میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 30 جولائی، 2017

فرانسیسی اور پاکستانی !



ہم اُس احمق قوم سے تعلق رکھتے ہیں ، جو دوسری قوموں کے افسانوی قصے پڑھتے ہیں ، تھوڑی دریر تک اُس افسانے کے سحر میں گرفتار ہو کر سوچتے ہیں :
کاش ہمارے ملک میں بھی کوئی ایسا سحر افسوں فرد ہوتا ہے ۔
1- جو مٹھی بھی آٹا فالتو ہونے پر بیت المال میں جمع کرواتا ۔

2- فرات کے کنارے پیاسے کُتے کا خیال رکھنے پر زور دیتا ۔

3- سر کے نیچے پتھر رکھ کر سونے والا لاکھوں مربع میل مملکت پر حکومت کرتا ۔

جب  کسی دوسری قوم کا فرد  ہماری طرف نظر ڈالتا ہے :
1- ہماری خوش خوارکی اور ضیاؑع خوارکی پر افسوس کرتا ہے ۔

2- جانوروں سے محبت کا صفحہ(کتے اور کوّے کو مار دو)  ہماری کتاب میں موجود نہ پاتا ۔

3- ہماری خوابگاہوں کا موازنہ کرتا ہے تو ہمیں ایک عیاش مملکت کا فرد پاتا ہے ۔


کاش ہم اِس مختصر سی تحریر کا تاثر اپنی روح میں ہمیشہ کے لئے اتار لیں ۔
ٖفرانسیسیوں تاریخ ، اِن دوسو الفاظ پر مشتمل نہیں ، ایک غیور قوم کی داستان ہے ۔ جو آج بھی فرانسیسی ہے اور کل بھی فرانسیسی تھی ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مہاجرزادہ : کے ذہن سے تلخی کا نکل کر   صفحے پر بکھرنے کا سبب ایک پیارے دوست  میاں ذوالقرنین عامر کی درج ذیل پوسٹ   ہے  پڑھئیے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


فرانس کے مشہور گاؤں ’’ کولمبے لیڈو زگ لیزا‘‘ کے ایک خوبصورت مکان میں بیٹھا چارلس ڈیگال اقتدار کی راہداریوں میں گزرے سنہرے وقت کو کاغذکے پنوں پر سمیٹ رہا تھا، شاید وہ اسے جامع کر کے ایک خودنوشت تصنیف کرنا چاہتا تھا۔ یہ انیس سو سینتالیس کا زمانہ تھا۔
 فوجی سکول کا پڑھا ہوا چارلس ڈیگال فطری طور پر جرمنوں سے نفرت کرتا تھا اور جرمنوں کو اپنے ملک پر قابض سمجھتا تھا۔ دوسری جنگ عظیم نے اسے جنرل بنایا تو فرانس جرمنی کے قبضے میں چلا گیا اور چارلس ڈیگال جلا وطن ہو کر برطانیہ میں جا ٹھہرا۔ مفرور سپاہیوں کو اکٹھا کرتا رہا، حکماء اور سفراء سے مذاکرات کئے گئے۔ بالآخر فرانس آزاد کرا لیا گیا۔ قوم نے اسے ’’آزاد فرانس‘‘ کا لیڈر مان لیا۔ 
 ڈیگال ہمہ جہتی سے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی میں لگ گیا۔ نیا آئین تشکیل دیا گیا۔ فنون لطیفہ بحال کئے گئے، صنعتوں کے بند تالوں کو کھولا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے خوشبوؤں کے مرکز میں بہار آ گئی۔ سماج اور معیشت نے تسلسل پکڑ لیا۔ لیکن ، اس سب کے دوران قوم کہیں آزاد فرانس کے حکمران چارلس ڈیگال سے اکتا گئی اور اسے نکال باہر کرنے کے در پہ ہو گئی۔ 
 ڈیگال نے جمہور کی خواہش اور امنگ مقدم رکھی۔ کسی تکرار اور تصادم کو ہوا نہ دی۔ رخت سفر باندھا، صدارتی محل چھوڑا اور اپنے خوبصورت گاؤں ’’کولمبے لیڈو زگ لیزا‘‘ میں جا کر مقیم ہو گیا۔ دن بھر کھیتی باڑی کرتا، شام کی چائے کے وقت سوچیں مجتمع کرتا اور رات کے کسی پہر خودنوشت کے قرطاس پر بکھیر دیتا۔ 
 سینکڑوں ہمنواؤں، ہزاروں چاہنے والوں ، اور لاکھوں فرانسیسی عوام کو یکسر ترک کر کے ڈیگال نے گوشہ نشینی اختیار کئے رکھی۔ اس نے بولنا چھوڑ دیا تھا، صرف پڑھتا ور لکھتا تھا۔ کوئی متجسس اسکی ذات کے ٹھہرے پانیوں میں مخل ہونے کی کوشش کرتا تو بھی وہ خاموش رہتا۔ لوگ اسکے مکان کے قریب سے گزرتے، دروازے پر لگی اسکے نام کی پلیٹ پر لکھا ’’چارلس ڈیگال‘‘پڑھتے، لمحے کو رکتے اور پھر کوچ کر جاتے۔ 1946 سے 1958 تک چارلس ڈیگال  کے سال تنہائی ،میں گزار دئیے۔ 
 فرانس کے مشہور گاؤں ’’ کولمبے لیڈو زگ لیزا‘‘ کے ایک خوبصورت مکان میں معمول کی طرح وہ سو کر اٹھا، ارد گرد بکھری کتابیں سمیٹی تو اسکی سماعت ایک مسلسل اور آہستہ آہستہ آنے والی آواز پر ٹھہر گئی۔ اس نے کان لگائے، اپنی سماعتوں کو آواز کے تعاقب میں دوڑایا اور پھر کھڑکی کا پردہ اٹھا دیا۔ ایک جم غفیر اس چھوٹے سے گاؤں کے کھیت کھلیانوں کے کچے راستوں سے ہوتا اسی کے مکان کی جانب بڑھ رہا تھا۔ کچھ لوگ اسکے دروازے کے باہر اسکے جاگ جانے کے منتظر تھے۔ یہ انیس سو اٹھاون کا زمانہ تھا۔
 لوگوں کو بارہ سال بعد چارلس ڈیگال سے کھوئی محبت یاد نہیں آئی تھی۔ انہیں فرانس کے ستم رسیدہ حالات، بنتی بگڑتی حکومتوں اور آئین کی پامالیوں سے تنگی اس چھوٹے مگر خوبصورت گاؤں ’’ کولمبے لیڈو زگ لیزا‘‘کی راہ پر لے آئی تھی۔ بارہ سال تک خاموش رہنے والے ڈیگال نے انکے چہروں پر دھول کی مانند جمی ستم ظریفی اور محرومیوں کو پڑھ لیا تھا۔ منہ میں سگار سلگائے، وہ مسکرایا اور عوام کے پیچھے پیرس کو چل دیا۔ 
 اسے وزیراعظم بنا دیا گیا، فرانسیسیوں نے اسے ہنگامی اختیارات سونپ دئیے۔ اس نے ایک بار پھر آئین تشکیل دیا، پارلیمانی جمہوریت کو صدارتی نظام سے تبدیل کیا اور اسکی بارہ سالہ خاموشیاں فرانسیسی معاشرے میں انقلاب بن کر چیخنے لگیں۔ کیا معاشرت، کیا معیشت اور کیا سفارتکاری، ڈیگال آگے بڑھتا گیا۔ فرانس کو نیوکلئر پاور بنایا اور دنیا بھر سے تعلقات قائم کئے۔ سرد جنگ میں جب دنیا نیٹو جیسی تنظیم تشکیل دے رہی تھی ڈیگال کے فرانس نے اس میں سب سے زیادہ اور اہم کردار ادا کیا۔ چین سے پوری مغربی دنیا کے تعلقات ختم تھے، ڈیگال نے یورپی دنیا میں پہلا قدم اٹھاتے ہوئے چین کو تسلیم کیا۔
1968 میں ڈیگال کی تیسری بار حکومت کیلئے انتخابات ہوئے تو اسکی جماعت نے 487  میں سے 352 سیٹیں جیت کر فتح اپنے نام کی لیکن دس سالوں میں بہت کچھ بدل گیا تھا۔ لوگ ایک بار پھر اکتا گئے تھے۔ اس نے حکومت بنانے کے بعد اپنی مقبولیت جاننے کیلئے سروے کرایا اور یہ جان کر اسے کوئی حیرانی نہ ہوئی کہ لوگوں کو اب اس میں دلچسپی نہ رہی تھی۔ فرانسیسی اسے بوڑھا سمجھنے لگے تھے اسکی پالیسیوں پر آوازیں اٹھا رہے تھے۔ وہ اکثریت سے کامیاب ہوا تھا ۔ ۔ ۔سینیٹ اور بلدیاتی نظام میں اصلاحات چاہتا تھا، ، لیکن ، ، لوگوں نے ریفرنڈم میں اسے مسترد کر دیا۔ 
 اس نے کوئی کارنامے نہ گنوائے، اس نے قوم کو نہیں کہا کہ وہ آزاد فرانس کا موجد ہے۔ وہ نیوکلئر فرانس کا ڈیزائنر ہے۔ وہ جدید فرانس کا آرکیٹیکٹ ہے یا فرانسیسی ترقی کا ضامن ہے۔ اپریل 1969 میں اس نے دوسری خاموشی اختیار کی، استعفٰی دیا اور ریٹائرمنٹ لے لی۔ اور واپس کھیتوں کھلیانوں کی ہریالی میں گھرے اپنے گاؤں ’’ کولمبے لیڈو زگ لیزا‘‘ آ گیا۔ خود نوشت ادھوری تھی۔ ڈیگال اس بار مزید دس سالوں کے کارناموں کا اضافہ کر کے واپس لوٹا تھا اور اس نے تحریر شروع کر دی۔ 
ڈیگال اسی سال کا ہونے والا تھا۔ نومبر 1970 کو ’’ کولمبے لیڈو زگ لیزا‘‘ کے اسی خوبصورت مکان میں بیٹھا چارلس ڈیگال ٹیلیویژن پر شام سات بجے کی خبریں دیکھ رہا تھا۔ کہ اسکی گردن میں درد ہوا۔ ایمبولینس بلائی گئی لیکن شریان پھٹ جانے کے باعث وہ جانبر نہ ہو سکا۔ اسکی موت کی خبر اٹھارہ گھنٹوں بعد دارالحکومت میں پہنچی۔ اسوقت کے صدر جارج پومپیڈو نے ٹیلیویژن پر اعلان کیا، ’’افسوس فرانس بیوہ ہو گئی،،،، چارلس ڈیگال مر گیا‘‘ ۔ 
 ایک بار پھر ’’ کولمبے لیڈو زگ لیزا‘‘ کی پکڈنڈیوں پر فرانسیسی عوام کا ہجوم تھا۔ کئی ممالک کے صدور، حکام اور سفراء اسے الوداع کرنے آئے تھے۔ اس چھوٹے مگر خوبصورت مکان کے ایک کمرے کی ٹیبل پر پڑی ڈیگال کی خودنوشت اس جملے کا کلاصہ بن کر مکمل ہو چکی تھی کہ لیڈروں کے کارنامے بیج کی طرح ہوتے ہیں، جیسے کسان بیج  بو کر خاموشی سے انتظار کرتا ہے، لیڈر کو بھی خاموش بیٹھ کر نتیجے کا انتطار کرنا چاہیے۔


آج کا ترقی یافتہ، جدید اور جمہوری فرانس ڈیگال کے بوئے ہوئے بیج کا نتیجہ ہے۔




خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔