میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 27 اگست، 2017

شیطان نامہ - قسط نمبر- 48- ب - اولاد عباس کی قرابتیں

٭ -  حضرت حسین کے بھائی عباس بن علی کی حقیقی پوتی سیدہ نفیسہ بنت عبید الله بن عباس بن علی کی شادی امیر المو منین یزید کے حقیقی پوتے عبد الله بن خالد بن یزید بن معاویہ سے ہوئی ان خاتون کے بطن سے امیر یزید کے دو پڑپوتے علی اور عباس فرزندان عبد الله بن خالد بن یزید پیدا ہوے .(جمہرہ الانساب صفحہ 103 .کتاب نسب قریش صفحہ 79)
ان میں سے ایک علی بن عبد الله نے اپنے حسینی ماموؤں کی تحریک سے امیر المومنین ماموں الرشید عباسی کے خلاف خروج بھی کیا .ان کے دادا عباس بن علی اپنے بھائی حضرت حسین کے ساتھ کربلا میں اپنے تین بھائیوں کے ساتھ موجود تھے .اور مقتول ہوئے پانی بند ہونے کی من گھڑت روایتوں میں ان عباس بن علی کو" سقائے اہل بیت " بھی کہا گیا .لیکن حقیقت ہے کہ کربلا میں پانی کی کوئی ایسی بندش نہیں تھی ، اگر ان وحشیانہ مظالم اور پانی بند کرنے والی باتوں میں کوئی حقیقت ہوتی تو "سقائے   اہل بیت" کی پوتی ،ایسا ظلم کرنے والے کے پوتے کے ساتھ کیوں بیاہی جاتی ؟
اور سوچنے کی بات یہ ہے کہ رشتہ بھی اس وقت ہوا جب امیر یزید کے اپنے گھرانے میں سیاسی اقتدار بھی نہ رہا تھا اور آل معاویہ کی بجائے
آل مروان خلافت پر فائز تھے .
غور کیجیے کہ جس کے اپنے دادا اور دادا کے عزیزوں کو بوند بوند پانی کے لئے تڑپا کر مارا گیا ہو وہ ایسے ظالموں کے گھر کیسے بیاہ کر جاتی؟ اور کیوں ان کا رشتہ قبول کرتی؟ اور یہی وہ تاریخ دان ہیں (سبائی ) جنہوں نے پانی بند کرنے اور وحشیانہ مظالم کی داستانیں گھڑیں اور بعد والے مصنفین نے یہ سب من گھڑت روایتیں بلا سوچے سمجھے اپنی کتابوں میں نقل کیں اور ان کی مجلسوں میں میراثیوں کے بیان کرنے پر ہر خاص و عام کی زبان پر یہ قصے آتے گئے-
٭ - حضرت علی کے حقیقی بھتیجے محمّد بن جعفر طیار بن ابی طالب کی صاحب زادی رملہ کا نکاح، حضرت مروان کے پوتے سلیمان بن امیر المومنین ہشام بن امیر المومنین عبد الملک بن مروان سے ہوا- ان کے انتقال پر ان ہاشمی خاتون کا نکاح ثانی حضرت ابو سفیان کے پڑپوتے ابو القاسم بن ولید بن عقبہ بن سفیان سے ہوا اور ان ابو القاسم کی والدہ سیدہ لبانہ بنت عبید الله بن العباس بن عبد المطلب حضرت حسین کی چچا زاد بہن تھیں.اور ان شوہر حضرت معاویہ کے بھتیجے تھے اور حسین کے زمانہ خروج کے وقت مدینہ کے عامل تھے ۔ (کتاب المجر صفحہ 449 . جمہرہ الانساب صفحہ 102) -
٭ - حضرت حسین کی حقیقی بھانجی سیدہ ام کلثوم بنت حضرت عبداللہ بن جعفر الطیار بن ابی طالب جو سیدہ زینب بنت فاطمہ الزہرہ کے بطن سے تھیں ، اول اپنے ابن عم قاسم بن محمّد بن جعفر طیار کے عقد میں آئیں ۔ان سے صرف ایک بیٹی ہوئی جو بالغ ہو کر حضرت عبداللہ بن زبیر کے فرزند حمزہ کو بیاہی گئیں ان سے اولاد بھی ہوئی اور نسل چلی .
ان ام کلثوم کا نکاح ثانی اپنے شوہر قاسم بن محمّد کے فوت ہو جانے کے بعد اموی گورنر مکہ و مدینہ حجاج بن یوسف ثقفی سے ہوا جن سے ایک بیٹی ہوئی بھر ان میں علیحدگی ہو گئی
ان 
ام کلثوم  کا تیسرا نکاح اموی خاندان کے ابان بن عثمان زی النورین سے ہوا اور
ان کے انتقال کے بعد
ام کلثوم ، حضرت علی بن عبداللہ بن عباس بن عبد المطلب کے عقد میں آئیں (المعارف ابن قتیبہ صفحہ 90 .جمہرہ الانساب صفحہ 61 اور 114 .کتاب نسب قریش صفحہ 83)

اس طرح کی 20 اور رشتہ داریاں کہ جن کا ذکر ان مستند کتابوں میں موجود ہے یہ سب جنگ صفیں اور واقعہ کربلا کے بعد حضرت علی اور ان کے بیٹوں کی امیر یزید اور ان کے قریبی رشتہ داروں سے ہوئیں اور یہ سلسلہ ان دونوں خاندانوں میں اسلام آنے سے پہلے کا جاری تھا .حضرت علی کی پھوپھی حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب حضرت معاویہ کے حقیقی چچا حارث بن حرب بن امیہ کو بیاہی گئی تھیں.اس اموی شوہر کے انتقال کے بعد آپ کا عقد ثانی العوام بن خویلد سے ہوا جن سے حضرت زبیر صحابی رسول پیدا ہوئے - جن کے متعلق مشہور تھا کہ اُنہوں نے جنگِ خندق میں ، خیمے کے بانس سے ایک کافر کا سر پھاڑا تھا ۔
حضرت علی کی دوسری پھوپھی البیضاء ام حکیم بنت عبدالمطلب کی شادی بھی اسی خاندان میں کریز بن ربیعہ سے ہوئی اور حضرت علی کی یہ پھوپھی حضرت عثمان ذی النورین کی سگی نانی تھیں.
ان رشتے سے حضرت علی حضرت عثمان کے ماموں زاد بھائی تھے .پھر حضرت معاویہ کی پھوپھی ام جمیل (
حَمَّالَةَ الْحَطَبِ ) حضرت علی کے چچا ابو لہب کی زوجہ ہونے کی بنا پر ان کی چچی تھیں۔  اسلام آنے کے بعد ان دونوں خاندانوں میں رشتہ داریوں کا سسلہ برابر جاری رہا ۔
صفیں اور کربلا کے بعد حضرت علی اور حسن و حسین اور ان کے سوتیلے بھائیوں حضرت عباس اور محمّد الحنیفہ اور ان کی حقیقی بہن سیدہ زینب کی اولاد کے رشتے اموی اور مروانی خاندان میں بد ستور ہوتے رہے-خود رسول خدا نے ھضرت خدیجہ سے اپنی  تین  ربیبہ صاحب زادیوں کے رشتے اسی خاندان میں کیے اور رسول الله نے اپنا ایک نکاح بھی حضرت ابی سفیان کی صاحب زادی امُ المومنین ام ِحبیبہ سے اس زمانے میں کیا جب کہ مکہ ابھی فتح نہیں ہوا تھا-  جس کا بنیادی مقصد  چاپلوسیوں اور نفرت کی آگ کو بجھانا تھا  -  اور ان کے درمیان جو عداوت رکھتے  تھے محبت اور الفت پیدا کرنا تھا ۔
یہی وجہ ہے کہ جب  رسول الله نے ابو سفیان کی بیٹی ام حبیبہ سے نکاح کیا جس کی وجہ سے ابو سفیان کے دل میں رسول الله کی طرف سے نرمی پیدا ہوئی اور یہی ان کی محبت کا موجب تھی.(صفحہ 79 کتاب المجر علامہ جعفر محمّد متوفی ہجری 242 )
جب اس نکاح کی خبر کسی نے ابو سفیان کو سنائی تو انہوں نے کہا،
"اچھا ہوا محمّد اس کے بہت اہل ہیں"
اور یہ بات اس وقت کی ہے جب ابو سفیان ایمان نہیں لائے
تھے .اس رشتہ سے حضرت معاویہ رسول اللہ کے سالے تھے .اور رسول الله کی زوجہ ،  امُ المومنین ام حبیبیہ یزید کی سگی پھوپھی تھیں.
 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔