میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 25 اگست، 2017

تدوین خطبات نبی


کیا کسی کے پاس کوئی " نبی کے خطبے یا نصیحت " کا کوئی حصہ موجود ہے ، اگر ہے تو ہمارے پر مرکز میں آئے ۔ !


( مرکزمحمد اختر اور سٹیفن سیموئل پال کے پاس کافی لوگوں کا رش ہونا شروع ہو گیا)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ایک فیس بُک گروپ ہے ، " مسیح کے ایلچی" جس میں مجھے  " راجر پال " نے  جون میں شامل کیا تھا ۔ میرے مطابق اِس گروپ میں " مسیح کے ایلچی " کم اور  "  مجادلین " بہت ہیں ۔  وہ ایسے کہ جب کسی دلیل کے جواب میں ، بازاری الفاظ استعمال کئے جائیں تو آپ ، " ایلچی " کے منصب سے  گر جاتے ہیں ۔  یہاں زیادہ تر بحث  اِن کتابوں پر ہوتی ہے ۔

سٹیفن سیموئل پال نے مجھے اِس بحث میں  14 جولائی کو ٹیگ  کیا ، موضوعِ بحث ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرت ابُوبکر صدیقؓ کا قرآن
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
قُرآن کو جمع کرنے کی اشد ضرورت تھی حضرت عمرؓ نے بھی یہ محسُوس کیا اوُر خلیفہ وقت حضرت ابُو بکر صدیقؓ سے بات کی اُور ایک حد تک کامیاب بھی ہوئیں جن جن مشکلوں کا سامنا ان کو کرنا پڑا ان سے اظہر من الشمس ہوجاتا ہیں کہ قُرآن کے متن موجودہ کی اصلیت کیا ہیں

زید بن ثابت نے کہا مجھ کو حضرت ابو بکرؓ زمانہ قتال اہل یمامہ  میں بلوایا اس وقت حضرت عمرؓ بن خطاب اُن کے پاس موجود تھےحضرت ابو بکر صدیقؓ نے مجھ سے کہا کہ حضرت عمرؓ میرے پاس آئے اور کہا ،
" جنگ یمامہ میں قرآن کے قاری کثرت سے قتل ہوگئے اور مجھ کو ڈر ہے کہ تمام ملکوں میں اس طرح قاری مارے جائیں تو قرآن کا بُہت سا حصہ ضائع ہو جائے گا  ۔ میری یہ رائے ہیں کہ آپ حُکم دو کہ قرآن جمع کیا جائے ، :
حضرت ابو بکر صدیقؓ بولے میں نے حضرت عمرؓ سے کہا
"تم کیوں وہ کام کرتے ہو جس کو خُود رسول اللہ نے نہیں کیا ؟"
اس پرحضرت عمرؓ نے یہ جواب دیا ،
" خُدا کی قسم یہ کار خیر ہے"
اور وہ اس بات پر برابر مجھ سے جھگڑتے رہے حتیٰ کہ خُدا نے میرے دل کو بھی اس کام کے لئے کھول دیا اور میں نے بھی اس میں وہی مصلحت دیکھی جو حضرت عمرؓ دیکھتے تھے ۔زید بن ثابت کہتے ہے مجھ سے حضرت ابو بکرؓ نے کہا
"  تم ایک جوان عاقل ہو ہم تجھ پر کوئی الزام نہیں لگا سکتے اور تم وحی کو رسول اللّه کے لئے لکھا کرتے تھے پس تم جا بجا کھوج کرو قرآن کی اور اس کو جمع کرو"
زید بن ثابت کہتے ہیں،
"قسم ہے خُدا کی اگر وہ لوگ پہاڑوں میں سے کسی پہاڑ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹال دینے کا حکم کرتے تو وہ مجھ کو اتنا بھاری نہ معلوم ہوتا جتنا کہ (قرآن کو جمع کرنے کا کام )"
زید بن ثابت کہتے ہیں،
" میں نے جابجا قرآن کو کھوج کیا اور جمع کیا اس کو کھجور کے پتوں پر سفید پتھر کی تختیوں اور آدمیوں کے سینوں سے اور وہ آخر سورہ توبہ کا ابی خزیمہ انصاری کے پاس اور مجھ کو وہ سوائے اس کے کسی اور کے پاس نہ ملا (وہ یہ ہیں) لقد مباء کعہ رسول سے سورہ توبہ کے آخر تک پس یہ صحیفہ ( جو میں نے جمع کیا) ابو بکرؓ کے پاس رہا اور خدا نے انکو وفات دی تو حضرت عمرؓ کے پاس رہا انکی حیات میں پھر حضرت حفصہ دُخترحضرت عمرؓ کے پاس رہا "
صحیح بُخاری حدیث نمبر 4697

اس بیان سے چند امُور پایا ثابت کو پہنچتے ہیں

1) قرآن اس سے پہلے کہیں بھی ایک جگہ جمع نہ تھا سب متفرق تھا کچھ کہیں تو کچھ کہیں تھا

2) یہ قرآن کا حفظ بیشتر حافظوں کی وجود یعنی صدور الرجال پر منحصر تھا اور حافظوں کی موت گویا قرآن کا اتلاف تھا

3) یہ کے قرآن ایک کتاب میں جمع کرنا زمانہ آنحضرت میں خلاف منشاء رسول سمجھا جاتا تھا اور اب جو اس کام کا قصد کیا تو وہ ایک بدعت معلوم ہوئی تھی جس پر خودحضرت ابو بکر صدیقؓ اور زید بن ثابت کاتب وحی معترض ہوئے تھے اور صرف حضرت عمرؓ کے اصرار اور اُنکے رُعب نے انکو اس پر راضی کیا تھا

4) یہ کہ قرآن آیات انتہا درجہ منتشر تھی کاغذ کے ٹکڑوں پر کچھ ہڈیوں کے ٹکڑوں پر کچھ کھجور کے پتوں اور زیادہ تر لوگوں کے سینوں میں جنکو جابجا کھوج کر نکالنا پڑا اور پھر ایک جگہ جمع کیا

5) یہ کہ ان سب اجزا متفرقہ کو بہم پہنچایا اور کسی ترتیب سے ایک کتاب کی صورت میں جمع کرکے لکھ لینا ایک ایسا محال امر تھا کہ زید بن ثابت جو اس کام کے لئے خاص طور سے قابل سمجھے جاتے تھے انہوں نے اسکو پہاڑ اٹھا کر ٹال دینا سے بھی زیادہ مشکل دشوار کہا اور کہا ان کا یہ فرمانا کچھ مبالغہ نہ تھا بلکہ سراسر راست بے کم وکاست اسکی تصدیق انہوں نے خدا کی قسم کھا کر جسکا اعتبار نہ کرنا بے ایمانی ہیں

6) یہ کہ بہت نامور قاری شہید ہوچُکے تھے جنکے ساتھ ضرور بہت کچھ قرآن کا تلف ہوچُکا تھا

7) یہ کہ جمع و ترتیب قرآن محض ایک اجہتادی بات تھی سہو و خطا کے تابع اور کہ نہایت محفوظ گمان یہی ہے کہ ایسے دشوار بلکہ محال کام کے انجام دینے میں کامیابی نہیں ہوئی اور اس بات کا کوئی ضامن نہیں ہوا کہ سارے کا سارا قرآن جو وقت وفات رسول اللّه تک لوگوں کو پہنچا چکا تھا صحیفہ ابو بکرؓ میں ضبط تحریر میں آگیا

پوسٹ میں حضرت ابو بکر صدیقؓ حضرت عمرؓ اور زید بن ثابت کے بیان سے سات نقاط اٹھائے گئے ہیں جوکہ اس بیان پر دلالت کرتے ہیں اور یہ بیان احادیث مبارکہ میں اور اسلامی کتُب سے آسانی مل سکتا ہے حتیٰ کے اس بیان کے مطلق بیشتر مُسلم و مسیحی دوست جانتے بھی ہیں
مُسلم دوستوں سے گزارش ہیں پوسٹ کے رد کے لئے حوالہ جات کے ساتھ بیان فرمائِیں اور فضول گفتگو سے گریز فرمائیں

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مکمل پوسٹ پڑھنے کے بعد ، میں نے جن سوالوں یا وضاحتوں پر اپنے کمنٹس دئیے :
مہاجرزادہ: سٹیفن سیموئل پال : آپ کے نکات اہم ہیں ، جو یقینی بات ہے کی مذہب پرست مسلمانوں کی کتابوں سے اخذ کئے گئے ہیں -
بنیادی بات یہ ہے ، کہ انسانوں کے ربّ نے انسانوں میں برائی عام ہو جانے پر اُنہی میں سے اچھے انسانوں کو اُنہیں ٹھیک کرنے اور پرھیز گار بنانے کے لئے کچھ نہ کچھ ہایت دی ۔ یہ ہدایت اُن نیک دل انسانوں نے ، خراب اور اچھے لوگوں دونوں کو بتائی ، اچھے لوگوں نے تو اسے اپنے ذہنوں میں محفوظ کر لیا اور کچھ نے ہو بہو رٹ لیا ۔ جنہوں نے رٹا وہ اِسے دوسروں کو سناتے ،
کہ دیکھو ، اُس اچھے انسان نے ایسا کہا تھا ! اب تمھاری مرضی جو تم کرو !
اِس طریقہ ءِ ہدایت کو سینہ بہ سینہ علم کہتے تھے ۔
بس انسانوں کی ہدایت کے لئے انسانوں کو انسانوں سے بچانے کے لئے یہی علم بہترین ہے !

( چونکہ سٹیفن سیموئل پال  کمنٹ  کی مطابقت میں تھا ، لہذا اُس نوجوان نے لائک کیا ، مگر  اِس بحث کے تین کھلاڑیوں ، محمد اختر،    حکیم عمران  ،   حاجی عبداللہ  ، 
ابنِ صلیب   نے لکھا :
آپ کا قرآن لوگوں سے پوچھ پوچھ کر لکھا گیا ہے۔ جس بات پر دو شخص راضی وہ قرآن کی آیت بن گئی۔
Abu Bakr had instructed Umar and Zaid, “Sit at the entrance of the [Prophet’s] Mosque. If anyone brings you a verse from the book of Allah along with two witnesses, then record it”

 محمد اختر نے ، ابنِ صلیب کو یاد لایا : "

 آپ کی یادداشت کمزور ہے ابن الصلیب، وہ بائبل ہے جو پوچھ پاچھ کے لکھی گئی۔
یہ رہا پروف
لُوقا 1
3 اِس لِئے اَے معزز تھِیُفِلُس مَیں نے بھی مناسب جانا کہ سب باتوں کا سِلسِلہ شُرُوع سے ٹھِیک ٹھِیک دریافت کر کے اُن کو تیرے لِئے ترتیب سے لِکھُوں۔
 ابنِ صلیب نے جواباً وار کیا :  " تو محمد اختر صاحب ابو بکر کیا لوگوں سے کھجوریں اکٹھی کروا رہا تھا۔ صاف لکھا ہے مسجدِ نبوی کے دروازے پر بیٹھ کر آیتیں اکٹھی کرتے تھے۔" 

 محمد اختر نے ، ابنِ صلیب کو  وضاحت دی : اکٹھی کرتے تھے لکھا ہے بابا جی ۔
اکٹھا وہ کیا جاتا ہے جو موجود ہو۔
پوچھ پاچھ اُس کی ہوتی ہے جو موجود نہ ہو ۔
 مہاجر زادہ  نے محمد اختر  کو  بتایا :   آپ کی توجیہ غلط ہے ، پوچھ کر ہی اکٹھا کیا جاتا ہے !
 Ibnul Saleeb My son Mohammad Akhtar they gathered verses from people. If two said Mohammed said so and so they took it for sure. Coming to mosque were just common people.
 مہاجر زادہ  : 

جو کچھ بھی انسانی بھلائی کے لئے کہا جائے وہ انسانیت ہے !

شیطانیت ، انسان کو انسان کے خلاف اکسا کر جھگڑا کروانا !
 محمد اختر:

باؤ جی اکٹھا کرنے کو پوچھ پاچھ کی ضرورت نہیں
ایک اعلان ہی کافی ہے


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محمد اختر کے اِس کمنٹ کے بعد  ، مہاجر زادہ سو گیا  ۔ جب شام کو اٹھا تو یہ مضمون لکھنا شروع کیا ، نہ صر ف محمد  اختر کو بلکہ   :" المسیح کے ایلچیوں " کو بھی !
پڑھیں ۔ 
کیا کسی کے پاس کوئی " نبی کے خطبے یا نصیحت " کا کوئی حصہ موجود ہے ، اگر ہے تو ہمارے پر مرکز میں آئے ۔ !
( مرکزمحمد اختر ( مسجد )  اور  مرکر سٹیفن سیموئل پال  ( گرجا)  کے پاس کافی لوگوں کا رش ہونا شروع ہو گیا )
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مرکز محمد اختر میں جو مکالمہ ہوا ویسا ہی مکالمہ کم و بیش مرکز سٹیفن سیموئل پال میں بھی ہوا)
 لیکن  پوسٹ میں  سوال مرکزمحمد اختر ( مسجد ) کے بارے میں پوچھا گیا ۔وہاں کا منظر پیشِ خدمت ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پہلے فرد کو اندر بلوایا گیا ، 
محمد اختر : جی جناب آپ کون ، کہاں سے آئے ؟ اور آپ کے پاس نبی کے خطبے کا کون ساحصہ ہے؟
مہاجرزادہ : جی میں مہاجر زادہ ! میرے پاس یہ اونٹ کے شانے کی دو ہڈیاں اور ایک پاؤں کی نلی اور دوسری کھوپڑی کی پیشانی کی ہڈی ہے - جب نبی تبلیغ کے لئے ہمارے   قبیلے  میں ام القریٰ سے  آئے،  جو  وہاں سے آٹھ کوس ہے ، تو ہمارے قبیلے کے  جبل الثور   کے دامن میں ، چوپال میں نبی نے خطبہ دیا ، میرا چچا پڑھا لکھا تھا اُس نے بعد میں یہ لکھا ، اور اپنے پاس رکھ دیا ، اب چونکہ آپ کا اعلان سنا ، تو میں نے چچا کے سامان یہ خطبہ نکالا اور آپ کے پاس آیا یہ پیش خدمت ہے !
محمداختر نے تینوںہڈیاں لے کر پڑھا ، لیکن کچھ الفاظ جو خالص قبیلے کی زبان میں تھے ، سمجھ نہیں آئے ، وہ حکیم عمران کو دکھائے، جو  ام القریٰ  کے پاس جبل النور کے دامن  کا رہنے والا تھا  ،
حکیم عمران نے کہا : یہ عربی ہمارے قبیلے سے مختلف ہے ، یہ مجھے مصر کی عربی لگتی ہے ۔
مہاجر زادہ ، جی جی ، میرے چچا نے ،  اپنی عمر کا کچھ حصہ   حرغدا  ، مصر میں گذارا تھا جو  قلزم کے کنارے پرہے- حکیم عمران: ہاں میں نے نام سنا ہے ، مکہ والوں کے پاس وہاں سے قافلے آتے تھے ۔ محمداختر : اچھا مہاجر زادہ یہ بتاؤ  کیا کوئی اور بھی خطبہ موجود ہے ؟
مہاجرزادہ : جی زبانی تو بہت ہیں  - جو ہم نے  اجماع عظیم میں سنے تھے ،  جو پہاڑ  کے دامن میں  ، فتح ام القریٰ کے بعد ہوا تھا-
محمد اختر : اچھا سناؤ !
جواب میں مہاجر زادہ نے ،  زبانی  تیس منٹ  کا خطبہ سنایا جو اُسے زبانی یاد تھا ۔  وہاں  ابنِ حافظ بھی موجود  تھا  جس نے ساری عمر نبی کے ساتھ گذاری اور نبی کے سارے خطبات  بشمول تشریحاتِ خطبات اور  وضاحتیں یاد تھیں ۔   محمد اختر نے
  ابنِ حافظ کی طرف دیکھا۔
ابنِ حافظ:   ماشاء اللہ ،  یہ سب مجھے بھی یاد ہیں سوائے  چند باتوں کے جو غالباً  اُس وقت کہی گئیں  جو ہجرت سے پہلے کی تھیں، لیکن سب   نبی سے منسوب کی جاسکتی ہیں کیوں کہ اِن میں انسانی بھلائی کی باتیں ہیں ، جو  موسیٰ اور عیسیٰ نبی نے کہیں تھیں۔اور ابراہیم کا مکہ میں آباد ہونے کا بیان ، لوط کی قوم کی خرابیاں ، فرعون  کے ظلم ،   نوح کا سفر ، کم و بیش وہی ہیں ۔ جو میرے حافظے میں ہیں ۔ لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ! محمد اختر : لیکن کیا ؟
ابنِ حافظ:   کچھ باتیں    ، عربی قبائل کی رسومات لگتی ہیں  ، لیکن ہیں اچھی باتیں مگر وہ رسومات میرے قبیلے میں نہیں ہیں ۔  

حاجی عبداللہ  : معزز حضرات  ہم صرف ، لکھے ہوئے کو حق تسلیم کریں گے ، کیوں کہ بہت سے لوگوں کو بہت سی باتیں حفظ ہیں ۔ جن میں   کئی باتیں نبی کی نہیں ، یہاں تک کہ میں ابنِ حافظ پر بھی زیادہ یقین نہیں رکھتا ۔  کیوں کہ میں نے  نبی سے  ، " القرآن " کے علاوہ کچھ نہیں سنا ۔ اور صرف میں اِس کا حافظ ہوں ۔ حکیم عمران  : لیکن حاجی  عبداللہ  صاحب آپ تو ،  ہندوستان  کے رہنے والے ہیں، ٹھیک ہے کہ آپ   وہاں سے حج  کرنے  ام القریٰ آئے وہاں آپ کو معلوم ہوا ، کہ کوئی نبی  پیدا ہوا ہے ، تو آپ یہاں اگئے اور اُس وقت سے یہاں آباد ہیں لیکن اِس کے باوجود  آپ کا تلفظ القریش کا نہیں -
 حاجی عبداللہ  : آپ اپنے کسی حافظ کو بلوائیں ، میں القرآن کی تلاوت کرتا ہوں ۔
محمد اختر :حاجی صاحب  آپ سنائیں  ، ابنِ حافظ تصدیق کریں گے ۔
 (حاجی عبداللہ نے تلاوت شروع کی )
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ۔الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ-الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ  مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ - إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ -اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ۔ الم ۔ ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِّلْمُتَّقِينَ ۔
 ابنِ حافظ:    ٹہرو ، ٹہرو ! یہ کیا پڑھ رہے ہو ؟  حاجی عبداللہ  :کیوں کیا ہوا ٹھیک تو پڑھ رہا ہوں ؟
 ابنِ حافظ:  وَلَا الضَّالِّينَ  کے بعد ایسے پڑھو !
اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ - خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ - اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ - الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ - عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ -
مرکزی  مسجدمیں سب ششدر بیٹھے  ہیں ، کہ کیا جمع کریں ؟  ابنِ حافظ   کی شہادت    یا حاجی عبداللہ   ، کی تلاوت !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
صاحبان عقل و دانش ، فہم و فکر ،  شعور و تدبّر ،  آپ کی کیا رائے ہے ؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مزید پڑھیں :
کُتبِ اساطیر

کیا یہ توھینِ قرآن نہیں ؟




خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔