس کرتا تھا, کیونکہ کوٹلیہ کے معنی مکار اور فریب کار کے ہیں, ہندووں کی تصانیف میں چانکیہ عرف کوٹلیہ کی تحریر کردہ کتاب ارتھ شاستر کو بہت اہمیت حاصل ھے, چانکیہ دھن کا پکا اور اول درجے کا ذہین, زیرک اور سازشی ذہن رکھنے والا تھا, اس نے سیاست پر ایک کتاب ارتھ شاستر لکھی جس میں چندرگپت کے حالات کوبہت خوبی سے قلمبند کیا ہے.
ارتھ شاستر میں لکھے گئے اس کے کچھ اصول و ضوابط درج ذیل ہیں.
(1) حصول اقتدار اور ملک گیری کی ہوس کبھی ٹھنڈی نہ ہونے پائے.
(2) ہمسایہ سلطنتوں سے وہی سلوک کیا جائے جو دشمنوں سے کیا جاتا ہے اور ان پر کڑی نظر رکھی جائے.
(3) غیر ہمسایہ سلطنتوں سے دوستانہ تعلقات رکھے جائیں جن سے دوستی رکھی جائے ان سے دوستی میں ہمیشہ اپنی غرض پیش نظر رہے اور مکارانہ سیاست کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوٹے.
(4) دل میں ہمیشہ رقابت کی آگ روشن رکھی جائے.
(5) ہر بہانے سے جنگ کی چنگاریاں سلگائی جائیں.
(6) جنگ میں انتہائی تشدد سے کام لیا جائے, یہاں تک کہ خود اپنے شہریوں کے مصائب و آلام کی پرواہ نہ کی جائے.
(7) دوسرے ملکوں میں مخالفانہ پروپیگینڈا, تخریبی کاروائیاں, بدامنی پیدا کرنے کی مہم جاری رکھی جائے.
(8) پڑوسی ممالک میں اپنے آدمی ناجائز ذرائع سے داخل کر کے خفیہ محاذ قائم کیا جائے جو وہاں کی حکومت کے خلاف سازشیں برپا کرے.
(9) رشوت اور دیگر ذرائع سے اقتصادی جنگ جاری رکھی جائے اور دوسرے ملکوں کےغداروں کو خریدنے کی کوشش کی جائے.
(10) امن کے قیام کا خیال دل میں نہ لایا جائےخواہ ساری دنیا اس پر مجبور کرے.

انھیں سب سیاسی اصولوں, قواعد و ضوابط کی بنا پر کوٹلیہ عرف چانکیہ کو ہندوں کابابائے سیاست مانا جاتا ہے.کٹر ہندو اسے بھگوان کا اوتار تک مانتے ہیں.



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔