میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 3 اگست، 2017

کیا سٹیج پر گالی گلوچ ہماری تہذیب ہے ؟



کیا  سٹیج  پر گالی گلوچ ہماری تہذیب ہے ؟

(گھروں ، گلیوں ،  بازاروں اور سکولوں میں یہ   معاشرتی و سماجی و معاشی  تہذیب کا حصہ ہے  - مہاجر زادہ)
 
پاکستان کے سیاسی افق پہ " گالی کلچر" کس نے متعارف کرایا؟؟
( پہلی بار ، ذوالفقار علی بھٹو نے-مہاجرزادہ  )

اخلاقیات ؟؟ 
کہاں کی اخلاقیات ؟؟ 
کہاں کی تہذیب ؟؟ 
کوئی شک نہیں ، جذباتیت ، گالی گلوچ لوگوں کو متوجہ کرنے کا ایک مؤثر ہتھیار ہے ۔ 
ہم یہی سمجھاتے رہے ؟؟ 
اغیار کا ایجنڈا ؟؟ 
ملک کو عدم استحکام کی طرف لیجانا ؟ 
خودتحلیلی ؟؟ 
سنجیدہ سیاست کا طریقہ یہ نہیں ہے ۔ 
سنجیدہ سیاست کا طریقہ یہ ہے ۔ کہ اپنا ایجنڈا پیش کرو۔
اپنا منشور بتاؤ ۔ 
دوسروں کے منشور پہ بات کرو۔ 
 لیکن سب کو گالیاں ، سب کے برے نام ، اپنے کارکنان کو کھلی چھوٹ ؟
جو میرے ساتھ ہے وہ پاک شفاف ، جو کہیں اور سارے گندے ؟
گلالئی نے جو کیا ، کہا، سب نے سنا ،
لیکن اس کے جواب میں گلالئی کی بہن دکھائی گئی ؟
گلالئی کی بہن کل تک کہاں تھی ؟
پردے میں ، کیوں جب گلالئی پی ٹی آئی میں تھی؟
 
 لیکن یاد رکھیں ، جو کچھ ہورہا ہے ، بہت غلط ہورہا ہے ۔ پاکستان کے معاشرے کو ایک اور شدت کی طرف لیجایا جارہا ہے ۔ 
میں نہ مانوں ؟ کوئی طریقہ ہے ؟
 
 عمران خان اور اس کے پارٹی نے انسداد بدعنوانی کے کونسے قوانین اسمبلی میں ڈسکس کئے ہیں ؟؟
منظور کرانے کے لئے پریشر ڈالا ہو ۔ حقیقی کرپٹ اور سٹیٹس کو قوتوں کو چیلنج کیا ہو ، جنرلز کی تقریر تو یہ یوم تشکر کے جلسہ میں بھی دکھاتے ہیں ۔
پٹھان ، غیرت ، ایمان ، مشرف کی تقریر شروع ہوتے ہی رخصت ہوتے ۔ رخصت نہ ہوئے ، کچھ تو رخصت ہوا ہوگا ، بیشک غیرت ہی سہی ؟؟
 
یاد رکھنے کی باتیں : 
 اقتدار تک پہنچنے کا پرامن طریقہ انتخابات ہیں ۔ انتخابات جیتنے کا پرامن طریقہ اپنے منشور کی مناسب تبلیغ ہے ۔ باقی مضبوط امیدوار کا تصور ہلکی کرپشن ہی ہے ۔ اور یہ کرپشن تمام سیاسی پارٹیاں کسی نہ کسی طور کر رہی ہے۔ لیکن گالی گلوچ کا انداز بالکل غلط ہے ۔ بدقسمتی سے گالی گلوچ کا کلچر یہاں فروغ پا رہا ہے۔ خدشہ ہے کہ گالی گلوچ سے بات اگے نکلے گی ۔ اور اگے نکلے گی ، تو لڑائی جھگڑوں کی طرف جائیگی ۔ مملکت کی عدالتیں اپنی وقعت کھو چکی ہے ، جنرلز نے فوج کو بدنام کردیا ہے ۔ پولیس کا حال پہلے ہی بے حال ہے ۔ ن لیگ نے پی ٹی ائی کے استعفی نظر انداز کئے ، امن کی خاطر ، جب امن ہی نہ رہے ، تو پھر کس چیز کا لحاظ کریں ۔ عمران خان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ جان چکا ہے انتخابات کے زریعے اقتدار تک پہنچنا بہت مشکل ہے ۔ لہذا جنرل پاشا سے لیکر چوہدری افتخار تک ، اور اب کھوسہ تک ، کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں ۔
  
طریقہ سادہ ہے مجھے اقتدار دےدو یا میں سراپا احتجاج ہوں ، اور سب بُرے میں ٹھیک ۔
  
 ہمیں پاکستان چاہئے ۔ پاکستان کی بقا درکار ہے ۔ طاقت کے کھیل کے مہروں اور حقیقی کھلاڑیوں کو سمجھنا چاہئے ۔ کہ پرامن اور آئینی طریقہ کار میں ہی بقا ہے ۔ ڈکشنریوں ، بندوقوں کے کھیل میں تباہی ہے ۔ 
انتخاب ہم سب کا
 گالی گلوچ ، اوچھے ہتھکنڈے ؟؟ زور زبردستی ، لاک ڈاؤن 
یا 
منشور ، سیاسی جوڑ توڑ ، مضبوط امیدوار ، صبر 
یا 
 پریشر گروپ برائے اصلاح و نفاذ ائین 
یا 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔