میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 12 ستمبر، 2017

اپنی جھونپڑی کو آگ مت لگانا۔


جس نے بھی یہ تصویر، کھینچی لاجواب کھینچی ، تصویر انسانی احساسات کی مکمل عکاسی کرتی ہے ۔ جو کسی بھی انسان کو اپنی اولاد کو خوش دیکھ کر کرتی ہے ۔ وہ اپنے خوشی کے اِس لمحے کو اپنی آنکھوں سے ذہن میں مقید کر لیتا ہے ۔ دوسروں کو  نہیں بتا سکتا ،  یہ تصویر دیکھنے والے کے ذہن مختلف احساسات پیدا کرتی ہے  ۔
یہ تصویر ایک فیس بُک دوست کے توسّط سے ، میری وال پر آئی ۔ اِس تصویر کو دیکھا ۔پوسٹ اور اِس پر دوستوں  کے کمنٹ پڑھے  آپ بھی پڑھیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 جانے کیوں اس شاہکار تصویر کو دیکھ کر  آنکھیں بھیگ سی گئی ہیں !
کاش یہ دستور ہوتا ،
کہ کسی کا باپ نہ کبھی کسی سے جدا ہوتا
ــــــــــ!

( باغی )
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دوسرے دوست  کا کمنٹ :
 کاش اللہ پاک ہر کسی کی کو اتنا دیتا کہ وہ بھی دوسروں جیسا کر سکتا۔ غریب کی خوشی یہی ہے کہ بچے کو سائیکل پر بٹھا کر اس کی تصویر لے رہا ہے کہ کل بڑا ہوگا تو اس کو دکھا سکے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

میرے کمنٹ : 
 باغی جی: کس کے باغی ہیں ؟
1- قانونِ قدرت کے ؟
2- انسانیت کے ۔ ؟
یاد رکھیں کہ ، اللہ بغاوت کو پسند نہیں کرتا !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کمنٹ پوسٹ کرکے میں اگلی پوسٹ پر چلا گیا ۔ لیکن پھر خیال آیا ۔ کہ  باغی دوست سوچے گا ، کہ یہ بڈھا  ہمیشہ مخالفت پر کیوں کمر بستہ رہتا ہے ؟

بجائے ، کہ اِس پوسٹ کو لائیک کرتا اور امدادی کمنٹ دیتا  الٹا سوال پوچھ لیا -
قارئین ، مسرت ، دکھ ، مزاح ، طنز ا،نصیحت اور یادیں ، فیس بُک کی کسی بھی پوسٹ کا خاصہ ہوتی ہیں ۔ 
معلوم نہیں کہ یہ تصویر ، تصویر کے اِس کردار سے تعلق رکھنے والے نے لی ہو ، لیکن زیادہ گمان غالب ہے  کہ یہ  لمحہ کسی گذرنے والے نے  اپنے  کیمرے کی آنکھ میں سمو دیا  اور یہ فیس بُک پر نشر ہوگئی ۔
لیکن ایک بات یاد رہے ، باپ کے موبائل سے کھینچی گئی اِس تصویر کی اِس بچے کے لئے بس اتنی  اہمیت ہے کہ اب وہ اپنے باپ کے ساتھ پیدل یا اُس کی گود میں نہیں بلکہ سائیکل پر سفر کرے گا  ۔
بچہ جب بڑا ہو کر اپنی موٹر سائیکل لے گا تو اُس پر بیٹھنے والا ، یہ بوڑھا اپنے دماغ کی البم سے یہ مدھم تصویر لے آئے گا ،
اُس وقت اِس نوجوان کی خوشی ، اپنی خریدی ہوئی سائیکل پر پہلی بار اپنے بیٹے کو بٹھانے سے کہیں ہزار گنا زیادہ ہوگی ، اور وہ اللہ کا شکر ادا کرے گا کہ اُس نے ، اپنے بیٹے کو " قانونِ قدرت یا انسانیت " کا باغی نہیں بنایا ۔ بلکہ
ایک محبت کرنے والا محنتی انسان بنایا ۔ !
میں جب اِس تصویر کو دیکھتا ہوں ، تو میرے ماضی کے دریچے کھل جاتے ہیں ، جس میں میری وہ تمام معلوم یادیں ہیں جن کی جھلک مجھے اپنے والد کی آنکھوں میں نظر آتی ہے ۔ جن سے بغاوت نہیں  بلکہ  ہمت اور محنت  کی لہریں نکلتی تھیں ۔
جن میں  یہ سبق  کبھی نہیں ہوتا،
" یہ اُس کے پاس ہے میرے پاس کیوں نہیں ! میں بھی تو اللہ کا تخلیق کردہ ایک انسان ہوں"
بلکہ یہ سبق ہوتا ،
" محنت کرو ، محنت ! دوسروں کے محل کو دیکھ کر غصے میں اپنی جھونپڑی کو آگ مت لگا دینا "
 لیکن ، اب اِس عمر میں میں فیس بُک پر ایک لَغو  اور فسادی غزل کے   اِس شعر کے فہم کو پھیلانے  والے فرستاداؤں کو دیکھ رہا ہوں  !
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہوروزی
اُس کھیت کے ہر خوشہءِ گندم کو جلا دو

اب مجھے نہیں معلوم  ، کہ یہ شعر   لوگ کِن معنوں میں لیتے ہیں ۔ لیکن میں اِس شعر  کے لفظ " جلادو " کے فہم کو ہمیشہ ، مثبت انداز میں سمجھا !

جس کی بنیاد اللہ کا یہ پیغام ہے، کہ ہر خوشہءِ    اپنے جیسے کئی خُوشوں کو جَلا دیتا ہے  :


 مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِّئَةُ حَبَّةٍ وَاللّهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ  ﴿2:260
 


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔