میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار, ستمبر 3, 2017

نوکری اور نخرہ



 وہ آج بھی معمول کے مطابق صبح سات بجے آفس میں تھا کئی میٹنگ کرنی تھی ۔ بینک معاملات بھی دیکھنے تھے. کئی پروجیکٹ چل رہے تھے اُن پر بھی توجہ دینا تھی  ۔ شام  کو   صاحب امریکا سے پہنچ رہے تھے اُن کے پہنچنے سے پہلے سارے کام نمٹانے تھے  اکثر گھنٹے کا  لنچ ٹائم بھی  آفس ہی میں گذارتا تھا ،   کبھی جب کام نہ ہوتو وہ  لنچ کرنے نزدیک کے ہوٹل چلا جاتا ، آج تو سوال ہی پیدا نہیں ہونا تھا ،   کیونکہ صاحب آرہے ہیں ، کھڑکی سے باہر دیکھا  سورج  غروب ہوچکا تھا  ، اُس نے چیک لسٹ پر نظر ڈالی ،  وہ تمام کام مکمل کرنے کے بعد مطمئن بیٹھا تھا کہ آج تو صاحب خوش ہوگا اور  شاباشی  دے گا  ۔اُس نے کرسی سے ٹیک لگائی اور آنکھیں موند لیں،  
" تمہارے جیسا غیر ذمہ دار انسان میں زندگی میں نہیں دیکھا " شور سن کر وہ ہڑبڑا کر اُٹھا ،   سامنے صاحب غصے میں اُبل رہا تھا ، وہ یک دم کھڑا ہوا ۔"  جی سر ! " آپ خیریت سے پہنچ گئے !" وہ بولا ،
"
تم جانتے ہو یہاں کتنا ٹریفک جام ہوتا ہے تمیں گاڑی تین گھنٹے پہلے ائیرپورٹ کے لیے روانہ کرنی چاہیے تھی"  جی جی  سر"  وہ بوکھلا کر بولا ، جی سر  کھڑا تھا ،  اُسے معلوم تھا   کہ   چاہے جتنی بھی محنت کرلو صاحب کے منہ سے کبھی تعریف کے دو بول نہیں نکلتے ۔ ہاں اگر کبھی کوئی غلطی ہوجائے تب فوراً اُس پر باتیں سنانے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، اور غلطی ہو چکی تھی  ، اُس نے فلائیٹ سے گھنٹہ پہلے ڈرائیور  کو فون نہیں کیا  ک، کیوں کہ آنکھ لگ گئی ، اب ڈرائیور نے خداجانے ، اُس پر کیا الزام ڈالا، حالانکہ کے چار بجے ، اُس نے ڈرائیور کو ب بچوں کو سکول سے واپس گھر چھوڑ کر آنے کے بعد  ، فلائیٹ کا ٹائم اور اُس سے گھنٹہ پہلے جانے کا کہا تھا ، راستہ صرف بیس منٹ کا ہے ، رش ہو جائے تو   زیادہ سے زیادہ بیس منٹ اور لگ جائیں گے   " دھیان کہاں رہتا ہے تمہارا ، کوئی کام ڈھنگ سے نہیں کرتے،  کام نہیں کرنا تو جاؤ پھر معلوم ہوگا کہ  باہر کتنی بے روزگاری ہے؟"۔
ایسے میں
  بندہ سوچتا ہے کہ زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سماجاؤں !
  اِس شخص کی خدمت کرنے،  کلائینٹ کی صورت میں ،اس کی مصیبتیں اپنے سر لینے  اور اِس کے کاروبار کو ترقی دینے کے لیے میں نے اپنی زندگی کے بیس تیس سال برباد کردئیے یہ بندہ بجائے میری خدمات کا اعتراف کرنے   کے بجائے مجھے ذلیل کرنے کا  کوئی موقع اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتا؛
اگر اِس سے اچھی نوکری  ، اِسی تنخواہ  پر مل جائے تو میں اِسی وقت  اِس کی نوکری پر لات مار دوں ،  اس نا  شکرے کی نوکری جسے انسانوں کی قدر نہیں  ۔
لیکن دوسرے دن  جب صاحب  کارویہ تبدیل ہو چکا ہوتا ہے  کیوں کہ سامنے کام پڑے ہوتے ہیں ، اور اُسے کل کی جھاڑ بھی یاد ہوتی ہے ،
" واہ نوجوان ، کیا زبردست پراجیکٹ کی   میٹنگ کے پوائینٹ   تھے، میں نے جب کلائینٹ کے سامنے پیش کئے تو اُس نے ڈیل فائینل کر دی ، مزہ آگیا "  ۔  اب وہ سوچتا ہے مزہ تو صاحب کو آیا  ، " اچھا ایسا کروہ    فلاں پراجیکٹ ہے اُس  کو تیار کر لو  ، اور کمپنی سے میٹنگ اگلے ہفتے کی رکھو اور ہاں سستی نہیں کرنا  ، چلو اب شروع ہو جاؤ " اور انٹر کام خاموش ہوجاتا ہے ۔
ملازم سوچتا ہے ، کہ یہ صاحب لوگ  تعریف کرنے میں اتنے کنجوس کیوں ہوتے ہیں؟  منہ سے کیوں نہیں کہتے ، تمھاراکام شاندار تھا ، تم نے خوب محنت کی ، تمھاری وجہ سے کمپنی     نے اپنی ساکھ بنائی ،   لیکن نا ۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا   - باس  کو  معلوم ہوتا ہے کہ اچھا ملازم  وہ ہوتا ہے جو برسوں کام کرتے کرتے  باس کی بات کو آسانی سے سمجھ  جاتا   ، باس کا اور اُس کا اتنا  مضبوط رشتہ ہو جاتا ہے ، کہ کوئی اور ملازم  ویسا کام کر ہی نہیں سکتا  ، لہذا  " چھڑی اور گاجر"   کا چولی اور دامن کا ساتھ ہوتا ہے ۔ چھڑی کی لمبائی ، موٹائی  اور گرفت کے  انداز کا میعار ، گاجر  کے سائز   ، رنگ اور تازگی  کے ساتھ ہوتا ہے ۔    عقلمند  باس   گاجر کو تر و تازہ رکھتا ہے ، کبھی  بونس کی صورت میں ، کبھی کسی اچھے ہوٹل میں کھانا کھلا کر  اور کبھی تنخواہ میں اضافہ کر کے  جس کی وجہ سے  ملازم کے جسم کے چاروں طرف روئی کے   ایک نمدے کا غیر مرئی حصار بن جاتا ہے لہذا لکڑی کی چوٹ کا اثر کم ہوتا ہے ، بلکہ اُسے گدگدی سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ۔ اور ایسی نوکری میں نخرہ کم ہوتا ہے ۔ نوکری میں نخرے کی ابتداء اُس وقت ہوتی ہے جب ملازم کی مارکیٹِ استعمال کی قدر بڑھ جاتی ہے اور اُس کی ملازمانہ خوبیوں کے باعث  دیگر دروازے کھل جاتے ہیں  ۔  
لیکن جس وقت مالک جل بھن کر  سنارہا ہوتا ہے اُس وقت ملازم کےتین  ردعمل ہوسکتے ہیں ۔ایک تو عام  ردعمل، جیسے، جی جی ، بالکل کوشش  کرونگا کہ  مزید بہتری لاؤ ں  ، دراصل تھوڑی پریشانی ہے ، بچے کی فیسوں کہ وجہ سے یا  والدہ ہسپتال میں ہیں  ، گذارا ہو رہا تھا مگر اب تھوڑی تنگی ہو گئی ہے - آپ نے دیکھا کہ اِس پریشانی سے پہلے میرا کام کتنا بہتر تھا ، فلاں فلاں ڈیل کتنی آسانی سے ہو گئی ۔  آپ کو یاد ہو گا کہ فلاں صاحب نے  پراجیکٹ کی پریزنٹیشن کی کتنی تعریف کی تھی ۔  بس چھوٹے چھوٹے مسائل ہیں جو یکسوئی پیدا ہونے نہیں دیتے ۔  
  دوسرا ردعمل شدید اور فیصلہ کن ہوسکتا ، "   یہ میرا استغفیٰ ، میں کل سے نہیں آؤں گا ، میری   ایک ماہ کی تنخواہ آپ کے پاس بطورِ  سکیورٹی ہے وہ کاٹ لیں - اللہ حافظ " اور باس کو ہکا بکا چھوڑ کر دوسرے آفس میں پہنچ کر جائیننگ دے  دی جاتی  ہے ۔  جس کے لئے شرط  یہ رکھی جاتی ہے ، کہ   ایک تنخواہ ایڈوانس میں قرض دی جائے گی۔
تیسرا   ردِ عمل نہایت شدید نوعیت کا ہوتا ہے ،  " ج 
ابے چل بے ۔۔۔ اوئے تیرے باپ کا نوکر نہیں ہوں، پیسے  آٹھ گھنٹے کے دیتا ہے اور کام بارہ بلکہ اٹھارہ گھنٹے تک کا لیتا ہے ، اور شور الگ کرتا    ہے کہ  نکال دوں گا ، نکال دوں گا  ، جارہا ہوں تیری نوکری چھوڑ کر، کبھی  نوکری میں نخرہ نہیں کہا  ، روپے میں بتیس آنے کام کیا ، جا رہا ہوں ،  میرے لیے کام بڑا اور تیرے لئے نوکر بڑے " لیکن یہ ردعمل وہ کرتے ہیں ، کہ جنہیں معلوم ہے کہ مہینے بعد باس ، اُس کے   گھر پر ہوگا ۔ اور  جن کے اکاؤنٹ میں تین سے چار مہینے کا گھر خرچ موجود ہو ۔
لیکن مجبور ملازم، کہیں نہیں جاسکتا ، اُسے معلوم ہوتا ہے  کہ پتھر اپنی جگہ پر ہی بھاری ہوتا ، کسی اور جگہ نہ جانے کیسے حالات ہوں ، چنانچہ  وہ سر نیہوڑائے کولہو کے بیل کی طرح اپنا کام جارے رکھتا ہے لیکن اِس کے باوجود    ، تعریف کے دو بول سننے کو اُس کے کان ترستے رہتے ہیں ۔  کہ صاحب اعتراف کرلے کہ میں نے اُس کے مسائل کو اپنا سمجھا ،اُس کی ساری لڑائیاں اپنی سمجھ کر لڑی ، وہ مانے تو سہی ہم نے اُس کے فلاں فلاں علاقوں میں جاری پروجیکٹ کو تکمیل تک پہنچایا ۔ وہ مانے تو سہی ہم نے وفاداری کی ہے ۔ بجائے وہ ہماری خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے ہمیں عزت دیتا، وہ تو اُلٹا ہمیں دیئے  پیسوں کا طعنہ دیتا ہے ۔ میں تمہیں  تنخواہ دیتا ہوں فری میں کام نہیں لیتا ۔ کام کروگے تو تمارا ہی فائدہ ہے،  نہیں کروگے تو تمارا نقصان ہوگا ۔
نہ معلوم  یہ آقاؤں کی فطرت میں ہے  یا پھر ان کی تربیت کا حصہ ہوتا ہے کہ ملازمین کے کام سے مطمئن ہوتے ہوئے بھی انہیں  ایسا محسوس کرواؤ جیسے آپ اُن کے کام سے مطمئن نہیں ہیں. کوئی نہ کوئی نقص نکالو ۔ سیدھے منہ بات نہ کرو اپنے سامنے بیٹھنے نہ دو ۔ کم کم حسب ضرورت مسکراؤ تاکہ وہ آپ کی مسکراہٹ پانے کے لیے اور بہتر کارکردگی دکھائیں.  ۔ آپ کی خاطر اپنے گھر میں بھی آگ لگا لیں گے ۔
وسطی ایشیاء میں اپنے پاؤں کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے  میں ، ہم نے روس  کے تلووں میں کانٹےچبھونےمیں امریکا کی مدد کی ،  کیوں کہ دو برائیوں  سوشل ازم     اور کیپیٹل ازم میں ، ہم نے   کیپیٹل ازم کی مدد کی ، پھر افغان ازم  اور کیپیٹل ازم  میں  ہم نے کیپیٹل ازم  میں پھیلاؤ کے لئے ، امریکا بہادر کو مطمئن کرنے کے لیے کیا نہیں کیا ۔تاکہ اُس کیپیٹل ازم  سے آنے والی ہواؤں کے ساتھ پھواروں سے ہم بھی مستفید ہوں ، لیکن یہ پھواریں    ثمر بار آور نہ تھیں بلکہ  بارودی بوچھاڑیں تھیں ، جن سے ہمارا ملک جلنے لگا ۔ ہمارے لوگ ، عورتیں اور بچے مرنے لگے،  پچاس سے 60 ہزار فوجی اور سویلین پاکستانی امریکہ بہادر کو مطمئن کرنے کے لیے افغان ازم  اور کیپیٹل ازم اس جنگ میں اپنی جانوں سے گئے ۔ لیکن  ہمارا تاریخی جبر سے بنایا  گیا ،   باس امریکہ بہادر کے نخرے نہیں سنبھالے جارہے ۔ کہتا ہے اربوں ڈالر دیے ہیں لیکن کام میری پسند کے مطابق نہیں ہوا ، بہتری لاؤ۔  ورنہ ہمارے لئے ملازم بہت لیکن تمھارے لئے نوکری نہیں ۔ امریکہ کے نئے صدر  ، نے کفن چور کے بیٹے کا کردار سنبھال لیا ہے ، اُس کا  حالیہ پالیسی بیان اور کے ردعمل میں  حکومتی ادارے   کا ملازمانہ بیان  " ہمیں پیسہ نہیں چاہیے ۔ بس آپ ہماری خدمات کا اعتراف کرلیں ۔۔۔"   غوری نامہ

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔