میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 31 اگست، 2017

یومِ عرفہ اور اجتماعی شعور



 اجتماعی شعور(Collective Consciousness )  کی روح کو بیدار کرنے کے لئے ، مسلمانوں کا ایک عظیم الشان اجتماع , جو  9 ذی الحج کو  عرفات کے علاقے میں  برپا ہوتا ہے ۔ جس میں دنیا کے ہر دور دراز علاقوں کے رہنے والے مسلمان  صدیوں سے اپنے رسول کے مطابق اپنے اللہ کو منانے آتے ہیں ۔ عرفات کے میدان میں  سورج غروب ہونے سے  سے پہلے  انسانی گریہ زاری و مناجات  سے پیدا ہونے والی لہریں جن کا صرف ایک لمحہ حاصل ہوتا ہے ، کہ ماضی کی باعثِ شرم زندگی کی موت کے بعد نئی زندگی  نوید سننا  ، مشہور ہے  کہ اُس لمحے یہاں موجود ہر انسان    نیا جنم لیتا ہے ۔
جس کے انسانی دنیا میں ہوش سنبھالنے سے  اِس لمحے سے پہلے اللہ  کے احکامات کے خلاف 
کئے جانے والے،تمام  فعل و عمل کے ہر  چھوٹے بڑے ڈبوں کو وہ خود تالے لگا دیتا ہے ، اور  اپنے اللہ سے اپنے رسول کی موجودگی میں یہ عہد کرتا ہے ، کہ اب وہ اپنی  پچھلی زندگی کی غلطیوں کا اعادہ نہیں کرے گا ۔اِس عظمِ صمیم کے بعد جب وہ سورج غروب ہونے کے بعد واپس ہوتا ہے ، تو  کہا جاتا ہے کہ اُس کا حج مکمل ہو گیا ۔ اب وہ خود کو گناہوں پر اکسانے والے شیطان کو زد و کوب کرنے کے بعد دفن کرے گا اور اپنے اللہ اور اُس کے رسول کے ساتھ واپس   اپنے  گھر آجائے گا ۔
اب سوال پیدا ہوتا ہے ، کہ یہ نومولود انسان ، یومِ عرفہ کا سورج غروب ہونے کے بعد کیا ، خودہی اپنے نئے بکس خود ہی کھولنا شروع نہیں کر دیتا !
ایسا کیوں ہوتا ہے ؟
وہ نومولود  ، بالغ ہو کر اپنے گھر کیوں لوٹتا ہے ؟
کیا کسی کے پاس اِس سوال کا جواب ہے ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔