میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 24 اگست، 2017

خدائی مدد گار - غوری

اچانک میری نظر سڑک پر  پڑی، ہرے رنگ کی شرٹ پہنے ،جس پر 14 اگست یومِ آزادی جلّی حروف میں پرنٹ تھا،پسینے میں شرابور ، حبس اور تپتی دھوپ میں وہ موٹر سائیکل سنبھالے،  اُس سے دھینگامستی   کر رہا تھا۔ غالباً پہیوں اور باڈی کے ساتھ گھما کر لگایا ہوا   اضافی وائر  لاک اُس سے نہیں کھل رہا تھا ، شائد اُس کی چابی کام نہیں کر رہی تھی  اکثر موٹر سائیکلسٹ  اپنی واحد سواری کو ، کسی دوسرے کی دسترس میں جانے سے بچانے کے لئے، یہ کام کرتے ہیں  ۔ میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا اُس کے پاس گیا ۔ پوچھا کیا ، " میں آپ کی کوئی مدد کرسکتا ہوں؟ آزادی کا دن ہے اورآپ  میرے پاکستانی بھائی پریشان ہے ، مدد کرنا میرا فرض" ۔ " بھائی وائر لاک نہیں کھل رہا  " وہ بولا ۔  " لاؤ میں کوشش کرتا ہوں " میں نے بولتے ہوئے اُس کی طرف ہاتھ بڑھایا،  اُس نے اپنے ہاتھ میں پکڑی چابیاں مجھے دے دیں ،میں  چابیاں لیں اورکوشش کرنے لگا  ۔ لیکن کوئی چابی نہیں لگی ۔ میں نے  اپنے شک کو چھپاتے ہوئے ،اُس سے پوچھا،" اس کی اپنی چابی کہاں ہے؟ " بھائی  رش میں کہیں کھو گئی  ہے " وہ  اعتماد سے بولا  ۔ اُس کا اعتماد دیکھ کر میں نے پاس سے گذرتے ہوئے  دو چار بائیک والوں کو روک کر کہا،" بھائی، آج  آزادی کا دن ہے آئیں ،ان بھائی جی مدد کریں ۔ بےچارا نہ جانے کب سے یہاں پریشان کھڑا ہے "  موٹر سائیکل والوں نے بھی اپنے پاکستانی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے بڑے دل کا مظاہرہ کیا اور اپنی اپنی چابیاں پکڑا دیں کہ ،بھائی کوشش کرلیں ہوسکتا ہے کسی کا کام ہوجائے ۔ وہ شخص کھڑا مجھے دیکھ رہا تھا شاید دل ہی دل میں دعا دے رہا ہوگا ۔اور سوچ رہا ہوگا کہ ایسے خضرِ راہ آج اِس ہاپہ دھاپی کے دور میں کہاں ملتے ہیں اور وہ بھی کڑی دھوپ میں ،  اسی کوشش میں آدھا پون گھنٹا گزر گیا، میرے بھی پسینے چھوٹے ہوئے تھے ،  اچھی خاصی پبلک جمع ہوگئی تھی ۔ سب حسبِ استطاعت اپنے اپنے تجربات کی روشی میں ، نابغہ ءِ روزگار مشوروں سے نواز رہے تھے ۔کوئی کہتا ، " لاک کاٹ دو"  ۔ کوئی کہتا ۔ "سوزوکی میں رکھ کر لاک میکر کے پاس لے جائیں" ۔ لیکن میرا کہنا تھا ، " بھائی ،انسان کوشش کرے تو کیا نہیں ہوسکتا ۔ ویسے بھی آزادی کا دن ہے کوئی کام شام ہے نہیں ، موبائل نیٹ ورک بھی بند ہے ۔ سڑکوں پر خواری کرنی ہے یا گھر میں بند ہوکر سونا ہے ۔ کیوں جھوٹ بولوں میں آزادی کے دن بھی آفس میں تھا اور میں نے آفس کی کھڑکی سے اس شخص کو پریشان دیکھا ۔ میں نے اسے آفر بھی کی کے بھائی اوپر آفس میں چلیں چائے پانی پی لیں پھر کوئی حل نکالتے ہیں ۔ لیکن وہ موٹر سائیکل کے پاس سے ہٹنے کو تیار نہیں تھا " ۔سب لوگ مجھ سے بہت متاثر ہوئے ،  اُن کے چہروں  میرے لئے ایک شتائش  سی جھلک رہی تھی۔ایک نے کہا ، " دوست واقعی آپ جیسے ہمدرد اب کہاں نظر آتے ہیں ، سچ پوچھو ، تو آپ کے خلوص کی وجہ سے ہم یہاں رُکے ہیں "۔ " بھائی  ، بہت بہت شکریہ"  میں بولا" ارے ! یار چابی تو میرے پاس بھی ہے ، وہ ٹرائی کرتے ہیں " میں نے ماتھے پر ہاتھ مار کر کہا اور جیب سے چابی نکالی ۔  " چلو یہ ٹرائی کرتے ہیں ۔ میں نے امید بھرے لہجے میں کہا ' " شائد اِس سے کھل جائے "  ۔ میں نے چابی لاک میں ڈالی اور گھمائی ، پہلی ہی کوشش میں وائر لاک کھل گیا ۔ " ارے واہ " میں بے ساختہ بولا ،" لو بھائی تمھاری مشکل آسان ہوئی " وائر لاک اُس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا ۔تالیاں بجنے لگیں، میں نے اُس کا کندھا تھپتھپایا ، " موجیں کرو موجیں  ، کیا یاد کرو گے ! " وہ  ناخلف شکریہ ادا کئے، جلدی سے موٹر سائکل پر سوار ہوگیا ، وائر لاک میرے ہاتھ میں تھا، جسے میں نے ہینل پر ، اِس طرح لپیٹ دیا کہ گرے نہیں ، اُس نے ، کِک ماری ، لیکن اب بائیک اسٹارٹ نہیں ہورہی،شائد گرمی کی وجہ سے کاربو ریٹر کا پیڑول اُڑ گیا ہو ،  وہ پھر پریشان ہوگیا، بولا، "اب کیا مصیبت ہے"؟ " بھائی   دائیں بائیں ہلاؤ  یا ریزرو چیک کرو ، کہو تو میں پلگ کا کچرا صاف کرد وں ؟" مجھے اُس شخص پر بڑا رحم آرہا تھا  ، آزادی کا دن ہے اور یہ بچارہ کتنا بدنصیب،موٹر سائیکل چلانا  کتنا جان جوکھوں کا کام ہے ذرا سا ھینڈل بھٹکا  ،  اور گئے سیدھے ہسپتال یا فرشتوں کے ہاتھوں اگلے جہاں ،  موٹر سائیکلسٹ  جان ہتھیلی پر رکھ کر روٹی روزی کے لیے نکلتا ہے ، یہ جانباز لوگ ۔ نہ دن دیکھتے ہیں نہ رات ۔ قائد کے فرمان کے مطابق کام کام اور کام کرتے ہیں ۔کام ملے نہ ملے ، لیکن تلاش جاری رکھتے ہیں ، میں نے  سوچا ،اب اور کیا کروں ! اُسے پیٹرول لا کر دوں یا دھکا لگاؤں،  " بھائی دھکا لگاؤں کیا " میں بولا ، نہیں میں پیدل لے کر چلا جاتا ہوں ، وہ اُترنے لگا تو ذرا سا ڈگمگایا میں نے   بائک کو سنبھالا ، اگر اس کے اچھے نصیب کی دعا کرتا ہوں تو اپنی ( موٹی سی توند) پیدل چلنے میں ،نازک پیروں پر مزید  بوجھ بن جائے گی ۔ لہٰذا میں نے اُس پر اتنا احسان کیا کہ اُس کے کان کے پاس اپنے ہونٹ لے جاکر کہا: " بھائی ، اس موٹر سائیکل میں ایک خفیہ لاک بھی لگا  ہوا  ہے، اس لیے یہ سٹارٹ نہیں ہو گی۔"اتنا سننا تھا کہ اُس شخص نے خوف سے آنکھیں پھیلا کر میرے طرف دیکھا اور پوچھا " تمھیں کیسے معلوم ؟ "   وہ شخص آرام سے موٹر سائیکل سے اُترا ، " اِس لئے کہ یہ میری ہے " میرے منہ سے یہ چھوٹا جملہ سنتے ہی ، اُس طرف دوڑ لگا دی جہاں کچھ نوجوان آزادی کا جلوس نکال رہے تھے ۔ آس پاس کھڑے لوگ حیران ہو کر  پوچھنے لگے ، "بھائی وہ اچانک بھاگا کیوں ؟" ۔ میں نے بولا،" اس لئے  کہ وہ چور تھا اور یہ بائیک میری ہے"۔" کیا ؟ " کئی آوازیں بلند ہوئیں  " تم جانتے تھے کہ وہ چور ہے اور پھر بھی اس کی مدد کررہے تھے؟ " ایک جذباتی نوجوان اپنے بازو کی مچھلیاں پھڑکاتے بولا ا ، " پہلے بتاتے  ، وہ ساری عمر کے لئے چوری سے توبہ کر لیتا " ۔ تیسرا بولا ،" یا ر بڑے عجیب انسان ہو !"  میں نے کہا ، " اس میں عجیب کیا ہے؟  ہماری پاکستانیت کی شان یہی ہے کہ ہم چوروں  اور ڈاکوؤں کی  دامے درمے اور سخنے مدد کریں ۔جو آپ کے سامنے آپ کی آنکھوں سے اِس خوبی سے سرمہ چوری کرتے ہیں کہ آپ کو پتہ ہی نہیں چلتا ،   ہم جانتے ہیں کہ سیاست دان چور ہیں ،لیکن پھر بھی ووٹ دے  کر اُن کی مدد کرتے ہیں ۔ کیوں کہ ہمیں ہر حال میں اور ہر  قیمت میں جمہوریت چاہیے۔ چور تو   بھی  بہت ہیں کچھ چھوٹے اور کچھ بڑے ، بڑے چوروں کو تو  آپ کچھ کہہ نہیں سکتے ، اُن سے لوٹی گئی دولت کا  حساب نہیں پوچھ سکتے، کیوں کہ  یا تو وہ اقتدار میں ہوتے ہیں یا پھر پسِ پردہ  ، عوام کی پہنچ سے دور،  ہم عوام کے گالیاں دینے کے لیے، رہ جاتے ہیں چھوٹے لوگ ،  ایسے لوگ  جو ہم میں سے ہوتے ہیں  ۔ جن کے گریبان تک ہمارا ہاتھ پہنچتا ہو ۔ جو اقتدار میں ہوں تب بھی عوام کی گالیوں کی رینج میں ہوں اور جب اقتدار سے اتریں تب بھی عوام کے ٹماٹر انڈوں کی رینج میں رہیں ۔ ہمیں تو جمہوریت ہی چاہیے بس ۔۔۔ ایسے لوگ چاہییں جن کے دروازوں پر غصے میں انیٹ مار کر یا گھنٹی بجا کر بھاگ سکیں ، نہ کہ وہ حکمران جن کے ایک تو ہمیں معلوم نہیں دروازے کہاں ہیں ، دوسرا سخت سیکورٹی میں پانچ چھ ناکے کراس کر کے اُن کی گھنٹی بجانے پہنچ بھی گئے تو ہوسکتا ہے وہاں آپ کو گھنٹی کی جگہ بڑے سے گھنٹے کا سامنا ہو جائے ۔کیوں کہ ، ہمیں آمریت راس نہیں آتی ۔غوری نامہ

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔