میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 14 اگست، 2017

سیاسی پارٹیوں کے چار مقبول نظریے

اِس وقت سیاسی پارٹیوں کے چار مقبول نظریے عوام میں گردش کر رہے ہیں۔
1- مغربی نظریہ ۔ (تحریکِ انصاف) 
پاکستان میں ترقی ہوئی تو مغرب کی سب سے بڑی مارکیٹ ہاتھ سے نکل جائے گی ۔
2- مخلوط سوچ  نظریہ ( پیپلز پارٹی) 
پاکستان میں ترقی کا نعرہ لگاؤ ، لیکن ترقی کے وہ کام کرو جن میں کمیشن زیادہ ہو ۔ خواہ تمام بجٹ استعمال نہ ہو ۔
 3- پاکستانی نظریہ ( مسلم لیگ ) 
پاکستان میں ترقی  کی بلندی ، یک دم  حاصل ناممکن ہے -کوئی ایسا طریقہ کہ  اچھے گھوڑے پرخرچ کرو اور ناکارہ گھوڑے کو تانگے میں جوت دو ۔ تاکہ دونوں سے حسبِ کارکردگی فائدہ اُٹھایا جائے ۔ 
 4-نظریہ ءِ  خودی  ( متفرق پارٹیاں اور آزاد ) 
  جہاں ترقی ءِ خودی (ذاتی)  ہو اُن کا ساتھ دو ، جیسے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  !
 


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔