میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 31 جولائی، 2017

کیا استاد ضروری ہے ؟

ایک خاتون نے انگریزی پڑھی - ان کے والد مولوی تھے - ان کے گھر پر انگریزی کا ماحول نہ تھا - چنانچہ ایم اے( انگلش ) انہوں نے بمشکل تھرڈ نمبروں سے پاس کیا - ان کا شوق تھا کہ ان کو انگریزی لکھنا آ جائے - یہ کام ایک اچھے استاد کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا - لیکن ان کے گھر کے حالات اس کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ وہ کوئی استاد رکھیں اور اس کی مدد سے اپنے اندر انگریزی لکھنے کی صلاحیت پیدا کریں - 
 مگر جہاں تمام راستے بند ہوتے ہیں وہاں بھی ایک راستہ آدمی کے لئے کھلا ہوتا ہے - شرط صرف یہ ہے کہ آدمی کے اندر طلب ہو اور وہ اپنے مقصد کے حصول میں اپنی پوری طاقت لگا دے - خاتون نے استاد کے مسئلہ کا ایک نہایت کامیاب حل تلاش کر لیا - انہوں نے لندن کی ایک چھپی ہوئی ایک کتاب پڑھی -
 اس میں انگریز مصنف نے بیرونی ملکوں کے انگریزی طالب علموں کو یہ مشورہ دیا تھا ، کہ وہ : 
انگریزی لکھنے کی مشق اس طرح کریں کہ کسی اہل زبان کی لکھی ہوئی کوئی کتاب لے لیں - اس کے بعد روزانہ اس سے چند صفحات لے کر پہلے اس کا اپنی زبان میں ترجمہ کریں پھر کتاب بند کر کے الگ رکھ دیں - اور اپنے ترجمہ کو بطور خود انگریزی میں منتقل کریں - جب ایسا کر لیں تو اس سے کے بعد دوبارہ کتاب کھولیں اور اس کی چھپی ہوئی عبارت سے اپنے انگریزی ترجمہ کا مقابلہ کریں - جہاں نظر آئے کہ انہوں نے کوئی غلطی کی ہے یا طریق اظہار میں کوتاہی ہوئی ہے اس کو اچھی طرح ذہن کی گرفت میں لائیں اور کتاب کی روشنی میں خود ہی اپنے مضمون کی اصلاح کریں -
خاتون نے اس بات کو پکڑ لیا - اب وہ روزانہ اس پر عمل کرنے لگیں - انگریزی اخبار یا رسالہ یا کسی کتاب سے انگریزی کا کوئی مضمون لے کر وہ روزانہ اس کو اردو میں ترجمہ کرتیں اور پهر اپنے اردو ترجمہ کو دوبارہ انگریزی میں منتقل کرتیں اور پهر اپنے انگریزی ترجمہ کو اصل عبارت سے ملا کر دیکھتیں کہ کہاں کہاں فرق ہے - کہاں کہاں ان سے کوئی کمی ہوئی ہے - اس طرح وہ روزانہ تقریباً دو سال تک کرتی رہیں - اس کے بعد ان کی انگریزی اتنی اچھی ہو گئی کہ وہ انگریزی میں مضامین لکھنے لگیں - ان کے مضامین انگریزی جرائد میں چھپنے لگے -
 ان کے بھائی نے ایکسپورٹ کا کام شروع کیا جس میں انگریزی خط و کتابت کی کافی ضرورت پڑتی تھی - خاتون نے انگریزی خط و کتابت کا پورا کام سنبھال لیا اور اس کو کامیابی کے ساتھ انجام دیا -
 مذکورہ خاتون نے جو تجربہ انگریزی زبان میں وہی تجربہ دوسری زبانوں میں بھی کیا جا سکتا ہے -
ہماری دنیا کی ایک عجیب خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کسی کامیابی تک پہنچنے کے بہت سے ممکن طریقے ہوتے ہیں - کچھ دروازے آدمی کے اوپر بند ہو جائیں تب بھی کچهہ دوسرے دروازے کھلے ہوتے ہیں جن میں داخل ہو کر وہ اپنی منزل تک پہنچ سکتا ہے - یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی شخص کی ناکامی کا سبب ہمیشہ پست ہمتی ہوتا ہے نہ کہ اس کے لیے مواقع کا نہ ہونا -
راز حیات
علامہ  وحیدالدین خان
(بشکریہ : ثناء  اللہ خان ) 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
میں نے الکتاب  کو اِسی طرح سمجھا ۔    یسرنا القرآن

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔