میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 16 اگست، 2017

اردو improve کرنے کے طریقے



 ایک  ماہر نبّاض کی طرح ، دوائیوں ، آپریشن  اور علاج کی وادیوں میں ڈوبنے کے بجائے ،  انسانوں کی دماغی جھنجلاہٹ کو پرسکون کرنے اور ہونٹوں پر مسکراہٹ   سجانے کے لئے ،   اردو ادب  و شاعری کی وسیع جھیل  کا طول و عرض ماپنے والی  ، ہونہار اور لائق بھتیجی رابعہ درانی    نے ،  اپنے پیج   " رعنائی ءِ خیال  " پر بے شمار تخلیقات کو جگہ دی ہے ۔ جو اپنی مقبولیت کی وجہ سے ، روزناموں ، اور اخبارات میں جگہ پا کر ، رابعہ بیٹی کو صحافت کے میدان میں لے آئے ہیں ۔ بس یہی کہہ سکتا ہوں کہ اللہ کرے زورِ قلم اور بھی زیادہ ۔ (مہاجرزادہ)
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


ہمم ۔ اوکے let's see اردو بہتر کرنے کے لیے what can we do؟
اب اتنیtough language تو نہیں ہے اردو کہ کوئیlearn ہی نہ کر سکے بس تھوڑی practice کی ضرورت ہے اورvocabulary بہتر کرنے کے لیے books اور news papers پڑھنے کے علاوہ dictionay consult کرنی چاہئے ..
اردو
slowly improve ہو ہی جائے گی ..
بس
remember one thing that , work hard میں ہی کامیابی کیkey ہے. بنا struggle کے ہم کبھی بھی اپنی destiny تک نہیں پہنچ سکتے.
اپنی
daily routine میں اگر ہم اردو language کو use کرنا شروع کر دیں تو کافی benificial ہو گا اور اردو easily learn ہو جائے گی .. مجھے امید ہے and I wish too کہ میرا message اچھے سے convey ہو گیا ہو گا اور آپ سب friends n fellows آج سے hard work کرنے لگیں گے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ 
رعنائی خیال  :  انگلش برداشت  ہے  . بس ہندی کی آمیزش اچھی نہیں لگتی خصوصا جب بولنے والے کو احساس بھی نہ ہو کہ کب و ہندی کی ملاوٹ کر بیٹھا؟

نوٹ: ڈاکٹر رابعہ  ،کے مضمون پر ، میرا کمنٹ :
اردو نے ہندی کے بطن سے جنم لیا ،
فارسی کی گود میں پروان چڑھی ،
عربی نے پاؤں چلنا سکھایا اور
انگریزی نے معاشرے میں ممتاز کیا !




خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔