میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 2 اگست، 2017

باسی چاول !

کہا جاتا ہے  کہ ایک چوکیدار کسی  بادشاہ کے پاس اس ذمہ داری پر مامور تھا کہ تمام ملازمین پر نظر رکھے، باہر جاتے وقت وہ  محل سے  کوئی چیز چوری کرکے نہ لے جاسکیں۔ ایک روز اس نے تلاشی کے دوران ایک نئے ملازم کے ہاتھ میں چھوٹا سا صندوق دیکھا تو کرختگی سے پوچھا کہ
"کیا ہے اس صندوق میں؟"
ملازم نے منمنا کر کہا،
" صاحب جی : اس میں محل کے بچے ہوئے کچھ باسی چاول ہیں"۔
چوکیدار نے بدستور کرخت لہجے میں کہا کہ "کھول اس صندوق کو اور تلاشی دے"
چنانچہ ملازم نے صندوق کھول کر دیکھایا۔ اس میں واقعی ، دوپلیٹ کے قریب  باسی چاول تھے۔ جن سے ہلکی ہلکی بساند آرہی تھی ۔
اگلے روز پھر قطار میں صندوق پکڑے کھڑا تھا۔ چوکیدار نے پھر تلاشی لی تو وہی باسی چاول برآمد ہوئے۔
اب روزانہ یہی ہونے لگا ، چوکیدار صندوق کی تلاشی لیتا ۔ باسی چاول دیکھ کر اُسے جانے دیتا ۔
چھٹے دن ، چوکیدار نے   ، صندوق  والے فرد کو دوبارہ دیکھا ،  چوکیدار کے دل میں بدستور شک تھا ،کہ کچھ تو غلط ہے، اب چوکیدار نے  نہایت  باریکی سے تلاشی لی۔ صندوق کی لکڑی بھی کریدی،   صندوق کو ناپا  کہیں کوئی خفیہ خانی تو نہیں ، ٹھوک پٹخ کر بھی دیکھا مگر کیا نکلنا تھا ؟
نکلے تو صرف وہی باسی چاول۔

ساتویں دن  چھٹی کے وقت حسب معمول ملازم صندوق کے ساتھ کھڑا تھا۔ چوکیدار نے سوچا ، کہ مجھے اِس شخص کا پتہ معلوم کر کے ، اِس کے بارے میں پوری معلومات لینا چاہئیے ، کہ یہ شخص ، اِن چاولوں کا کیا کرتا ہے ، چنانچہ اُس نے ملازم کو ایک طرف کھڑا کر دیا ، جب سب چلے گئے تو ، اُس نے  ملازم کو جانے دیا ۔ اور خود محل کے گیٹ کے ساتھ بنے ہوئے  اپنے کمرے میں جا کر کپڑے تبدیل کئے اور محل سے نکلا ، تھوڑی دور جا کر اُسے وہ شخص نظر آیا اپ یہ اُس کا پیچھا کرنے لگا ، آبادی میں وہ شخص اپنے   گھر کی طرف مڑا ، راستے میں  گھر کے سامنے کھلی جگہ پر رُک اُس نے ، پُچ پُچ  کی آواز نکالی ، مرغیاں کُٹکُٹاتی دوڑتی ہوئی اُس کے پاس آئیں ۔ اُس نے صندوق  زمین پر رکھا اُس میں سے باسی چاول نکالے اور مُرغیوں کو ڈالے  اور گھر میں داخل ہو گیا ۔
چوکیدار ، بہت متاثر ہوا اور سوچا کہ میں  نے خوا مخواہ اِس بندے پر شک کیا اور خود کو کوستا ہوا  ، ایک شراب خانے میں داخل ہوا ۔  اور کونے میں جاکر بیٹھ گیا ، بادشاہ کا مصاحب ہونے کی وجہ سے ، شراب خانے کا مالک خود اُس کے پاس آیا اور باتیں کیں ، پھر اچھی شراب لا کر اُس کے سامنے رکھ دی ، تھوڑی دیر بعد اُس نے  چسکیاں لیتے دیکھا کہ وہی ملازم بھی شراب خانے میں داخل ہو رہا ہے ۔
اس نے ملازم کو اپنے پاس  کونے میں بلایا اور پیار سے بٹھایا ، اُس کے گلاس میں بھی شراب ڈالی ، ملازم نے اچھی شراب دیکھی تو ندیدوں کی طرح پورا گلاس پی گیا ۔ چوکیدار نے ایک اور گلاس بھر دیا ۔ اب کے بار ملازم نے بھی آہستہ آہستہ پینا شروع کیا ۔ چوکیدار پیتے ہوئے اُسے غور سے دیکھ رہا تھا ،  بولا :
 "دیکھو، محل کے گیٹ پر تلاشی لینا میری ڈیوٹی میں ہے ، جس کی میں بادشاہ سے تنخواہ لیتا ہوں ، میرا  تجربے کی بنیاد پر یقین تھا  کہ تم کچھ چُراتے ہو  ضرور ہے ، مگر تلاشی کے باوجود  میں یہ  نہیں معلوم کرپایا کہ وہ ہے کیا؟ "
ملازم نشے میں بولا ، " وہ تو ٹھیک ہے میں چُراتا ضرور ہیں ۔ لیکن تم معلوم نہیں کرسکتے کہ وہ کیا ہے ؟"
چوکیدار پر حیرانی کا دورہ پڑا ، بولا :
" میں تمہیں زبان دیتا ہوں کہ تمہیں نہ گرفتار کروں گا نہ کسی سے شکایت لگاوں گا۔ بس مجھے اتنا بتا دو کہ تم آخر چراتے کیا ہو؟؟"
ملازم نے مسکرا کر چوکیدار کے کان میں سرگوشی کی۔
 
 
 
 
 
 
 
"صاحب جی  میں ۔۔۔ میں صندوق چراتا ہوں !"

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔