میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 22 جولائی، 2017

واردات کے پیچھے !

موسم حبس آلود تھا ، گالف گراونڈ میں ہر طرف سبزہ بکھرا ہوا تھا ، مخالف ٹیم کے ساتھ   ڈٹ کر مقابلہ ہوا ،  اٹھارویں ہول پر ، میری ایک معمولی غلطی سے وہ ، ایک پوائینٹ سے جیت گئی تھی ۔غلطی  کہیں یا لالچ ،  اچھا بھلا کھیل رہا تھا ، نجانے کیا سوجھی ، کہ آج آخری ہول پر " برڈی" کی جائے ۔  پارٹنر نے چائے پیتے وقت  مذاق میں خوب کھنچائی کی ،  کل وہ غلطی نہیں کرنی ، گھر کے نزدیک موڑ کاٹتے  وقت میں نے سوچا  اور  گاڑی مین روڈ سے  اپنی گلی کی طرف موڑ لی - گلی تاریک تھی ،  لائٹ گئی ہوئی تھی، ہر چوتھے گھر سے  جنریٹرز کے چلنے کی آوازیں آ رہی تھی ۔ ایک سایہ   یک دم گاڑی کے سامنے آگیا ،  گھبرا کر بریک لگائے ،  اس سے قبل کہ  کچھ سمجھ پاتا ، کہ میری کنپٹی پر ایک پستول آٹکا ،
"فورا! موبائل نکالو "، ایک بناوٹی خرخراتی آواز گونجی ۔
میں ششدر تھا  ، کہ کیا کروں ۔ وہی آوازدوبارہ گونجی
" میں نے کہا موبائل نکالو ، ورنہ ۔ ۔ ۔۔ ۔ !
میں نے  بریک لیور کے پاس پڑا ہوا ، موبائل   خراب سمارٹ فون جو اِسی مقصد کے لئے رکھا تھا ۔ اُٹھاکر اُس کی طرف بڑھا ۔
" دوسرا موبائل بھی نکالو " وہ بولا ۔
"یہ مجھے جانتا ہے!" ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ یک دم میری چھٹی حس بیدار ہوئی ،  میں نے نتائج کر پراوہ نہ کرتے ہوئے ، جھٹکے سے دروازہ  کھولا ، وه جو دروازے سے چپکا کھڑا تھا اس فوری ری ایکشن کے لیے شائد تیار نہ  تھا لڑکھڑا کر زمین پر گر گیا ، میں چیتے کی پھرتی سے نکلا  ، اور اُس کے اوپر بیٹھ کر ، پستول والے ھاتھ کو مضبوطی سے پکڑ لیا ، اس کے ہاتھ سے پستول گر  گر گیا ، میں نے ایک بھرپور پنچ مارا  اور اُس کا  نقاب اتار دیا،
یو لگا کہ میرے سر پر چٹان آگری ،و ہ کوئی اور نہیں میرا ڈرائیور تھا ،  جو پچھلے تین سال سے میرے پاس تھا ، جس کو میں باقی ڈرائیورں سے زیادہ تنخواہ دیتا تھا   ،  کبھی اونچی آوازمیں بات نہیں کی ، اُس کی ایمانداری  کا میں قائل تھا،  آج وہ چھٹی پر تھا ،-
مگر یہ کیا  ؟
میرا دماغ غصے سے اُبل پڑا ،
" نمک حرام ،  احسان فراموش ،  بے شرم !
تیری یہ ہمت کہ جس تھالی میں کھائے ، اُس میں چھید کرے!
 
  بے غیرت ، کُتا بھی اپنے مالک  پر حملہ نہیں کرتا تو  ، ایک موبائل کے لئے  مجھے قتل کرنے والا تھا ۔"
" صاحب ، پستول نقلی ہے، "   وہ  روہانسے لہجے میں بولا ۔
گھٹیا انسان اگر تجھے  موبائل چاھئیے تھا مجھے کہتا  میں تجھےموبائل دلوا دیتا ۔
" تو پھر اس حرکت کی کیا ضرورت تھی؟" میں دھاڑا ۔" اگر پیسوں کی ضرورت تھی تو  مجھے بتاتا یا بیگم صاحبہ سے مانگ لیتا ۔ "
 " صاحب : غلطی ہو گئی معاف کر دیں " وہ بولا۔
" چل اٹھ ، غلطی کے بچے " میں غرایا " تھانے چل" میں نے گاڑی کا دروازہ کھول کر اُسے دھکا دیتے ہوئے کہا ۔
" نہیں صاحب ،تھانے نہ لے جائیے " وہ بولا
" وہاں تھانیدار  ،جوتے مار مار کر پوچھے  گا ، تیرے غلطی کرنے والے گروہ کے متعلق ۔سالا ڈاکو " 
 اُس کے جواب نے میرے سر پر ایٹم بم پھاڑا ۔
" سر ، یہ حرکت میں نے بیگم صاحبہ کے کہنے پر کی تھی " وہ بولا
" کیا آ آ آ آ آ آ آ آ ! " میں بولا
" جی اُنہوں نے کہا تھا ، کہ اگر آج صاحب کا موبائل غائب نہیں کیا تو تیری چھٹی! وہ بولا
" میرا موبائل ! " میں حیرت سے بولا
"    کیوں ؟ اُنہیں کیا ضرورت میرے  موبائل کی ؟"
" بیگم صاحبہ ،  نے کہا  کہ گھر آکر اس منحوس موبائل میں ، ہر وقت گھسے رہتے ہیں ،  تجھے ہر قیمت پر آج یہ  موبائل چھینا  ہے ورنہ تیری نوکری سے چھٹی !"

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔