میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 16 اگست، 2017

مستری بابا !



  کچن کا ایگزاسٹ فین پُر شور آواز کے ساتھ بند ہو گیا ، مددگارسے اتروا کر ملاحظہ کیا تو معلوم ہوا کہ رِنگ پر تیل اور کالک جمع ہو کر ایک موٹی تہہ بن چکی ہے اور پنکھے کے بلیڈ ، اُس سے ٹکراتے ہیں ۔
بوڑھا پنکھا لے کر خراد کی دکان پر گیا ، لوہے کی کیل سے انچ کا دسواں حصے کا نشان لگایا اور ، بولا،
" اِس  لائن تک چاروں بلیڈ  گھس دو ،"

طالب علم نوجوان نے جو لیتھ مشین پر کام کر رہا تھا بولا ، "مجھے گول گھسنا نہیں آتا " !
"استاد کہاں ہے ،
" بوڑھے نے پوچھا ۔
چنانچہ بوڑھے نے  گرائینڈنگ  مشین چلائی اور خود چاروں  بلیڈ ، اپنے مطابق گِھس لئے ۔
" کتنے پیسے ہوئے ؟ "  بوڑھے نے پوچھا ،
" رہنے دیں آپ نے کام کیا پیسے کیا دینے ؟ "وہ بولا ،

بوڑھے نے کہا ، " نوجوان بجلی تو خرچ ہوئی ہے نا " ۔ چنانچہ  بوڑھے نے  100 روپے نکال کر دے دیئے ، اتنے میں ، استاددکان میں داخل ہوا  ، وہ آیا تو جوان نے پیسے اُس کو دیئے ،اور استاد کو بتایا ،
استاد ہنسا اور بولا : "سر جی اگر کوئی جہاز وغیرہ بنانا ہے تو دکان حاضر ہے !"
" میں سوچ رہا ہوں ، کہ چاند پر جانے کے لئے راکٹ بنایا جائے" یہ کہتے ہوئے بوڑھا ، دکان سے نکل آیا ۔
گاڑی میں بیٹھتے ہوئے ، بوڑھے  نے استاد کی آواز سنی ، " یار یہ بابا خود کو میجر کہتا ہے ، لیکن مجھے لگتا نہیں ۔ مستریوں کے سارے کام جانتا ہے !"
رمضان سے پہلے کی بات ہے ، کہ بوڑھا گھر میں پھرکی کی طرح گھمایا جاتا ہے ۔ لیپ ٹاپ کے پیچھے سے اُٹھنا بہت مشکل کام ہے ،
پہلے آرام باش پوزیشن سے خود و ہوشیار باش پوزیشن میں لاؤ ، پھر لیپ ٹاپ سمیت میز کو ایک طرف کرو ، پھر اُٹھو اور ، بڑھیا کا بتایا ہوا حکم بجا لاؤ ، یہ ایک لمبی مشقتی مہم ہوتی ہے جو دن میں کم از کم چار مرتبہ بوڑھے کو  انجام دینی پڑتی ہے ۔
بوڑھے کے ذہن میں ایسی لیپ ٹاپ ٹیبل بنانے کا خیالآیا جو ، سیکنڈوں میں ایک طرف نہ سہی 5 سیکنڈ لے لے ۔
ڈرائینگ بنائی کئی تبدیلیاں کیں ۔ قیمت کا تحمینہ لگایا ۔
دو فٹ ضرب دو فٹ کی میز ، جس کے نیچے پہیئے لگے ہوں؛ کے لئے ، چار فٹ ضرب آٹھ فٹ کی لیمینیشن شیٹ ضائع کرنا حماقت ہے جو سٹی صدر روڈ سے ، مبلغ  اٹھارہ سو روپے میں ملتی ہے ۔ کٹوائی چار سو روپے ۔
 تو باقی دو فٹ ضرب دو فٹ کی شیٹوں کا کیا بنایا جائے ؟
تو بوڑھے نے مزید دو کارنر ٹیبل بنانے کا سوچا ۔
جن کی ڈیزائینگ خود کی ، اب مرحلہ اِن کی کٹوائی کا تھا ۔  شیٹس کی دکان کے پاس ہی آرا مشین تھی ، وہاں سے فائدہ اٹھایا ۔ ماہر کاریگر نے شیٹس کو گولائی میں تراشا ۔
اب ، تینوں میزوں کے لئے ، پائے بنانے تھے ، شیٹس کٹوا کر واپس ہوا تو ، ریلوے لائن کے پاس کونے  پر ایک لکڑی کی دُکان ہے - وہاں  بوڑھے نے  دیسی چارپائیوں کی طرح کے پائے دیکھے تو رُکا معلوم ہوا ، کہ یہ تو سیڑھیوں کے ساتھ لگنے والی ریلنگ کے ڈنڈے ہیں ، پائے یہاں نہیں بنتے ۔
خیر ڈھونڈھتے ڈھونڈھتے ، لکڑی کی خراد کی دکان مل گئی ۔ وہاں سے پائے بنوائے اور جناب  اب سوال پیدا ہوا کہ   میز کے پاؤں جوڑنے کے لئے  سنٹر میں سوراخ کر کے بولٹ فٹ کرنے تھے اور یہ کام ، پرسیئن  کے بغیر ممکن نہ تھا اور اِس کے لئے ، لیتھ مشین کی ضرورت پڑ رہی تھی ، چنانچہ بوڑھے نے ، بالا درج کی ہوئی  بلیک سمتھ کی دکان دیکھی ، خالی تھی کوئی بندہ نہ چھوٹا ، استاد کو تلاش کیا وہ ، بھی بابے کی عمر کا  ، معلوم ہوا کہ بس اب تنہا دکان پر بیٹھتا ہے کوئی کام آتا ہے تو کر لیتا ہے ورنہ دُکان خالی پڑی رہتی ہے ۔
 اُس سے بات کی تو  وہ تیار ہوگیا ۔ بوڑھا اگلے دن 16 پائے لے کر آیا ، اُس نے بڑی مہارت سے کام کیا ، بوڑھے نے ڈرل مشین پر بابے کی اجازت سے ، واشر میں سوراخ کئے تاکہ ، کیل لگائے جا سکیں ۔
بوڑھے نے بابے سے کافی باتیں کیں ۔ پھر بوڑھے کے دماغ میں خیال آیا کہ کیوں نہ یہاں بچوں کو تربیت دی جائے تاکہ وہ  ماہر مشینسٹ بن کر اپنا روزگار کمائیں ۔ بابا بھی تیار ہو گیا ۔ کہ پریکٹیکل وہ سکھائے گا اور بوڑھا بنیادی تھیوری اور ٹولز کے بارے  میں  پڑھائے گا ۔  چلو اگر دس بچے سالانہ بھی سیکھ کر باروزگار ہوجائیں ، تو  کچھ نہ کچھ ، ہمن نے پاکستان کے بے روزگار نوجوانوں کی مدد کی ۔
بوڑھے نے اخبار میں اشتہار دیا ،  کئی فون آئے ، جو سوالات پوچھے گئے ۔
1- کیا یہ کوئی اکیڈمی ہے ؟ ۔ ۔    جواب : جی نہیں
2- بچوں کو کیا سکھائیں گے ؟             ۔ ۔    
جواب :ویلڈنگ ، کٹنگ مشین ، ڈرل مشین اور لیتھ مشین 
3- کتنے مہینے کا کورس ہے  ؟             ۔ ۔  جواب : کم از کم تین ماہ !
4- فیس کیا ہوگی ؟             ۔ ۔  جواب : کوئی نہیں صرف رجسٹریشن 1000 روپے !5- کیا آپ کا تعلق کسی این جی او سے ہے   ؟             ۔ ۔  جواب :نہیں !
6- تنخواہ ملے گی  ؟             ۔ ۔  جواب :نہیں !
8- کام سیکھنے کے بعد ملازمت  ملے  گی  ؟             ۔ ۔ جواب :ملازمت تو اُس کی مہارت کے بعد کہیں بھی مل سکتی ہے -

جتنے بھی بچوں نے آمادگی ظاہر کی وہ سب پنڈی سے دور گردونواح    کے ہیں ، جن کا سب سے بڑا مسئلہ ، رہائش کا ہے ۔    جس کے لئے کوشش جاری ہے ، کہ دکان کے کلومیٹر کے اندر  کوئی کمرہ مل جائے تو     پروگرام کو آگے بڑھایا جائے ۔


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔