میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

جمعرات، 31 اگست، 2017

یومِ عرفہ اور اجتماعی شعور



 اجتماعی شعور(Collective Consciousness )  کی روح کو بیدار کرنے کے لئے ، مسلمانوں کا ایک عظیم الشان اجتماع , جو  9 ذی الحج کو  عرفات کے علاقے میں  برپا ہوتا ہے ۔ جس میں دنیا کے ہر دور دراز علاقوں کے رہنے والے مسلمان  صدیوں سے اپنے رسول کے مطابق اپنے اللہ کو منانے آتے ہیں ۔ 
عرفات کے میدان میں  سورج غروب ہونے سے  سے پہلے  انسانی گریہ زاری و مناجات  سے پیدا ہونے والی لہریں ،جن کا صرف ایک لمحہ حاصل ہوتا ہے ، کہ ماضی کی باعثِ شرم زندگی کی موت کے بعد نئی زندگی  نوید سننا  ۔
 مشہور ہے  کہ اُس لمحے یہاں موجود ہر انسان    نیا جنم لیتا ہے ۔
جس کے انسانی دنیا میں ہوش سنبھالنے سے  اِس لمحے سے پہلے اللہ  کے احکامات کے خلاف 
کئے جانے والے،تمام  منفی فعل و عمل کے ہر  چھوٹے بڑے ڈبوں کو وہ خود تالے لگا دیتا ہے ،
 اور  اپنے اللہ سے اپنے رسول کی موجودگی میں یہ عہد کرتا ہے ، کہ اب وہ اپنی  پچھلی زندگی کی غلطیوں کا اعادہ نہیں کرے گا ۔
اِس عظمِ صمیم کے بعد جب وہ سورج غروب ہونے کے بعد واپس ہوتا ہے ، تو  کہا جاتا ہے کہ اُس کا حج مکمل ہو گیا ۔
 اب وہ خود کو گناہوں پر اکسانے والے شیطان کو زد و کوب کرنے کے بعد دفن کرے گا اور اپنے اللہ اور اُس کے رسول کے ساتھ واپس   اپنے  گھر آجائے گا ۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے ، کہ یہ نومولود انسان ، یومِ عرفہ کا سورج غروب ہونے کے بعد کیا ، خودہی اپنے پرانے بکس  کھولنا شروع نہیں کر دیتا ؟
ایسا کیوں ہوتا ہے ؟
وہ نومولود  ، بالغ ہو کر اپنے گھر کیوں لوٹتا ہے ؟
کیا کسی کے پاس اِس سوال کا جواب ہے ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


بدھ، 30 اگست، 2017

شیطان نامہ - قسط نمبر- 49- سپیشل پوسٹ


 جویریہ سجاد کے سوال کے جواب میں سپیشل پوسٹ .

مس سجاد مجھے اب پھر پیچھے جانا پڑے گا اور واقعہ کربلا کی پوسٹ لگتا ہے آپ نے غور سے نہیں پڑہیں- واقعہ کربلا کے بعد کی ان رشتہ داریوں کے بیان کرنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ یہ جو ہاشمی ، علوی اور حسینی خواتین خاندان بنو امیہ میں کربلا کے بعد لگاتار بیاہی جاتی رہیں اور ان ہی کی شریک زندگی بنتی رہیں  اور یہ کہ  شیعا بھانڈوں کے مطابق ، جن کے،
باپ ، دادا ، تایا ، چچا اور قریب ترین عزیزوں کو میدان کربلا میں وحشیانہ مظالم کر کے اور پانی کی بوند بوند کے لئے ترسا اور تڑپا کے مارا گیا تھا-  بھیانک سے بھیانک ظلم جو ان راویوں نے گھڑے ہیں کہ ان ہی خواتین کی نانیوں ، دادیوں اور خاندانِ رسالت کی با پردہ ، عزت آبرو اور عصمت والی ہستیوں کو بے پردہ کیا ہو اور ننگے سر اور پاؤں مشکوف الوجود پھرایا گیا ہو اور ان کے مرنے والوں کے سر کٹوائے ہوں ،اور پھر ان سروں کی مشہوری کرا کے اپنے دربار میں منگوایا ہو ، ان کی لاشوں کے منہ اور دانتوں پر قمچیاں ماری ہوں ،ان کے سروں کو خزانے کی صندوقوں میں بند کر کے رکھا ہو ،گھوڑوں کی ٹاپوں سے ان لاشوں کی پشت اور سینہ چکنا چور کروایا ہو اور بچ جانے والوں کو گرفتار کر کے قیدیوں کی طرح ان کی تشہیر کرائی گئی ہو ۔
کیا آپ سوچ  سوچ سکتی  ہیں ؟ کہ اس کے بعد ایسے ظالم اور سفاق قاتلوں کے خاندان میں یہ عزت اور غیرت والی امام زادیاں کیسے اپنا رشتہ قبول کر سکتی تھیں؟
کیوں کہ یہ سب تو کربلا میں موجود تھیں   اور سب ظلم و ستم جو مشہور کئے گئے  کی چشمِ دید گواہ تھیں ۔
یا جن کی یہ اولادیں تھیں اُنہیں تو سب واقعات معلوم ہوں گے نا -
میں نے اسلامی تاریخ سے یہی تو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے،  کہ ظلم تو خود حضرت حسین اور ان کے ساتھیوں نے ( مسلم بن عقیل کے بھائی اور 65 کوفیوں ) نے کئے  کہ ایسے بے گناہ لوگوں کا قتل عام شروع کر دیا جو نواسہ رسول کے احترام میں تلوار نہیں اٹھانا چاہتے تھے اور انہوں نے قتل ہونا منظور کیا ۔مگر حضرت حسین پر تلوار نہیں اٹھائی - پھر وہ خواتین جو اِن قاتلوں کی زوجائیں بنی ں، ان خواتین کی رگوں میں اپنے اسلاف کا خون ہی دوڑتا تھا جو اپنی جان اپنی عزت کی خاطر لٹانا جانتے تھے . اگر ان ظلم کی داستانوں میں زرّہ  برابربھی حقیقت ہوتی توساری دنیا کی دولت بھی اگر مل جاتی تو یہ  خواتین رشتے قبول  نہیں  کرتیں ۔
پچھلی  قسط ( اولاد عباس کی قرابتیں)میں آپ حضرت حسین کی پوتی کا امیر یزید کے پوتے کے ساتھ نکاح کا حال پڑھ چکی ہو.ان کے بطن سے کئی بیٹے پیدا ہوے کئی نسلیں چلیں اور یہ بھی سوچو کہ ان ہاشمی خاتون کے والد ١٢ سال کی عمر میں اپنے والدین کے ساتھ کربلا میں خود موجود تھے اور سب واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے تو "سقائے اہل بیت"  کے یہ فرزند کس طرح اپنی بیٹی بیاہ کر کس دل سے ان کے گھر بھیج سکتے تھے کہ جہاں ان کے والد کا سر کٹا ہو اور جہاں ان کے چچا حسین کا سر کاٹ کر اسکی بے حرمتی کی گئی ہو !
ان حالات کی روشنی میں کیا تم خود اندازہ نہیں لگا سکتیں کہ ظلم و جور، قتل کرانے ، سر کٹوا کر منگوانے والی روایتیں بالکل بے اصل اور بے بنیاد ہیں . وہاں تو کوئی باقاعدہ جنگ ہوئی ہی نہیں تھی اور نہ مرنے والوں کے سر کسی نے کاٹے تھے نہ ہی ان کی تشہیر کرائی گئی تھی یہ تو ایک حادثہ اور المیہ تھا جو ،   برادران مسلم اور ان کے ساتھ چند کوفیوں کے فوجی دستہ پر نا عاقبت اندیشانہ حملہ کر دینے سے یکا یک پیش آ گیا اور گھنٹے یا آدھے گھنٹے میں ختم ہو کر دونوں طرف کے مقتولین کی نماز جنازہ پڑھ کے اسی وقت دفنا دیا گیا تھا-
سبائی راویوں نے کہ جن کی روایتوں سے طبریٰ اور بعد کے تمام مورخین نے یہ روایتیں اخذ کیں، اس حادثہ کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کیا تھا اور رائی کا پہاڑ بنا کر ان من گھڑت قصوں کا وہ انبار لگا دیا کہ خدا کی پناہ -
علامہ شبلی نعمانی جو اتنے کوئی بڑے مصنف نہیں تھے انہوں نے واقعہ کربلا کے بارے میں لکھا ہے کہ کربلا کے جو واقعات میر انیس اور تمام مرثیہ گویوں کی شاعری کا موزوں بنے ہیں یہ واقعات جہاں تک تاریخ سے ثابت ہوتا ہے نہایت مختصر ہیں . معرکہ کے لحاظ سے واقعہ کربلا کی صرف یہ حیثیت ہے کہ ایک طرف سو سوا سو آدمی تشنہ لب اور بے سرو سامان اور دوسری طرف تین چار ہزار کی فوج جو دفعتا ٹوٹ پڑی اور دو تین گھنٹے میں لڑائی کا خاتمہ ہو گیا.
اگر علامہ شبلی بھی طبری کی ان روایتوں کی  بجائے
، حقائق پر غور کرتے تو تشنہ لبی کا ذکر نہ کرتے اور نہ فوج کے یک دم ٹوٹ پڑنے کا کیونکہ طبری ہی کی ایک روایت میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ بس اتنی دیر میں ختم ہو گیا جتنی دیر میں ایک اونٹ کو صاف کرتے ہیں یا جتنی دیر میں قیلولے کے بعد آنکھ جھپک جائے ( طبری جلد 6 صفحہ 266 )اس اعتبار سے بھی گھنٹے یا آدھے گھنٹے کا ہی معاملہ ہو سکتا ہے-
ناسخ التواریخ کے مصنف نے ( در ذکر دفن شہداے بنی ہاشم و کربلا ) کے عنوان سے یہ تو تسلیم کیا ہے کہ حضرت حسین کی تدفین و تکفین اور کفن دفن کا انتظام ان کے صاحب زادے زین العابدین نے کیا تھا کیوں کہ ان کے نزدیک کسی امام کے کفن دفن کا انتظام ایک امام ہی کر سکتا ہے اور اس وقت سوائے
زین العابدین کے کوئی دوسرا امام روے زمین پر نہ تھا اور ساتھ ہی یہ بھی فرماتے ہیں کہ 12 محرم کو آپ امامت کی کرامت دکھا کر کوفہ سے خفیہ طور پر کربلا آئے اور نماز جنازہ پڑھا کر دفن کر کے لوٹ گیے.(صفحہ 318 جلد 6 ناسخ التواریخ)
بہر حال نماز جنازہ پڑھ کر دفن کیا جانا ثابت ہے-جمہرہ الانساب (صفحہ 106 ) میں " شہد جنازہ الحسین " میں لکھتے ہیں کہ جب اس حادثہ کی اطلاح ملی تو کوفہ سے آ کر لوگ نماز جنازہ میں شریک ہوئے ۔

آپ خود سوچیں کیا سر بریدہ لوگوں کی نماز جنازہ ادا کی گئی تھی؟
اور ان راویوں کے دوسرے بیانات سے یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ مقتولین میں سے نہ تو کسی کا سر کاٹا گیا اور نہ ہی تشہیر کی گئی.
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ نے حسین کا سر کاٹنے اور یزید کو بھیجنے کی روایت کا انکار کیا ہے .(الوسیتھ الکبری صفحہ 300 )
حضرت حسین کے سر کو دفن کرنے کی روایتیں خود اس درجہ تک متضاد ہیں کہ فی الفور ان کا جھوٹ پکڑا جاتا ہے-مثال کے طور پر تدفین "راسخ الحسین " کے ساتھ آٹھ مقامات مختلف علاقوں میں بیان کیے گیے ہیں جن کی تفصیل ناسخ التواریخ سے حاصل کر کے بیان کی جاتی ہے .علامہ ابن کثیر نے بیان کیا ہے کہ سر کے جسم سےجدا کرنے کی روایت متفق علیہ نہیں اور یہ بالکل خیالی بات ہے اگر خدا نخاستہ ایسا ہوتا تو ایک سر کی تدفین مختلف مقامات پر کیسے ہو سکتی تھی؟
حضرت خالد بن عقبہ بن ابی معیت صحابی رسول حضرت حسین کے جنازے کی نماز میں شریک ہوے تھے اور یہ اموی صحابی کوفہ میں ساکن تھے -(جمہرہ الانساب صفحہ 106 ) ۔  ان کی بہن ام کلثوم بھی صحابیہ و مہاجر تھیں اور حضرت زید بن حارثہ کی بیوی تھیں اور ان کے بھائی ولید بن عقبہ کوفہ کے والی رہے تھے- حضرت خالد کی اولاد میں سے متعد محدث اور فقیہہ پیدا ہوے اور ان ہی میں سے عبد الله بن عبید الله تھے جو ان صحابی رسول کے دس واسطوں سے پوتے تھے -
 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




اتوار، 27 اگست، 2017

شیطان نامہ - قسط نمبر- 48- ب - اولاد عباس کی قرابتیں

٭ -  حضرت حسین کے بھائی عباس بن علی کی حقیقی پوتی سیدہ نفیسہ بنت عبید الله بن عباس بن علی کی شادی امیر المو منین یزید کے حقیقی پوتے عبد الله بن خالد بن یزید بن معاویہ سے ہوئی ان خاتون کے بطن سے امیر یزید کے دو پڑپوتے علی اور عباس فرزندان عبد الله بن خالد بن یزید پیدا ہوے .(جمہرہ الانساب صفحہ 103 .کتاب نسب قریش صفحہ 79)
ان میں سے ایک علی بن عبد الله نے اپنے حسینی ماموؤں کی تحریک سے امیر المومنین ماموں الرشید عباسی کے خلاف خروج بھی کیا .ان کے دادا عباس بن علی اپنے بھائی حضرت حسین کے ساتھ کربلا میں اپنے تین بھائیوں کے ساتھ موجود تھے .اور مقتول ہوئے پانی بند ہونے کی من گھڑت روایتوں میں ان عباس بن علی کو" سقائے اہل بیت " بھی کہا گیا .لیکن حقیقت ہے کہ کربلا میں پانی کی کوئی ایسی بندش نہیں تھی ، اگر ان وحشیانہ مظالم اور پانی بند کرنے والی باتوں میں کوئی حقیقت ہوتی تو "سقائے   اہل بیت" کی پوتی ،ایسا ظلم کرنے والے کے پوتے کے ساتھ کیوں بیاہی جاتی ؟
اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ رشتہ بھی اس وقت ہوا جب امیر یزید کے اپنے گھرانے میں سیاسی اقتدار بھی نہ رہا تھا اور آل معاویہ کی بجائے
آل مروان خلافت پر فائز تھے .
غور کیجیے کہ جس کے اپنے دادا اور دادا کے عزیزوں کو بوند بوند پانی کے لئے تڑپا کر مارا گیا ہو وہ ایسے ظالموں کے گھر کیسے بیاہ کر جاتی؟ اور کیوں ان کا رشتہ قبول کرتی؟ اور یہی وہ تاریخ دان ہیں (سبائی ) جنہوں نے پانی بند کرنے اور وحشیانہ مظالم کی داستانیں گھڑیں اور بعد والے مصنفین نے یہ سب من گھڑت روایتیں بلا سوچے سمجھے اپنی کتابوں میں نقل کیں اور ان کی مجلسوں میں میراثیوں کے بیان کرنے پر ہر خاص و عام کی زبان پر یہ قصے آتے گئے-
٭ - حضرت علی کے حقیقی بھتیجے محمّد بن جعفر طیار بن ابی طالب کی صاحب زادی رملہ کا نکاح، حضرت مروان کے پوتے سلیمان بن امیر المومنین ہشام بن امیر المومنین عبد الملک بن مروان سے ہوا- ان کے انتقال پر ان ہاشمی خاتون کا نکاح ثانی حضرت ابو سفیان کے پڑپوتے ابو القاسم بن ولید بن عقبہ بن سفیان سے ہوا اور ان ابو القاسم کی والدہ سیدہ لبانہ بنت عبید الله بن العباس بن عبد المطلب حضرت حسین کی چچا زاد بہن تھیں.اور ان شوہر حضرت معاویہ کے بھتیجے تھے اور حسین کے زمانہ خروج کے وقت مدینہ کے عامل تھے ۔ (کتاب المجر صفحہ 449 . جمہرہ الانساب صفحہ 102) -
٭ - حضرت حسین کی حقیقی بھانجی سیدہ ام کلثوم بنت حضرت عبداللہ بن جعفر الطیار بن ابی طالب جو سیدہ زینب بنت فاطمہ الزہرہ کے بطن سے تھیں ، اول اپنے ابن عم قاسم بن محمّد بن جعفر طیار کے عقد میں آئیں ۔ان سے صرف ایک بیٹی ہوئی جو بالغ ہو کر حضرت عبداللہ بن زبیر کے فرزند حمزہ کو بیاہی گئیں ان سے اولاد بھی ہوئی اور نسل چلی .
ان ام کلثوم کا نکاح ثانی اپنے شوہر قاسم بن محمّد کے فوت ہو جانے کے بعد اموی گورنر مکہ و مدینہ حجاج بن یوسف ثقفی سے ہوا جن سے ایک بیٹی ہوئی بھر ان میں علیحدگی ہو گئی
ان 
ام کلثوم  کا تیسرا نکاح اموی خاندان کے ابان بن عثمان زی النورین سے ہوا اور
ان کے انتقال کے بعد
ام کلثوم ، حضرت علی بن عبداللہ بن عباس بن عبد المطلب کے عقد میں آئیں (المعارف ابن قتیبہ صفحہ 90 .جمہرہ الانساب صفحہ 61 اور 114 .کتاب نسب قریش صفحہ 83)

اس طرح کی 20 اور رشتہ داریاں کہ جن کا ذکر ان مستند کتابوں میں موجود ہے یہ سب جنگ صفیں اور واقعہ کربلا کے بعد حضرت علی اور ان کے بیٹوں کی امیر یزید اور ان کے قریبی رشتہ داروں سے ہوئیں اور یہ سلسلہ ان دونوں خاندانوں میں اسلام آنے سے پہلے کا جاری تھا .حضرت علی کی پھوپھی حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب حضرت معاویہ کے حقیقی چچا حارث بن حرب بن امیہ کو بیاہی گئی تھیں.اس اموی شوہر کے انتقال کے بعد آپ کا عقد ثانی العوام بن خویلد سے ہوا جن سے حضرت زبیر صحابی رسول پیدا ہوئے - جن کے متعلق مشہور تھا کہ اُنہوں نے جنگِ خندق میں ، خیمے کے بانس سے ایک کافر کا سر پھاڑا تھا ۔
حضرت علی کی دوسری پھوپھی البیضاء ام حکیم بنت عبدالمطلب کی شادی بھی اسی خاندان میں کریز بن ربیعہ سے ہوئی اور حضرت علی کی یہ پھوپھی حضرت عثمان ذی النورین کی سگی نانی تھیں.
ان رشتے سے حضرت علی حضرت عثمان کے ماموں زاد بھائی تھے .پھر حضرت معاویہ کی پھوپھی ام جمیل (
حَمَّالَةَ الْحَطَبِ ) حضرت علی کے چچا ابو لہب کی زوجہ ہونے کی بنا پر ان کی چچی تھیں۔  اسلام آنے کے بعد ان دونوں خاندانوں میں رشتہ داریوں کا سسلہ برابر جاری رہا ۔
صفیں اور کربلا کے بعد حضرت علی اور حسن و حسین اور ان کے سوتیلے بھائیوں حضرت عباس اور محمّد الحنیفہ اور ان کی حقیقی بہن سیدہ زینب کی اولاد کے رشتے اموی اور مروانی خاندان میں بد ستور ہوتے رہے-خود رسول خدا نے ھضرت خدیجہ سے اپنی  تین  ربیبہ صاحب زادیوں کے رشتے اسی خاندان میں کیے اور رسول الله نے اپنا ایک نکاح بھی حضرت ابی سفیان کی صاحب زادی امُ المومنین ام ِحبیبہ سے اس زمانے میں کیا جب کہ مکہ ابھی فتح نہیں ہوا تھا-  جس کا بنیادی مقصد  چاپلوسیوں اور نفرت کی آگ کو بجھانا تھا  -  اور ان کے درمیان جو عداوت رکھتے  تھے محبت اور الفت پیدا کرنا تھا ۔
یہی وجہ ہے کہ جب  رسول الله نے ابو سفیان کی بیٹی ام حبیبہ سے نکاح کیا جس کی وجہ سے ابو سفیان کے دل میں رسول الله کی طرف سے نرمی پیدا ہوئی اور یہی ان کی محبت کا موجب تھی.(صفحہ 79 کتاب المجر علامہ جعفر محمّد متوفی ہجری 242 )
جب اس نکاح کی خبر کسی نے ابو سفیان کو سنائی تو انہوں نے کہا،
"اچھا ہوا محمّد اس کے بہت اہل ہیں"
اور یہ بات اس وقت کی ہے جب ابو سفیان ایمان نہیں لائے
تھے .اس رشتہ سے حضرت معاویہ رسول اللہ کے سالے تھے .اور رسول الله کی زوجہ ،  امُ المومنین ام حبیبیہ یزید کی سگی پھوپھی تھیں.
 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

شیطان نامہ - قسط نمبر- 48-اولاد حسین کی قرابتیں



٭  - حضرت حسین کی مشہور صاحب زادی سیدہ سکینہ نے اپنے شوہر مصعب بن زبیر کے مقتول ہو جانے کے کچھ عرصۂ بعد اپنا ایک نکاح اموی اور مروانی خاندان میں امیر المومنین مروان کے پوتے الا صبغ بن عبد العزیز بن مروان سے کیا جو امیر المومنین عمر بن عبد العزیز کے بھائی تھے ان کی کنیت ابو زبان تھی اور ان کی دوسری بیوی امیر یزید کی بیٹی (ام یزید ) تھیں .(جمہرہ الانساب ابن حزم صفحہ 96 ، 97 .کتاب المعارف ابن قتیبہ صفحہ 94 .اور کتاب نسب قریش صفحہ 59 )
٭- سیدہ سکینہ دختر حسین کا ایک اور نکاح حضرت عثمان زی النورین کے پوتے زید بن عمرو بن عثمان سے ہوا تھا پھر اس اموی شوہر سے علیحدگی ہو گئی تھی.  ( المعارف ابن قتیبہ صفحہ 93 ، جمہرہ الانساب صفحہ 79 .کتاب نسب قریش صفحہ 59 .اور کتاب المجر صفحہ 43 .)
٭-  حضرت حسین کی نواسی ربیہ بنت سیدہ سکینہ جو ان کے شوہر عبد الله بن عثمان بن عبد الله بن حکیم سے تھیں وہ امیر المومنین مروان کے پڑپوتے العباس بن الولید بن عبد الملک بن مروان کو بیاہی گئیں.(صفحہ 59 کتاب نسب قریش مصعب زبیر ).
اب ایک غور طلب بات ہے کہ ان اموی بزرگ کا نام عباس تھا اور ہاشمی بزرگ عبد الله بن جعفر کے بیٹے کا نام معاویہ تھا اور ان کے بیٹے کا نام یزید تھا ،اب ان کربلا کے جھوٹے قصوں کو کیا کہو گے آپ لوگ.؟.
  ٭ - حضرت حسین کی دوسری صاحب زادی سیدہ فاطمہ کا نکاح ثانی اپنے شوہر حسن مثنی کے بعد اموی خاندان میں عبدللہ بن عمرو بن عثمان زی النورین سے ہوا جن سے حضرت حسین کے دو اموی وعثمانی نواسے اصغر اور قاسم اور ایک نواسی رقیہ پیدا ہوئیں.(جمہرہ الانساب صفحہ 76 . مقاتل الطالبین صفحہ 180 .کتاب نسب قریش صفحہ 59 .)
٭- حضرت حسین کے ایک پڑپوتے حسن بن حسین بن علی بن الحسین کی شادی اموی خاندان میں خلیدہ بنت مروان بن عنبسہ بن سعد بن العاص بن امیہ سے ہوئی تھی ان اموی خاتون کے بطن سے حضرت حسین کے دو پروتے حضرت محمّد اور عبدللہ فرزندان حسین کا ذکر ہے .(جمہرہ الانساب صفحہ 75 .اور کتاب نسب قریش صفحہ نمبر 74 .)
٭- حضرت حسین کے ایک
پڑپوتے اسحاق بن عبدللہ الارقط بن علی بن حسین کی شادی اموی اور عثمانی خاندان میں سیدہ عائشہ بنت بن عمر بن عاصم بن عثمان زی النورین سے ہوئی جن کے بطن سے حضرت حسین کے عثمانی پڑپوتےیحیی بن اسحاق پیدا ہوے.(جمہرہ الانساب صفحہ 47 . کتاب نسب قریش صفحہ 65 . )
کربلا کے بعد کی یہ 6 عدد قرابتیں تو خود حضرت حسین کی اولاد کی اموی و مروانی خاندان میں ہوئیں-  اب ان کے بھائی عباس بن علی اور دوسرے عزیزوں کی اولادوں کی رشتہ داریوں کا حال  " اولادِ حسین کی قرابتیں  "اگلے  حصہ ب  میں ملاحظہ فرمائیں.


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔