میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر, ستمبر 11, 2017

روح القدّس اور انسانی دنیا



ہر انسان کو اپنے مذہب کی ہدایت کے لئے انسانی لکھی ہوئی کتاب یا وہ کتاب جسے وہ الہامی سمجھتا ہے ، کو اچھا سمجھنے کا حق رکھتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ سب مذاہب کے لوگ اپنے اپنے مذہب پر اپنے رسولوں کی بتائی ہوئی ہدایات پر گامزن ہیں اور اپنے ، بھگوان، خدا یا اللہ سے اپنی درستگی کی التجائیں کرتے ہیں ۔ کسی کے پاس دوسرے مذہب کو یہ بتانے کے لئے کہ اُس کا مذہب اچھا ہے ، کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ۔ سوائے انسانی لکھی ہوئی کتابوں کے ، جن میں الہامی اصولوں کے ساتھ انسانی رویئے بھی درج ہیں ۔
واحد ٹھوس ثبوت جو ، انسانوں کو نظر آتا ہے وہ اُس مذہب کے ماننے والوں کا دوسرے انسانوں کی طرف انسانی رویہ ہے ۔ جو ایک آفاقی مذہب ہے ۔
دھونس ، دھمکی یا گالیوں سے کوئی بھی کسی کو راہ راست پر نہیں لا سکتا ، البتہ اُسے اپنا شدید مخالف ضرور بنا سکتا ہے -
بعض انسان ، جنہیں اُن گالیوں کا مکمل فہم ہوتا ہے جو دوسرے کی زُبان پر ہوتی ہیں ، لیکن جو جواب الجواب دینے کے بجائے ، کنّی کترانہ پسند کرتے ہیں ، جس سے مخالف یہ سمجھتا ہے ، کہ مخالف ڈر گیا ، گبھرا گیا جب کہ ایسا نہیں ہوتا ۔ ہاں مخالف  کی دشنام طرازی کے جواب میں لاجواب ضرور ہو جاتا ہے ۔کیوں ؟
انسان کے دو روپ ہیں   ۔  روپ ِ خیر اور روپِ شر   ۔ 
  " خیر و شر " کے مزید کئی روپ ہیں ، اور اِن دونوں   سے انسان بھی  کئی بہروپ  تبدیل کرتا ہے  جن کو وہ   دوسرے انسانوں کے سامنے دھارتا ہے ۔  میں اِ س کی مثال ، ماں کے روپ سے دوں گا ،کیوں کہ  روح القدس (  The purest entity ) نے  ایک ماں کو دنیا کی عورتوں میں ممتاز کرتے ہوئے ، انسانوں کو اُسے " مقدس ماں " (  The purest feminine mother entity )کے  روپ سے متعارف کرایا ہے - جس کے بیٹے کو دنیائے عالم سے ،نہ صرف  اپنی روح کہہ کر متعارف کروایا -بلکہ  روح القدس (  The purest entity )   سے اُسے سپورٹ بھی کیا  اور بیٹے کو ماں کا فرمانبردار بناتے ہوئے اُن دونوں کو   اِس  دنیا اور بعد کی دنیا میں وجاہت دی ۔
اب ماں کا یہ روپ اپنی اولاد کو دنیا میں ممتاز بنانے کے لئے ، ایک بہترین روپ ہے اُس بچے کے لئے جس کا باپ نہیں  اور ماں اُسے پالتی اور تربیت دیتی ہے ۔ وہ بچہ اپنی ماں کے "روپِ خیر " سے ملنے والی روشنی کے باعث ، دنیا کے کسی بھی کٹھن مرحلے پر، اپنے کردار  کی وجہ سے   ماں کے لئے شرمندگی کا سبب نہیں بنتا  ا۔
جوکردار اُسے شرمندگی میں مبتلاء کرتا ہے وہ معاشرے  سے لیا گیا "روپِ شر"  ہوتا ہے ۔ جس سے کوئی بھی انسان محفوظ نہیں-
سوائے اُن کے  جو شیطان سے دور رہ کر ، جو  اپنے اپنے ، رسولوں کی ہدایات کے مطابق اپنے بھگوان، خدا یا اللہ ، کےلئے  اپنی موجودہ  معاشرتی  زندگی کو بہتر بنانے کے لئے کوشاں ہیں ۔
انسانوں کو نہیں معلوم کہ کائینات میں موجود روح القدس (  The purest entity )کی جانب سے بھیجے جانے والے مقدّس پیغاموں سے اُس کی روح کو کتنا سکون ملتا ہے ۔ سکون نہ ملے تو انسان کسی دوسرے مقدّس پیغام کی تلاش میں نکل کھڑا ہوتا ہے ۔   یہی وجہ ہے کہ انسان ایک مذہب  میں رہ کر  دوسرے مذہب کی اچھی باتوں کو اپناتا جاتا ہے ۔

روح کا سکون ، کسی بھی انسان کے لئے ابتدائے حیات ہے ۔ اگر یہ ابتدائے حیات انتہائے حیات بن جائے تو وہ انسان اِس کائینات کی مقدّس روحوں میں شامل ہو جاتا ہے ۔ اور سب مذاہب کے مطابق اپنے " ہم خیال انسانوں"   کی طرف   روح القدس (  The purest entity )کی اجازت سے "مقدّس روح"  بن کر ہدایت کی روشنی دکھانے ضرور آتا ہے ! 
اِس فانی دنیا میں   "مقدّس روح"  کا اِس فانی دنیا میں آنے کا سلسلہ منقطع نہیں ہوا ۔  
یو ٹیوب پر یہ وڈیو دیکھیں  جو نیچے بھی دی ہوئی ہے : 

جس انسان کی بھی  "مقدّس روح"  سے ملاقات ہوتی ہے اور جو فرض سونپا جاتا ہے  وہ انسان اُس فرض کو ضرور پورا کرتا ہے ، لیکن اپنا اور   "مقدّس روح"    کا تعلق الاعلان ظاہر نہیں کرتا ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نوٹ:بحیثیت  مسلمان ، میری بالا تحریر ، کتاب اللہ اور الکتاب  کا فہم ہے ۔ جس سے آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔ لیکن ایک بار سوچئے ضرور ! شکریہ 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔