میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 16 اگست، 2017

ٹیکنکل فیصلہ:غوری

بھارت کے شہری علاقوں کے ایک کروڑ گھروں میں بیت الخلا( ٹوائیلٹ) نہیں ہیں ۔ اگر دیہی علاقوں کو بھی اس میں شامل کرلیا جائے تو یہ تعداد دوگنی سے بھی کہیں زیادہ ہوجائے ۔ ہندوستان میں کئی برسوں سے اشتہارات، ڈراموں، فلموں اور دیگر مختلف طریقوں سے عوام کو یہ ترغیب دی جارہی ہے کہ برسرِ راہ تعفن پھیلانے سے اچھا ہے کہ اپنے گھروں میں ٹوائیلٹ بنالیے جائیں ۔ لیکن وہاں کی کم پڑھی لکھی عوام کا عقیدہ ہے کہ جس گھر میں بھگوان کا مندر ہو، تلسی کا پودا ہو وہاں ہم یہ ناپاک چیز کس طرح بناسکتے ہیں ۔ ہاں مرد و خواتین اپنا چہرا ڈھانپ کر کھیتوں میں چلے جائیں اور فارغ ہوجائیں جو دیکھتا ہو دیکھتا رہے چہرا چھپا ہوگا تو پہچانے گا کون کہ وہاں کون بیٹھا ہے۔ عموماً یہ لوگ بھی ہماری آمریت کی طرح رات کی تاریکی کا فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ مرکز نے سوچھ بھارت مشن کے تحت 2019 تک گھروں میں لیٹرین کی سہولت فراہم کرنے کا عزم کیا ہے ۔ اس پروگرام کے تحت 31.14 لاکھ ٹوائیلٹ تعمیر کیے جاچکے ہیں ۔ امید ہے بھارتی حکومت 2019 تک اپنا ہدف مکمل کرلے گی ۔ کیوں کے بھارت میں حکومت بنا کسی سازش کے اپنی مدت مکمل کرتی ہے ۔ وہاں کسی وزیر اعظم کو قربانی سے پہلے قربان نہیں کیا جاتا ۔ وہاں حقیقی جمہوریت باقائدہ نظر آتی ہے ۔ وہاں اپوزيشن ایشوز پر ہوتی ہے ۔ وہاں کوئی اسٹبلشمینٹ کا مہرہ بن کر دھرنے نہیں دیتا ۔ 
ہمارے ہاں پانامہ کی آفشور کمپنیوں ، لندن کے فلیٹوں اور اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات سے شروع ہونے والا عالمی شہرت یافتہ مقدمے کا انجام اقامہ پر ہوگا کبھی سوچا نہ تھا ۔ بظاہر تو یہ ایک عجیب سا فیصلہ لگتا ہے لیکن عجیب ہے نہیں ۔ اگر نوازشریف کو کرپشن کے الزام میں فارغ کیا جاتا،  تو ن لیگ نے اعلی اداروں میں بیٹھے اعلی عہدوں پر فائز کرپٹ آفسران کے خلاف کاروائی کی ڈیمانڈ کرنی تھی ۔ اُن کرپٹ افسران کے خلاف کاروائی نہ بھی کی جاتی تب بھی عدالت کو وقتی دباؤ اور پریشانی کا سامنا ضرور ہوتا۔ اسی لیے ایسا فیصلہ دیا گیا جس کی زد میں صرف اور صرف وہ افراد آئیں گے جو الیکشن لڑکر اسمبلیوں میں جانے کے شوقین ہیں، یا پھر اسمبلیوں میں پہلے سے موجود ہیں ۔ اس فیصلے کے آنے سے میرے خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ ایک نئی جماعت بننے جارہی ہے جو بظاہر صادق و امین افراد کو جمع کرکے بنائی جائے گی. یہ کس طرح ہوگا؟
 اس فیصلے کے بعد یہ سمجھنا بہت آسان ہے مثال کے طور پر آرٹیکل 62 ، 63 کے مطابق جس نے الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی کے وقت کسی بھی قسم کے اثاثے چھپائے وہ پانچ سال یا تمام عمر کے لیے نااہل ہوجائے گا ۔ اگلے پینتالیس دن بہت اہم ہیں ۔ ہوسکتا ہے نامزد وزیر اعظم الیکشن ہار جائیں ۔ ن لیگ جو اس وقت وفاق اور پنجاب اسمبلی میں اکثریت رکھتی ہے وہ شاید ان ہاؤس اقلیت میں تبدیل ہوجائے، ن لیگ جس ممبر کو عبوری یا مستقل وزیر اعظم کے لیے سامنے لائے گی دوسرے ہی دن اس کے خلاف کسی بھی پُرانے کیس میں درخواست عدالت میں جمع کروادی جائے گی ۔ اور یہ ہی وجہ ہے کہ ممبرز اسمبلی اس فیصلے کے بعد خوفزدہ ہیں اور اسی خوف کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ان سے وفاداری تبدیل کروائی جائے گی۔
 یقیناً مسلم لیگ نواز ایک مشکل وقت سے گزر رہی ہے وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے جارہی ہے ۔ تمام مخبر سرگرم ہوجائینگے ۔ قومی و صوبائی ممبر کی ایک ایک منٹ کی جاسوسی ہوگی ۔ حاصل شدہ معلومات کو الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی معلومات سے ملا کر دیکھا جائے گا کہ کس نے کہاں اور کتنا جھوٹ بولا گیا ۔ کونسے اثاثے ظاہر کیے ہیں اور کون سے اثاثے چھپائے ہیں ۔ اگر ٹھیک سے تحقیق کی گئی تو پچاس، ساٹھ کے قریب تو صرف ن لیگ کے ایسے ممبرز سامنے آجائینگے جن کے اقامے بنے ہوئے ہیں اور وہ الیکشن کمیشن میں ظاہر نہیں کیے گئے ۔ 
ن لیگ کے بعد اب کئی پیپلزپارٹی لیڈران کے بھی اقامے سامنے آچکے ہیں ۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریڑی جنرل، جہانگیر ترین کے باورچی اور مالی کے بنک اکاؤنٹ میں سات سات کروڑ روپے ہونے کی وضاحت سپریم کورٹ کی جانب سے طلب کرنے پر ملک بھر کے سیاستدانوں کو پریشانی ہونے لگی ہے۔ درجنوں سیاستدانوں کے بنک اکاؤنٹ اپنے کسانوں ، منشیوں اور گھریلو ملازمین کے نام ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔
ذرائع کے مطابق کئی سیاست دانوں نے الیکشن کمیشن میں جو اثاثہ جات ظاہر کئے ہیں ان کی نسبت میں ان کے ٹھاٹ باٹ کہیں زیادہ ہیں، کئی نے تو اپنی بیویوں کی تعداد تک چھپائی ہوگی ۔ پانامہ لیکس کے فیصلے کے بعد ایسے سیاستدانوں میں پریشانی پیدا ہو گئی ہے کہیں آئین کی آرٹیکل 62اور 63کے تحت کوئی شہری عدالت میں ان کے خلاف درخواست نہ جمع کروادے ۔بہرحال عام شہری کی اتنی مجال کہاں کے وہ ان سیاستدانوں کے خلاف بنا کسی بڑی طاقت کی پشت پناہی کے عدالت میں درخواست جمع کروائے ۔ سب کا ڈیٹا جمع ہونے کے بعد ان کے گھروں میں جاکر ان کو بڑے پیار سےسمجھایا جائے گا کہ جناب یہ آپ کے وہ خفیہ بینک اکاؤنٹ، اثاثے اور شادیوں کا ریکارڈ ہے جن کا ذکر آپ نے الیکشن کمیشن میں ظاہر نہیں کیا لہٰذا آپ فی الحال ہماری نظر میں صادق و امین نہیں رہے ۔ اگر تو آپ ہماری طرف آتے ہیں تو پھر یہ ثبوت ابھی اور اسی وقت جلادیے جائینگے ۔ اور اگر آپ ہمارے ساتھ نہیں آتے تو پھر یہ ثبوت پبلک ہونے کے ساتھ ساتھ عدالت میں ایک درخواست کے ساتھ جمع کروادیے جائیں گے، جس کے نتیجے میں آپ بھی نوازشریف کی طرح تاعمر نااہل ہوسکتے ہیں ۔ اس طرح بنے گی ایک اور بڑی سیاسی جماعت اور وہ جماعت 2018 کا الیکشن بھرپور لڑے گی ۔ ایک طرف منتخب وزیراعظم کے حسب روایت نکالے جانے کا دکھ ہے دوسری طرف نوازشریف اور ان کی کابینہ کے جانے کی خوشی بھی ہے ۔
اسٹیبلشمنٹ کی مدت سے خواہش ہے کہ وہ ، بنگلہ دیش کی طرز پر ملک میں ٹیکنو کریٹ کی حکومت لانے کا انتظام کرے ، لیکن اُسے نہیں معلوم کہ عوام کو جب کسی نظام کے خامیوں کا ادراک ہوتا ہے تو وہ اُسے بھری چولے کی طرح اپنے اوپر سے اتار پھینکتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں ، کہ آج کے گلوبل ولیج میں  ، پاکستان کی اہمیت زیادہ ہے ، لیکن کیا کیا جائے گلوبل ولیج  کے  چوہدری کو پاکستان ، کی ہٹ دھرمی ایک آنکھ نہیں بھاتی ، یمن کا معاملہ ہو یا  قطر  کے خلاف ہجوم  پاکستان نے اِس دھماچوکڑی میں خود کو علیحدہ   ، کھڑا کر رکھا ہے ۔
گلوب کے چوہدری کو سب سے بڑا دھچکا اُس وقت لگا جب ، نئے سپہ سالار نے چوہدری کے سامنے سر جھکانے کے ، اُس کے معاشی دشمن چین کو جپھی ڈالی ۔

غلطیاں نواز شریف نے بھی بیشمار کی ہیں ۔ نواز شریف اور ان کے وزراء کا جو روایہ اپنے ساتھی ممبران کے ساتھ تھا وہ قابل مذمت تھا ۔ کئی وزراء اپنے دفاتر میں ہی نہیں ملتے تھے ۔ غرور و تکبر نے ان کے چلنے کا انداز ہی بدل دیا تھا ۔ اٹھارویں ترمیم کے وقت باسٹھ تریسٹھ یقیناً ختم ہوجاتا اگر ن لیگ اس کی مخالفت نہیں کرتی-
 نواز لیگ نے اُس وقت یہقانون اس لیے ختم ہونے نہیں دیا کہ کسی وقت اسے آصف زرداری اور دیگر سیاسی مخالفین کے لیے استعمال کریں گے ۔ آج خود ہی اس قانون کی زد میں آ گئے۔ باسٹھ تریسٹھ ختم ہونے کی ایک ہی امید ابھی باقی ہے، عمران خان جہانگیر ترین اور علیم خان بھی نااہل ہو جائیں تب سراج الحق اکیلے باقی بچیں گے جو اس قانون کو ختم کیے جانے کی مخالفت کریں گے اور ان کی جماعت کی پارلیمانی اکثریت نہ ہونے کے برابر ہے، لہٰذا عمران خان اپنی اور اپنے ساتھیوں کی نااہلی ختم کروانے کی خاطر، اِس قانون کے پچھلی تاریخوں سے  ختم کروانے کی تو نہیں ، لیکن مدتِ ناہلی کو کم کروانے  کے  اس قانون کے خلاف پس پردہ نواز شریف کا ساتھ ضرور دینگے ۔  قانون میں مدت نہ لکھے جانے کی وجہ سے جو انٹرپریشن کی جارہی ہے وہ ساری عمر کی ہے یا  اُسی ٹرم کی جس کے لئے ممبر منتخب ہوا ہے۔
پاکستان سے اب بلیک میلنگ کی سیاست کا خاتمہ، بین الاقوامی بلیک میلرز کے ذریعے نہیں بلکہ ،  ملک کے اندر جمہوریت کی سلامتی سے ممکن ہے ، ہم یہ نہیں کہتے کہ ملک سے  آرٹیکل 62اور 63کی چھلنی سے  صفائی نہ کی جائے ،ضرور کی جائے ہر شعبے میں ہر سطح پر  بلا تعصّب کی جائے ۔ جو صرف اُس وقت ممکن ہے ، کہ 2013 کے انتخاب میں عبوری حکومت یہ چھلنی مضبوطی سے ہاتھوں میں پکڑ لے ۔یہ نہیں کہ چکنی مچھلیاں معافی مانگ کر نکل جائیں ۔ برائی کو اُس کی جڑ سے ہی کاٹنا ہوگا ۔ہر وہ فرد جو     آرٹیکل 62اور 63    پر پورا نہیں اترتا  اُس کا ووٹ کا حق بھی ایک معیّن مدت تک ساقط کرنا ضروری ہے ۔
 اسی طرح اگر  عوام کے منتخب وزیر اعظم کو وقت پورا کرنے دیا جائے تو ملک میں پائیدار جمہوری نظام کا راستہ ہموار ہونے کی امید رکھی جا سکتی ہے ۔۔

(غوری نامہ)



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔