میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 26 اگست، 2017

کُتبِ اساطیر

قارئین ۔ آپ کو علم ہوگا کہ الکتاب کو سمجھنے کا میرا طریقہ  ، اللہ کے الفاظ سے   جو مختلف آیات میں پائے جاتے ہیں کسی بھی آیت کا فہم لینا ہے ۔ لیکن اگر میری کم علمی یا آیت کی سمجھ مکمل ہونے تک میں ، اللہ کے الفاظ کا عربی ہی میں علم رہنے دیتا ہوں، لیکن  اللہ کی آیات میں جن   صاحبان عقل و دانش و فہم و فکر وشعور نے  تدبّر  کیا ہے،    اُن سے بھی استفادہ کرتا رہتا ہوں، کیوں کہ اللہ کا محمدﷺ کو یہی حکم ہے ۔ 
اللہ نے محمدﷺ کو حکم دیا :

فَإِن كُنتَ فِي شَكٍّ مِّمَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ فَاسْأَلِ الَّذِينَ يَقْرَءُونَ الْكِتَابَ مِن قَبْلِكَ ۚ لَقَدْ جَاءَكَ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ ﴿10:94 

اگر تجھے  اُس میں شک ہو جائے   جو ہم نے تیری طرف نازل کیا ، پس تو اُن لوگوں سے پوچھ جو تجھ سے قبل الکتاب کی قرءت (تلاوت نہیں)  کر رہے ہیں  ۔ حقیقت میں تیرے پاس بھی  (الکتاب کی صورت میں)  الحق  پہنچ چکا ہے  ،پس  تو      الْمُمْتَرِينَ میں مت  شامل ہو جانا ۔
کیوں کہ مجھے خوف رہتا ہے کہ کہیں ترجمہ کرتے وقت اللہ کی آیت کی تکذیب نہ ہوجائے :

وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّـهِ فَتَكُونَ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴿10:95
اور تو اُن لوگوں میں شامل مت ہوجانا جو   اللہ کی آیات کا کذب  کرتے  رہے  ، پس تو  خاسرین میں شامل ہو جائے گا ۔
 قارئین:  
ایک ہوتا ہے حقیقت بیان کرنا اور

دوسرا جھوٹ کی دیگ میں حقیقت کے رنگ کی ایک چٹکی ڈال کر لوگوں کو مسحور کرنے کا شیطانی فن،
تیسرا چھوٹا سا بیان لڑھکا کر ، سننے  والے کو خود اُس پراپنے اپنے فہم کی تہہ در تہہ سے جسمِ نامکمل بنانے دینا ۔ 

 مؤخرالذکر دونوں طریقوں کو کہانیاں(اساطیر )  بنانے یا بنوانے کا فن کہتے ہیں -   انسان میں ، کہانیاں بنانے کی ، یہ خوبی اللہ نے ہی ڈالی ہے ۔ جو جتنی لمبی کہانی بیان کرے گا اتنا ہی لوگوں میں مقبول ہوگا- درج ذیل کُتب اساطیر کی  کی مرہونِ منت ہیں :
جبکہ حقیقت کو قصص کہا جاتا ہے ۔ اور الکتاب  ، الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سے لے کر مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ   تک 
قصص پر مشتمل ہے، اساطیر پر نہیں !

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مزید پڑھیں !

مُلا و پیرانِ وقت اور مریم بنت عمران !

 کیا مسیح عیسیٰ ابنِ مریم ایک کلون تھے ؟



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔