میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 9 ستمبر، 2017

عورت - شیعہ یا احمدی غلط تصوّر



 شام غریباں۔ شام غریباں محرم 10 کو نہایت عقیدت و احترام سے منائی جاتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن اس مقدس و محترم تقریب کو چند بنی امیہ کے محبان اور بدبخت بہت گھٹیا انداز میں غلط کہتے ہیں۔ اور اس مجلس کو بدکاری کا اہتمام کہتے ہیں۔ اور اس کی وجہ محض یہ ہے کہ محبان اہل امیہ خوف زدہ ہیں۔ اس عقیدت و محبت سے جو عالم اسلام کی ایک بڑھی اکثریت رسول ﷺ  و خانوادہ رسولﷺ سے رکھتی ہے۔۔ ۔ ۔  !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 میں نے 1969 میں دو شامِ غریباں ، اٹینڈ کی ہیں ، وہاں میں نے ایسا کچھ نہیں دیکھا ۔ اور نہ ہی ایسا سنا ۔ پہلے اشارے کنایوں میں تبّرا  کرتے تھے اب بھی کرتے ہیں ۔
"جس نے حق چھینا " یا " جس نے دروازے کو آگ  لگائی اور سیّدہ کو دھکا دیا "یا " وہ جس سے دفنانے کا حق چھینا "۔
" اُن  کو اُس پر فوقیت کیسے دی جا سکتی ہے ، جسے الذوالفقار دی ،جس نے ظالمو خیبر کا دروازہ اکھیڑ ڈالا ۔ جس کو خود کملی والے نے اپنے کندھوں پر کھڑا کر کے اُس کا قد عالمین ِ صحابہ میں یہ کہہ کر بلند کیا کہ وہ مجھ سے اور میں اُس سے ۔ اِن کا خیال رکھنا  "  وغیرہ وغیرہ ۔
ہاں کوئٹہ میں ایک جملہ شیعوں  لڑکوں کو چھیڑنے کے لئے بولا جاتا ہے ۔
" گز بہ کُس کُن "
وجہ تسمیہ یہ ہے کہ وہاں مشہور تھا کہ :
" شیعاً اپنے مردے کی  بڑی آنت سے غلاظت دفنانے سے پہلے گز کےذریعے نکال دیتے ہیں تاکہ وہ پاک دفن ہو "
دوسرا یہ کہ ۔
" شیعاً ، غیر شیعوں کو جو کچھ بھی کھانے کے لئے پیش کرتے ہیں ، اُس میں تھوک ڈالتے ہیں "
" خواتین کا استعمال برائے متع یا شادی "شیعوں اور احمدیوں سے بہت منسوب کیا جاتا تھا جس کی کوئی حقیقت نہیں ،
ہاں شیعاً یا احمدی بننے والوں ، کا اپنے فرقے میں واپس جانا ممکن نہ ہوتا اور نہ وہ اپنے فرقے میں شادی کرنا چاہتا ، لہذا اُس کا سٹیٹس دیکھ کر اُس کی شادی شیعاً یا احمدی فرقے کی کسی نیک دل خاتون سے  کر دی جاتی ۔  یہ ویسی شادی نہیں ہوتی ، جو   وقت کے ساتھ کمزور پڑ جاتی  یا والدین کی محبت اِس پر غالب آجاتی ، شہری بیوی الگ ہوتی اور یا دیہاتی الگ  ، لیکن بعد میں دیہاتی بیوی کے بچے اور شہری بیوی کے بچے خاص النسل سید بن جاتے ۔

اب یہ بات ، کہ شیعاً یا احمدی بنانے کے لئے دل لبھانے کو ، خواتین پیش کی جاتیں ۔ یہ صرف چند کیسوں میں ہوتا ، جہاں فرقہ تبدیل کرنے والے کو جلد اور لازماً اپنے فرقے میں شامل کروانا مقصودہوتا تھا  اور یہ طریقہ گریڈ 17 یا اِس سے اوپر کے فوجی آفیسروں یا  سول سرونٹ پر آزمایا جاتا ۔ جسے حاسد اور شرارتی لوگ ، عورت دے کر پھنسانا کا پروپیگنڈا کرتے ۔ یہ ایک ایسا نسخہ بہ ہدف تھا کہ بے شک مرد تبدیل نہ ہو لیکن اولاد لازمی ، احمدی یا شعیہ یا پھر متفقین میں شامل ہو جاتی ۔ کیوں کہ ماں کے مذہب کو کوئی بُرا نہیں کہتا ۔بس ، یہی وجہ ہے کہ نجیب الطرفین سیدوں ، شاہوں ، بخاریوں ، شیرازیوں ، علویوں  کے بر صغیر میں اضافے کی ۔ اگر اِن سب کا ڈی این اے  چیک کروایا جائے ۔ تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ! سب کو شرم سے منہ چھپانے پڑیں گے ! 

واحد کوئٹہ کہ ہزارہ برادری تھی کہ جو کوئٹہ کے رہنے والے ، اچھے عہدوں پر فائز گورنمنٹ ملازمین میں اپنی بیٹیوں کی شادی ، اپنی قوم کا قد بڑھانے اور پاکستان میں قدم جمانے کو دیتے ۔کوئٹہ آفیسر   رشتہ ءِ ازدواج کے لئے بہت مشہور تھا ۔ بلکہ بہت سے بنگالیوں کو تو وہ خوشی سے دیتے ، کیوں کہ بنگالیوں کو تو وہ اپنی بنگالنوں کے مقابلے میں جل پری دکھائی دیتیں ، 1970 میں یہ جل پریاں پاکستان میں رہ گئیں اور وہ بے چارے بیوی اور اولاد سے ہاتھ ملتے واپس اپنی بنگالنوں میں چلے گئے ۔یہی وجہ ہے ، کہ ایران میں دھتکارے ہوئے ۔ ہزارہ قوم کے لوگ ، اب بھی پاکستانی شہری آسانی سے بن جاتے ہیں۔

اگر عورتوں کے ذریعے مستقبل کی راہ اپنے فرقے یا قوم کے حق میں ہموارکرنے کی مفصّل داستان پڑھنی ہو تو ، التمش کی روزنامہ حکایت میں لکھے ہوئی " داستان ایمان فروشوں کی ضرور پڑھیں" جس کو بوڑھے نے 1980 میں سٹیشن لائبریری جہلم  سے لے کر پڑھی تھی اور دل میں خونی ابال اُٹھتا تھا ، کہ یہ کیسے مسلمان ہیں جو اپنے مذہب کو عورت کی خاطر اور وہ بھی کافر  کے لئے داؤ پر لگا دیتے ہیں !
عورت کو الزام دینا ، مردانگی نہیں ، ویسے سب سے بڑا حرامی مرد ہوتا ہے ، جو عورت کو شادی کا جھانسا دے کر ، اپنی ہوس کی آگ بجھاتا ہے ۔ اور اُس کے پیٹ میں اپنا گناہ پلنے دیتا ہے ۔ اور خود کو بچانے کے لئے ملائیت کا سہارا لیتا ہے ، کہ اللہ کہتا ہے کہ دوسروں کے (یعنی میرا)  عیب چھپاؤ، جب کہ اِس حرامی (زنا حرام ہے ) کا عیب  اُس عورت کو داغدار کر دیتا ۔ جس سے وہ شادی کا عہد کرتا ، رہی وہ عورتیں  جو تبدلِ ازواج متع میں دلچسپی رکھتی ہیں اُنہیں اِس سے کوئی غرض نہیں  ۔ کئی عورتوں نے اپنے پیٹ سے ہونے والی لڑکیوں کو انتقاماً ناجائز باپ کے حرم کی زینت بنایا   - کوئٹہ کا سورج گنج بازارکیا ، پاکستان کی ہر ہیرا منڈی  میں کالی شلوار پہننے والی  عورتوں کی ایسی کہانیوں   سے بھرا ہوا تھا۔یہ عورتیں شیعہ بھی تھیں اور غیر شیعہ بھی ۔  اِن کو راہ چلتے بھی دلاسا دینے والے مل جاتے اور شامِ غریباں میں بھی -  شامِ غریباں کا کیا کہیئے ، ہر وہ جلسہ جلوس ، جہاں وہ گھر والوں کو یہ بتا کر جاتی ہیں ۔ سہیلیوں کے ساتھ جا رہی ہوں اور  جلسہ ختم ہونے کے بعد واپس آ جائیں گی ۔
 کہا جاتا ہے کہ اگر ہندوستان کی طرح پاکستان میں بھی کچھ قوانین ختم ہو جائیں تو پارکنگ میں کھڑی ہر کا ر ، اچھل اچھل کر مشتاقانِ جلسہ و جلوس  کا راز اُگلنے لگیں  اور  کاروں کی سب سے زیادہ اچھل کود  نئے پاکستان کی نوید دینے والی پارٹی کا طرہءِ امتیاز بن جائے ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔