میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 27 ستمبر، 2017

مسلمان سارے کافرہیں !



انڈیا پاکستان کی تقسیم سے پہلے پنجاب کے دل لاہور سے” پرتاب” نام کا ایک اخبار نکلا کرتا تھا ! جو کہ پرتاب نام کے ایک ہندو کا تھا ! وہی اس کا مالک بھی تھا اور چیف ایڈیٹر بھی !
ایک دن پرتاب  اخبار  میں  سُرخی لگی !



مسلمان سارے کافرہیں !
لاہور میں تہلکہ مچ گیا ،پرتاب کے دفتر کے باہر لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ جو مرنے مارنے پر تیار تھا، نقصِ امن کے خطرے کے پیش نظر انگریز کمشنر نے پولیس طلب کر لی ! مجمعے کو یقین دلایا گیا کہ انصاف ہو گا اور مجرم کو قرار واقعی سزا دی جائے گی !
تمام مکاتب فکر کی مشترکہ کمیٹی کے پچاس آدمیوں کی مدعیت میں پرچا کٹوا دیا گیا
!
چالان پیش کیا گیا اور مجسٹریٹ نے جو کہ انگریزہی تھا ،پرتاب سے پوچھا،
" یہ اخبار آپ کا ہے ؟"
پرتاب   :"می لارڈ ،  میراہے ! "

 مجسٹریٹ: " اس میں جو یہ خبر چھپی ہے کہ مسلمان سارے کافر ہیں آپ کے علم اور اجازت سے چھپی ہے  ؟"
پرتاب : " می لارڈ !
میں ہی اس اخبار کا مالک اور چیف ایڈیٹر ہوں۔  میرے علم و اجازت کے بغیر  کوئی خبر کیسے چھپ سکتی ہے ؟

مجسٹریٹ:
"آپ اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہیں؟ "

 پرتاب   : " می لارڈ !    جب یہ جرم ہے ہی نہیں تو میں اس کا اعتراف کیسے کر سکتا ہوں!
مجسٹریٹ:"آپ کے خلاف ، پچاس مسلمانوں نے درخواست دی ہے ، کہ آپ نے اُن کی توہین کی ہے اور اُنہیں  اپنے اخبار  میں کافر  لکھا ہے " 
پرتاب  : " می لارڈ ! مجھے تو خود مسلمانوں نے ہی بتایا ہے جو میں نے چھاپ دیا ہے ! "
مجسٹریٹ : " اُن سب کے نام بتائیں "

پرتاب  : " می لارڈ، سورج کی پہلی کرن نکلنے سے پہلے ، اپنی رسومات کے بعد برگد کے پاس قبرستان کے نزدیک  بنی ہوئی مسجد سے اعلان ہوتا ہے  
، کہ  سامنے میدان کے نزدیک  والی مسجد  میں جانے والے  کافر ہیں"
 
مجسٹریٹ:  " ہوں "
  پرتاب : " می لارڈ، میدا ن والی مسجد سے   ظہر کے بعد اعلان ہوتا ہے، برگد  کے نزدیک جو مسجد ہے وہ کافروں نے بنائی ہے ، اُس میں جانے والا ہر فرد  کافر ہے۔ بلکہ  بازاروالی مسجد  والے بھی کافر ہیں اور ماتم کرنے والے بھی کافروں میں شمار ہوتے ہیں "
 مجسٹریٹ:  " ہوں "  
پرتاب : " می لارڈ،  مغرب کے بعد   بازار والی مسجد کے اردگرد رہنے والے لوگ جس میں ہندو بھی ہیں کرسٹان  بھی بُدھ بھی ہیں اور سکھ بھی سب کو یہ یقین دلایا گیا ہے  کہ اِس مسجد میں نماز پڑھنے والوں کے علاوہ سب کافر ہیں اور جہنمی ہیں ۔   میں چونکہ بازار والی مسجد کے پاس رہتا ہوں اور پانچوں وقت جب لاوڈ سپیکر کھلتا ہے  ، دلیلوں کے ساتھ یہ سننے کے بعد قائل ہو گیا کہ ، مسلمان واقعی کافر ہیں اور مجھے یقین ہے کہ عدالت بھی یقین کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔
مجسٹریٹ: " عدالت بیان نہیں ، ثبوت مانگتی ہے ۔ کیا آپ اِس کا ثبوت پیش کر سکتے ہیں ؟" 
پرتاب  : " می لارڈ !   بس اگلی تاریخ پر قبرستان والی مسجد ، میدان والی مسجد ، بازار والی مسجد اور ماتم کرنے والی مسجد  کے مولوی صاحبان کو بلا لیا جائےاور اُن سے  پوچھا جائے کہ وہ دوسری مسجد میں نماز پڑھنے والوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں ؟     اور جن 50 آدمیوں کی مدعیت میں پرچا کاٹا گیا ھے انہیں بھی اگلی پیشی پہ بلا لیا جائے تو معاملہ ایک ہی تاریخ میں حل ہو جائے گا !
مجسٹریٹ نے حکم دیا ، " اگلی پیشی پر  سب کو پیش کیا جائے" ۔ 
اگلی پیشی شروع ہوئی ، عدالت کے کمرے میں  ، 50 مدعیان اور چار  مسجدوں کے مولوی صاحبان ، حاضر تھے ۔ مجسٹریٹ صاحب بہادر عدالت میں داخل ہوئے ، سب نے تعظیم دی ، مجسٹریٹ صاحب بہادر اپنی  نشت پر بیٹھے -
مقدمے کی تفصیل سب کو معلوم  تھی  لہذا کمرہءِ عدالت کے باہر ہجوم تھا - جو احاطہءِ عدالت کے باہر تھا ۔
نقصِ امن کے خطرے کے پیش نظر انگریز کمشنر نے پولیس طلب کر لی  کہ کہیں کوئی سر پھرا ، پرتاب بابو کو قتل نہ کردے  کیوں کہ  24 ستمبر  1928ءکو کوچہ چابک سواراں( سرفروشاں ) لاہور  کے رہنے والے ، ایک نوجوان غازی  علم دین نے راج پال کو قتل کیا ۔ 
عدالت  کی کاروائی شروع ہوئی تو   پرتاب بابو  نے  مجسٹریٹ سے درخواست کی ،

 پرتاب  : " می لارڈ !  یہاں  قبرستان والی مسجد ، میدان والی مسجد ، بازار والی مسجد اور ماتم کرنے والی مسجد  کے مولوی صاحبان   حاضر ہیں ، درخواست ہے کہ ، قبرستان والی مسجد کے مولوی صاحب  کے علاوہ باقی مولوی صاحبان کو ،جب تک قبرستان والی مسجدکا بیان نہیں ہوجاتا  باہر بھیجا جائے اور باری باری سب کو بلایا جائے  اور بیان کے بعد  کمرہءِ عدالت سے باہر بھجوادیا جائے "۔
مجسٹریٹ نے سب کو باہر جانے کا کہا، تینوں   مسجد کے مولوی حضرات  منہ بناتے ہوئے باہر چلے گئے اور
  قبرستان والی مسجد کے مولوی صاحب کٹہرے میں آئے، یہ بریلویوں کی مسجد تھی -
  بریلوی مولوی سے قرآن پر حلف لیا گیا ،جس کے بعد پرتاب نے  مجسٹریٹ  سے مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔
 پرتاب  :   می لارڈ !مولوی صاحب سے پوچھا جائے کہ قرآن ، حدیث اور فقہہ کی روشنی میں، کیا وہ  اہلِ حدیث ، دیوبندیوں اور شیعاؤں کو  اپنے جیسا مسلمان سمجھتے ہیں ؟
 مجسٹریٹ نے  ،کٹہرے کی طرف دیکھتے ہوئے  کہا: " پرتاب کے سوال کا جواب دیا جائے !"
قبرستان والی مسجد کے مولوی صاحب نے کھنکار کر گلہ صاف کرتے ہوئے کہا ،" جناب پرتاب بابو نے بڑا آسان سوال پوچھا ہے ، جس کا جواب تو کوئی بھی مسلمان دے سکتا ہے "
 مجسٹریٹ: "ٹھیک ہے آپ اپنا جواب بتائیے !"
 قبرستان والی مسجد کا مولوی: " جناب ، اہلِ حدیث ،  دیو بندی اور شیعا ً، کتاب و سنت و احادیث اور ہمارے اکابرین  کے افکار کے مطابق ، توھینِ رسالت کے مرتکب اور بدترین کافر ہیں ! پھر اس نے  آدھے گھنٹے تک ، دیوبندیوں اور اھلِ حدیثوں  اور شیعاؤں کے بزرگوں کے اقوال کا حوالہ دیا اور چند احادیث اور آیات   اور اپنے اکابرین سے ان کو کافر ثابت  کیا ۔
پرتاب  :می لارڈ! میدان والی مسجد کے مولوی صاحب کا بیان لیا جائے ۔

مجسٹریٹ نے اپنے ریڈر کو کہا ، " میدان والی مسجد کے مولوی صاحب کو بلایا جائے  " پھر  قبرستان والی مسجد کے مولوی صاحب کو ریڈر نے کمرہءِ  عدالت سے باہر انتظار کرنے کا کہا ،   وہ مجسٹریٹ صاحب کو سلام کرکے باہر چلے گئے ۔ 
آواز لگی  میدان والی مسجد کے مولوی صاحب، کٹہرے میں  آئے ، یہ  اھلِ حدیث  کی مسجد تھی  -
 اھلِ حدیث  مولوی سے قرآن پر حلف لیا گیا ،جس کے بعد پرتاب نے  مجسٹریٹ  سے مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔
 پرتاب  :   می لارڈ !مولوی صاحب سے پوچھا جائے کہ قرآن ، حدیث اور فقہہ کی روشنی میں، کیا وہ  بریلویوں ، دیوبندیوں اور شیعاؤں کو  اپنے جیسا مسلمان سمجھتے ہیں ؟  
مجسٹریٹ نے  ،کٹہرے کی طرف دیکھتے ہوئے  کہا: " پرتاب کے سوال کا جواب دیا جائے !"
میدان  والی مسجد کا مولوی: " جناب ،کتاب و سنت، صحابہ کرام اجمعین  اور سلفِ صالحین کے مطابق یہ کافر ہیں اور روزِ قیامت محمدﷺ کی شفاعت سے محروم رہیں گے ۔
 پرتاب  :می لارڈ! بازار  والی مسجد کے مولوی صاحب کا بیان لیا جائے ۔
مجسٹریٹ:  "بازار والی مسجد کے مولوی صاحب کو بلایا جائے  "
ریڈر  نے آواز لگائی  اور میدان والی مسجد کے مولوی صاحب   
کو ریڈر نے کمرہءِ  عدالت سے باہر انتظار کرنے کا کہا ،   وہ مجسٹریٹ صاحب کو سلام کرکے باہر چلے گئے ۔
آواز لگی  بازاروالی مسجد کے مولوی صاحب، کٹہرے میں  آئے ، یہ دیوبندیوں کی مسجد تھی ، 
دیوبندی   مولوی سے قرآن پر حلف لیا گیا ،جس کے بعد پرتاب نے  مجسٹریٹ  سے مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔
 پرتاب  :   می لارڈ !مولوی صاحب سے پوچھا جائے کہ قرآن ، حدیث اور فقہہ کی روشنی میں، کیا وہ  بریلویوں ، دیوبندیوں اور شیعاؤں کو  اپنے جیسا مسلمان سمجھتے ہیں ؟
  مجسٹریٹ نے  ،کٹہرے کی طرف دیکھتے ہوئے  کہا: " پرتاب کے سوال کا جواب دیا جائے !"
  بازار  والی مسجد کا مولوی: " جناب ،احادیث  ، قران مجید ، کتاب و سنت، فقہا کرام  ، اجماع ِ امّت  اورہمارے جملہ اکابرین مرحوم و مغفور  کے تدبّر و فہم کے مطابق ،    بریلوی ، اہلِ حدیث  اور اہلِ تشیع  اور دیگر فرقوں کے لوگوں کو بلا تخصیص کافر کہا جاسکتا ہے ۔ہاں اگر یہ رجوع کر لیں ، تو اللہ غفور اور رحیم ہے  وہ یقیناً معاف کر دے گا ۔
 پرتاب  :می لارڈ! ماتم   والی مسجد کے مولوی صاحب کا بیان لیا جائے ۔
مجسٹریٹ:  "ماتم والی مسجد کے مولوی صاحب کو بلایا جائے  "
ریڈر  نے آواز لگائی  اوربازار والی مسجد کے مولوی صاحب 
کو ریڈر نے کمرہءِ  عدالت سے باہر انتظار کرنے کا کہا ،  وہ مجسٹریٹ صاحب کو سلام کرکے باہر چلے گئے ۔ 
آواز لگی  ماتم والی مسجد کے مولوی صاحب، کٹہرے میں  آئے ، یہ شیعاؤں  کی مسجد تھی ، 
شیعاً   مولوی سے قرآن پر حلف لیا گیا ،جس کے بعد پرتاب نے  مجسٹریٹ  سے مخاطب کرتے ہوئے کہا ۔
 پرتاب  :   می لارڈ !مولوی صاحب سے پوچھا جائے کہ قرآن ، حدیث اور فقہہ کی روشنی میں، کیا وہ  بریلویوں ، دیوبندیوں اور اہلِ حدیث  کو  اپنے جیسا مسلمان سمجھتے ہیں ؟
  مجسٹریٹ نے  ،کٹہرے کی طرف دیکھتے ہوئے  کہا: " پرتاب کے سوال کا جواب دیا جائے !"
شیعاؤںوالی مسجد کا مولوی: "جناب  ، ہم مکمل  کلمہءِ شہادت پر ایمان نہ رکھنے والوں  اور مشکل کشا ، حاجت روا ،علم کا دروازہ ، فاتح خیبر ، پدرِ شہیدان ِ کربلا ، دامادِ محمد مصطفیٰ  ،  مولا علی کو ولائت  اور خلافتِ الہی کا حقدار نہیں سمجھتے  وہ  مسلمان نہیں  بلکہ یزیدی اُمّت ہیں -
بیان ختم ہونے کے بعد   ریڈر نے ماتم والی مسجد کے مولوی صاحب، کوکمرہءِ  عدالت سے باہر انتظار کرنے کا کہا    ، وہ مجسٹریٹ صاحب کو سلام کرکے باہر چلے گئے ۔

 پرتاب  : یور آنر ! آپ نے خود سن لیا کہ یہ سب ایک دوسرے کو کافر سمجھتے اور ببانگ دہل اپنے علاوہ سب کو کافر بھی کہتےہوئے  عدالت سے نکل   گئے ہیں ،اب عدالت میں جو لوگ بچےہیں ان میں سے مدعیوں کے وکیل صاحب بھی ان چاروں فرقوں  بھی اُنہی کے فرقے سے تعلق کرتے ہیں  ، لہذا یہ بھی کافروں میں سے  ہیں !
یور آنر  ! اب باقی جو مسلمان بچا  ہے ، اسے طلب کر لیجئے تا کہ کیس آگے چلے۔
!

 مجسٹریٹ نے  کیس خارج کر دیا اور........
پرتاب  بابوکو بَری کر دیا اور پرتاب اخبار کو دوبارہ بحال کر دیا-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


آج صبح وٹس ایپ کھولا ، تو یہ "فرضی  کہانی" موجود تھی ، میں نے بطور پوسٹ ماسٹر ، تمام گروپس کو پوسٹ کر دی ، کیوں کہ" نقل کُفر ، کُفر نا باشد"    پھر خیال آیا کہ کیوں نہ اِسے بلاگ میں   دلچسپ بنا کر  شائع کیا جائے  ۔ لیکن تحقیق ضروری تھی ۔


 کہانی فرضی اِس لئے کہ   لاہور سے" پرتاب " نامی اخبار کی اشاعت نہیں  ہوتی تھی ، یہ اخبار   اتر پردیش کے شہر ، کان پور    سے پرتاپ کے نام سے    (1913 تا 1931) نکلا کرتا تھا ۔  گنیش ودیارتھی  عرف پرتاپ بابو  (1890 تا 1931)  اِس کا مالک اور چیف ایڈیٹر تھا   ۔




خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔